وزیراعظم سُوگا کا پارلیمان میں پہلا خطاب

0
159

ٹوکیو:___  جاپان کے وزیرِاعظم سُوگا یوشی ہیدے نے گزشتہ ماہ اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد پارلیمان سے پہلا پالیسی خطاب کیا ہے۔ خطاب کے ایجنڈے میں کورونا وائرس کی عالمگیر وباء سرِفہرست تھی۔وزیراعظم سُوگا نے کہا ’’جون کے اواخر میں مصدقہ متاثرین کی تعداد بڑھی، تاہم انفیکشن کے پھیلاؤ میں کمی شروع ہو گئی۔ اب کمی کا رجحان سُست ہو رہا ہے اور صورتحال اب بھی ناقابلِ پیشگوئی ہے۔ ہم انفیکشن کی روک تھام اور اس کے بے تحاشہ پھیلاؤ کو روکنے اور عوامی صحت اور زندگیوں کے تحفظ کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔ ہم سماجی اور اقتصادی سرگرمیاں بحال اور معیشت کا احیاء بھی کریں گے‘‘۔جناب سُوگا نے مزید کہا کہ حکومت معائنوں کی اہلیت کو بڑھانے کا منصوبہ رکھتی ہے تاکہ عالمی اقتصادی سرگرمیوں کو محفوظ انداز میں بحال کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ مقصد یہ ہے کہ آئندہ مہینے کے اختتام تک، خاص طور پر کاروباری اور تعلیمی شعبوں سے متعلقہ 20 ہزار لوگ ہر روز جاپان میں داخل ہو سکیں۔جناب سُوگا نے مزید کہا کہ اُن کی انتظامیہ ویکسین کی اتنی مقدار حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو آئندہ سال کی پہلی ششماہی تک ملک کے ہر شہری کو فراہم کی جا سکے۔حکمران اتحاد کو امید ہے کہ 5 دسمبر تک جاری رہنے والے رواں پارلیمانی اجلاس کے اختتام تک کورونا وائرس کی ویکسین کے حصول کے بارے میں قانون منظور کر لیا جائے گا۔جناب سُوگا نے ماحولیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے کہا کہ جاپان سنہ 2050 تک اپنے معاشرے کو کاربن سے پاک کرنے کا ہدف حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔جناب سُوگا نے آئندہ سال محفوظ اور خطرات سے پاک انداز میں ٹوکیو اولمپکس اور پیرالمپکس کی میزبانی کرنے کا اپنا عزم بھی دہرایا ہے۔اس کے بعد وزیراعظم بدھ کے روز سے جمعہ تک پارلیمان کے ایوان بالا اور ایوانِ زیریں دونوں میں سوال و جواب کے دورانیوں کا سامنا کریں گے۔امکان ہے کہ حزبِ اختلاف، کورونا وائرس کے علاوہ ممکنہ طور پر ملک کے اعلٰی ترین علمی ادارے، سائنس کونسل میں جناب سُوگا کی جانب سے چھ دانشوروں کو تعینات کرنے سے انکار کے بارے میں اختلافِ رائے پر بھی توجہ مرکوز کرے گی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here