اے فاتح شام زینب اونچا مقام تیرا“تحریر: سیدہ رضا”

0
429

اسلام علیکم قارئین
میں ہوں سیدہ رضا فرام دنیا انٹرنیشنل یو ایس اے

خداوند عالم نے تمام بنی نوع انسان کو ایک خاص ہدف اور مقصد زندگی کے لیے خلق کیا ہے-جب سے یہ دنیا وجود میں آئی ہے اور ا س کی جتنی بھی تاریخ ہم تک پہنچی ہے اس سے یہ واضح ہے کہ ہر قوم وملت اور ہر دین ومذہب اپنے اپنے رہنماؤں‘قائدین اور مذہب کے پیروکاروں کی یادگار مناتے ہیں یہی طریقہ کار اہل اسلام میں بھی رائج تھا اور اب بھی ہے اور خصوصاً محبان اہل بیت تو بالکل بھی اس سے متثنی نہیں ہیں
ہر قسم کے نامساعد حالات اور ہر قسم کی سختیوں ورکاوٹوں کے باوجود بھی کربلا کی عظیم تاریخ اور اس میں قربانی وشہادت کے عظیم مرتبوں پر فائز ہونے والی عظیم ہستیوں کی یاد کو تازہ کرنے میں پیش پیش رہے ہیں
حضرت امام حسینعلیہ السلام کی زندگی تمام نوع انسانی کیلئے اسوہ کامل ہے روز عاشور کتاب تاریخ کا ایک غم انگیز باب ہے-اس دن سیدالشہداء حضرت امام حسینعلیہ السلام کو ان کے بہتر انصاروں وعزیزوں کے ہمراہ شہید کر دیا گیا -حضرت امام حسینعلیہ السلام سے پہلے دنیا مال ودولت‘حکومت‘ تخت اور بادشاہی کو کامیابی اور ترقی کا ذریعہ سمجھتی تھی مگر حضرت امام حسینعلیہ السلام نے دنیا کو بتایا کہ کامیابی دولت‘امارت‘ بادشاہت‘خزانوں اور قوموں کی کثرت کا نام نہیں ہے بلکہ کامیابی اس انسان کو حاصل ہوتی ہے جو ایمان اور حق کی دولت سے مالا مال ہو اور اس کا شمار ایسے لوگوں میں ہو جو حق پر ڈٹے رہیں اور ایثار وقربانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے شہادت پائیں اور فاتح قرار پائیں
قارئین! مدینہ سے کربلا تک سالار کارواں امام حسین علیہ السلام ابن علی علیہ السلام تھے اور اب کربلا سے کوفہ وکوفہ سے شام تک سالار قافلہ وارث تطہیر‘ نواسی ء رسول ثانی زہرا بنت علی شہزادی زینب سلام اللہ علیہا تھیں
قارئین! تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ آج تک جتنے بھی معرکے ہوئے ہیں ان سب میں حق پرستوں کے مورچوں کی کمان مردوں نے کی ہے اور ہمیشہ یہی کوشش کی جاتی رہی کہ صنف نازک کو میدان جنگ سے دور رکھا جائے مگر دنیائے اسلام نے ہمیں بہت سی ایسی عظیم خواتین عطاء کی ہیں جو اپنی پاکیزگی‘حق شناسی اور عبادت گزاری میں بے مثال رہی ہیں
معرکہ کربلا ایک ایسا تاریخ ساز معرکہ تھا کہ جس نے تمام معرکوں کو ہیچ کر دیا اور ایک ایسی مثال قائم کی کہ جو روز قیامت تک مثل روشن آفتاب رہے گی اور شہزادی زینب وہ ”مجاہدہ لاثانی“ تھیں جنہوں نے اپنے بھائی حسین کے مشن کو پایہ ء تکمیل تک پہنچانے کے معرکے میں حصہ لے کر صنف نازک کا سرفخر سے بلند کر دیا جسے تاریخ

”فاتح شام“ کے نام سے یاد کرتی ہے
”اے فاتح شام زینب اونچا مقام تیرا“
شہزادی زینب سلام اللہ علیہا نے اپنی بہادری اور استقامت سے انسانیت کو اعلی درجہ تک پہنچایا اور عالم اسلام کیلئے نمونہ ء حیات بنیں اور کربلا میں تاریخ کے دھارے کو اپنے سرگرم وفعال کردار سے موڑ دیا-شہزادی زینب حضرت علی اور حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا جیسے عالی مرتبت والدین کی اعلی تربیت اور اپنی ذہنی صلاحیتوں کی بدولت فضائل وکمالات کے اعلی مرتبہ پر فائز ہوئیں شجاعت وبہادری‘ثابت قدمی اور بلند کردار کی حامل خاتون تھیں اور ظالم یزید کے سامنے سینہ سپر طاقت کا بے مثال نمونہ بنیں
قارئین کرام! یہی وجہ ہے کہ چودہ سوسال گزرنے کے بعد بھی متعصب اور فرقہ واریت کے علمبردار یزید اور یزیدی فوج کے مظالم پر پردہ نہ ڈال سکے اور اسلام‘کربلا اور اہل بیت کی سربلندی کے جھنڈے آج بھی بلند ہیں اور ہر سال دنیا بھر میں حسینیت ولبیک یا حسین کے فلک شگاف نعروں سے کربلا کی سرزمین گونج اٹھتی ہے
تاریخ عالم نے آپ کو”ثانی زہرا“ اور ”عقیلہ بنی ہاشم“ جیسے خطابات عطاء کئے-آپ کو ”کربلا کی شیردل خاتون“ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ معرکہ ء کربلا میں آپ سلام اللہ علیہا اپنے بھائی امام حسین کے پیش پیش رہیں
جب حضرت امام حسین علیہ السلام نے کربلا کا سفر اختیار کیا تو شہزادی زینب بھی بھائی کے ہمراہ تھیں اور آپ کی قربانی کا بڑا حصہ میدان کربلا میں نواسہ ء رسول امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے دور اہل بیت کی اسیری کوفہ وشام کے بازاروں میں اور درباروں میں خدا کے فیصلے پرہر طرح سے راضی بہ رضا رہنا اور اسلامی احکام کے سامنے سخت ترین حالات میں سرتسلیم خم کرنا تھا-حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے واقعہ کربلا میں اپنی بے مثال شرکت اور حق کی سربلندی کیلئے لڑی جانے والی سب سے عظیم جنگ اور جہاد وسرفروشی کے سب سے بڑے معرکے”معرکہ ء کربلا“ کو رہتی دنیا کے لیے روشن مثال بنا دیا
حضرت امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد شہزادی زینب سلام اللہ علیہا کی ذمہ داریوں کا آغاز ہوا-تاریخ بتاتی ہے کہ امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد آپ پر تین اہم ذمہ داریاں عائد ہوئی تھیں -سب سے پہلے تو امام سجاد علیہ اسلام کی تیمارداری‘دوسری ذمہ داری اہل بیت کی خواتین اور بچوں کی حفاظت اور تیسری ذمہ داری یہ کہ کربلا کے شہیدوں کے خون کا پیغام دنیا والوں تک پہنچائیں
قارئین!شہزادی زینب سلام اللہ علیہا نے حضرت علی کی شجاع دختر ہونے کا حق ادا کرتے ہوئے یزید کی ظاہری فتح کو شکست میں بدلتے ہوئے یہ ثابت کر دکھایا کہ عورت بھی تن تنہا سیاسی میدان میں اپنا کردار ادا کرتے ہوئے جہاد میں شریک ہو سکتی ہے-شہزادی زینب سلام اللہ علیہا نے اپنے بابا حضرت علی علیہ السلام کی آواز میں دربار ابن زیاد میں ابن زیاد کو للکارتے ہوئے منہ توڑ جواب دیا کہ ”خدا کا شکر ہے کہ اس نے اپنے رسول کے ذریعے ہمیں کامیابی وعزت اور شہادت کے مرتبوں پر فائز کیا“حضرت زینب کی بہادرانہ فصاحت وبلاغت اور لب ولہجہ کا دبدبہ وجلال دیکھ کر ہر کوئی حیران وپریشان تھا کہ کیا علی شیر خدا دوبارہ آگئے ہیں؟
تاریخ انسانی باپ اور بیٹی کے درمیان ایسی فکری ولسانی شباہت پیش کرنے سے قاصر ہےیزید کے درباروں اور کوفہ کے بازاروں میں خطبے فرمانا اور ستم گروں وظالموں کے سامنے سرتسلیم خم نہ کرنے کے واقعات سے عالم اسلام پر واضح ہو گیاکہ عورت تاریخ کے حاشیہ پر رہنے والا کردار نہیں ہے بلکہ تاریخ کے اہم اور یادگار واقعات کے مرکز میں ہےشہزادی زینب نے یہ ثابت کر دکھایا کہ عورت بھی بہادی واستقامت کا عملی نمونہ بن کر جہاد میں حصہ لے سکتی ہے-شہزادی زینب سلام اللہ علیہا تاریخ اسلام کا منہ بولتا ثبوت اور کردار ہیں جنہوں نے عورت کی عظمت وبہادری کا ثبوت دنیا کے سامنے پیش کیا اور عالم اسلام کیلئے نمونہ حیات بنیں
زینب اصول دین کی طرح بااصول تھی
نانا کے شہر میں تھی تو بالکل رسول تھی

بھائی کے ساتھ سارے سفر میں بتول تھی
دربار میں علی شیر خدا کا مجسم نزول تھی
بے تیغ لڑ کر عباس علمدار بن گئی
اور لہجے میں آج حیدر کرار بن گئی
زینب کہیں حسین اور کہیں پر حسن بنی
زینب کا ایک تن تھا مگر پنجتن بنی
شہزادی زینب نے اپنے بھائی امام حسینعلیہ السلام کی شہادت کے تقریباً ڈیڑھ سال بعد 15جب 62ہجری کو شہادت پائی-آپ کا روضہ ء اقدس شام کے دارالحکومت دمشق میں ہے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here