صحافی جمال خاشقجی کی منگیتر نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا

0
83

ترکی میں قتل کیے گئے سعودی صحافی جمال خاشقجی کی منگیتر خدیجے چنگیز نے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان پر جمال خاشقجی کے قتل کا حکم دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے مقدمہ دائر کیا ہے۔

منگل کے روز واشنگٹن ڈی سی میں دائر کیے گئے اس مقدمے میں ترک شہری خدیجے چنگیز نے جمال خاشقجی کی موت پر ذاتی چوٹ اور مالی نقصان کا دعویٰ کیا ہے۔تاہم سعودی ولی عہد نے جمال خاشقجی کے قتل کا حکم دینے کے الزامات کی تردید کی ہے۔واضح رہے کہ سعودی حکومت کے ناقد خاشقجی کو ترکی کے شہر استنبول میں سعودی قونصل خانے کے اندر 2018 میں قتل کیا گیا تھا۔مقدمے میں الزام لگایا گیا ہے کہ جمال خاشقجی کو ’محمد بن سلمان کی ہدایت کے مطابق‘ قتل کیا گیا تھا۔جمال خاشقجی دو ہزار سترہ میں خود ساختہ جلاوطنی اختیار کر کے امریکہ چلے گئے تھے۔ انھیں دو اکتوبر 2018 کو استنبول میں سعودی قونصل خانے میں قتل کیا گیا تھا جہاں وہ اپنی منگیتر کے ساتھ اپنی دوسری شادی سے پہلے ضروری کاغذی کارروائی کے لیے گئے تھے۔تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ جب خدیجے چنگیز سفارت خانے کے باہر انتظار کر رہی تھیں تو اندر جمال خاشقجی کا قتل کر کے ان کے جسم کے ٹکڑے کیے جا رہے تھے۔ خاشقجی کی باقیات کبھی نہیں ملیں۔سعودی حکام نے پہلے دعویٰ کیا تھا کہ وہ عمارت سے زندہ نکل گئے تھے اور ان کی گمشدگی کے بعد کئی بار یہ بیان بدلا۔جمال خاشقجی اپنی موت سے قبل واشنگٹن پوسٹ اخبار کے لیے لکھتے تھے اور امریکہ میں رہائش پذیر تھے۔دسمبر 2019 میں ایک عدالت نے پانچ نامعلوم افراد کو ریاض میں ایک خفیہ مقدمے کی سماعت کے بعد اس قتل میں ان کے کردار پر سزائے موت سنائی تھی۔جمال خاشقجی کیس پر کام کرنے والی اقوامِ متحدہ کی خصوصی نمائندہ ایگنس کیلامارڈ نے سعودی مقدمے کی سماعت کو ’انصاف کے منافی‘ قرار دیا اور آزادانہ تحقیقات کی اپیل کی تھی۔انھوں نے مطالبہ کیا تھا کہ اس قتل کے حوالے سے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے بھی تفتیش کی جائے۔اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق اتنے شواہد موجود ہیں کہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور اعلیٰ عہدوں پر فائز دیگر سعودی افسران کو ذمہ دار ٹھہرایا جا سکے۔سعودی ولی عہد نے اس واقعے سے مکمل طور پر لاتعلقی کا اظہار کیا تھا تاہم انھوں نے ایک بیان میں کہا تھا کہ سعودی عرب کے رہنما کی حیثیت سے وہ اس کی ’پوری ذمہ داری قبول‘ کرتے ہیں خاص طور پر اس لیے کیونکہ یہ جرم ایسے افراد سے مرتکب ہوا جو سعودی حکومت کے لیے کام کرتے تھے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here