الیکشن ہارگیا تو امریکا چھوڑ جاؤں گا”ٹرمپ

0
129

 میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ جو بائیڈن سے رائے عامہ کے سرویز اور صدارتی مہم کے لیے جمع کیے گئے فنڈز کے اعتبار سے پیچھے ہیں‘ بائیڈن 38 کروڑ ڈالر سے زائد رقم جمع کرچکے ہیں جبکہ ٹرمپ نے 24 کروڑ سے زائد رقم جمع کی
جو بائیڈن کو قومی ترجیح اور مرکزی ریاستوں کے سروے دونوں میں صدارتی دوڑ میں ریپبلکن امیدوار ٹرمپ کے مقابلے میں اہم اور مستحکم برتری حاصل ہے‘ریکارڈ فنڈ ریزنگ کی وجہ سے بھی ڈیموکریٹ پارٹی کو برتری حاصل
ٹرمپ نے ماضی میں بھی انتخابات بارے سوالات کھڑے کرتے رہے‘انتخابات ملتوی کرنے کی بھی تجویز دی تھی‘ جو بائیڈن سے ہار گیا تو ملک چھوڑ جاؤں گا‘میں جوبائیڈن کے خاندان کو جیل میں دیکھنا چاہتا ہوں‘حامیوں سے خطاب
جارجیا(مانیٹرنگ ڈیسک)امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاہے کہ اگر انتخاب میں جو بائیڈن سے ہار گیا تو ملک چھوڑ جاؤں گا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق جارجیا میں اپنے حامیوں سے خطاب میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ میرا مقابلہ امریکی صدارتی انتخاب کے بدترین امیدوار جو بائیڈن سے ہے۔مجھے اگر بائیڈن سے شکست ہوئی تو بالکل بھی اچھا نہیں لگے گا۔ میں شاید امریکا چھوڑ جاؤں گا۔اپنی تقریر میں صدر ٹرمپ نے اپنے مد مقابل ڈیموکریٹ امیدوار جو بائیڈن پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے پورے خاندان کو جیل میں دیکھنا چاہتا ہوں۔ابھی تک کی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ اپنے مقابل امیدوار بائیڈن سے رائے عامہ کے سرویز اور صدارتی مہم کے لیے جمع کیے گئے فنڈز کے اعتبار سے پیچھے ہیں۔ بائیڈن 38 کروڑ ڈالر سے زائد رقم جمع کرچکے ہیں جب کہ ٹرمپ کی مہم کے لیے گزشتہ ماہ تک 24 کروڑ سے زائد رقم جمع کیے ہوئے تھے۔اس حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ میں مزید رقم جمع کرسکتا ہوں۔ میں دنیا کا سب سے بڑا فنڈ ریزر بن سکتا ہوں لیکن میں ایسا نہیں کرنا چاہتا۔واضح رہے کہ امریکی صدر ماضی میں بھی انتخابات کے حوالے سے سوالات کھڑے کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے ابتدائی طور پر انتخابات ملتوی کرنے کی تجویز بھی تھی تاہم کورونا وائرس کے باعث امریکا میں ڈاک کے ذریعے ووٹ دینے کی اجازت پر انہوں نے مسلسل شکوک و شبہات کا اظہار کر رہے ہیں۔ حالیہ سروے میں سامنے آیا ہے کہ جو بائیڈن کو قومی ترجیح اور مرکزی ریاستوں کے سروے دونوں میں اس سال کی صدارتی دوڑ میں ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے مقابلے میں ایک اہم اور مستحکم برتری حاصل ہے۔ریکارڈ فنڈ ریزنگ کی وجہ سے بھی ڈیموکریٹ پارٹی کو مالی اعتبار سے برتری حاصل ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ بائیڈن اپنی مہم کے اختتامی ہفتوں میں اپنے پیغام میں اسے استعمال کر سکیں گے۔انتخابی تجزیوں میں یہ رائے بڑھتی جا رہی ہے کہ ٹرمپ بازی ہار جائیں گے۔نیٹ سلورز نے اپنے بلاگ میں لکھا ہے کہ اس وقت بائیڈن کا انتخاب جیتنے کا امکان 87 فیصد ہے جبکہDecision Desk HQنے ان کی کامیابی کا امکان 83.5 فیصد بتایا ہے۔چار سال پہلے ہیلری کلنٹن کی جیت کے بارے میں بھی پیشین گوئی کی گئی تھی۔ یہ ڈیموکریٹس کی تلخ یادوں کاحصہ ہے کہ وہ سب کیسے ختم ہو گیا۔کیا اب ٹرمپ کی ایک اور جیت کی صورت میں تاریخ خود کو دہرائے گی۔ اگر جنوری میں ایک بار پھر ٹرمپ صدر کے دفتر میں حلف اٹھاتے ہیں۔چار سال پہلے الیکشن سے فقط 11 دن پہلے، ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز کومی نے یہ انکشاف کیا تھا کہ ان کی ایجنسی ہیلری کلنٹن کے خلاف بطور وزیر خارجہ پرائیویٹ ای میل سرور کے استعمال کے حوالے سے تحقیقات کو دوبارہ کھول رہی ہے۔کئی ہفتوں تک یہ خبر اور اس سے متعلق سٹوریز شہ سرخیوں میں رہیں اور ٹرمپ کی صدارتی مہم کو جگہ ملی۔پھر بس دو ہی ہفتے پہلے ایسا ہی سیاسی زلزلہ شاید ٹرمپ کو کامیابی کی جانب لے جائے۔اب تک کم ازکم اس ماہ کے دوران ٹرمپ کے لیے بڑی بری خبر ان کا کورونا کی وجہ سے ہسپتال جانا اور اس سے پہلے ٹیکس ریٹرن کے متعلق انکشافات ہیں۔ایک پراسرار لیپ ٹاپ کے بارے میں نیو یارک پوسٹ کا مضمون جس میں ایک ای میل موجود ہے جو جو بائیڈن کو اپنے بیٹے ہنٹر کی یوکرائن کی گیس کمپنی کی لابی لانے کی کوششوں سے جوڑی جا سکتی ہے۔لیکن ٹرمپ نے وعدہ کیا ہے کہ ابھی اور بھی بہت کچھ آنے والا ہے۔ اگر یہ صرف ایک ابتدا ہے جو بائیڈن کی بطور نائب صدر غلط کاموں کے براہ راست ثبوت کی جانب تو اس سے بھی بڑی کہانی ہوسکتی ہے۔یا پھر شاید ایک اور بھی ہے مکمل طور پر غیر متوقع اور چونکا دینے والی پیش رفت جو بس ابھی سامنے آنے ہی والی ہے۔عملی طور پر دیکھا جائے تو جب سے بائیڈن نے ڈیموکریٹک پارٹی کی صدارتی نامزدگی حاصل کی ہے قومی رائے شماریوں میں انہیں ٹرمپ پر مستقل طور پر برتری دی جاتی رہی ہے۔جیسا کہ 2016 میں دیکھا گیا قومی برتری غیر متعلقہ ہیں اور ریاستی سطح کے ارایے شماری کے جائزوں میں اس سے صرف نظر بھی ہو سکتی ہے۔پیش گوئی کرنا کہ صدارتی انتخابی حلقہ کیا ہو گا۔ یہ کہ کون ووٹ ڈالے گا۔ یہ ہر انتخاب میں ایک چیلنج ہوتا ہے اور کچھ پیش گوئی کرنے والے تجزیہ نگاروں نے گذشتہ بار اسے غلط سمجھا۔ سفید فام نان کالج ایجوکیٹڈ ووٹر کی تعداد کم سمجھا جو ٹرمپ کے لیے ٹرن آؤٹ بنے۔اگرچہ نیو یارک ٹائمز نے پیش گوئی کی ہے کہ بائیڈن محفوظ رہیں گے لیکن رائے شماری کرنے والوں کی نظر میں 2020 میں کچھ نئی رکاوٹوں کو عبور کرنا ہو گا۔مثال کے طور پر بہت سے امریکی پہلی بار بذریعہ ڈاک ووٹ ڈالنے کا سوچ رہے ہیں۔ رپبلیکن پہلے ہی میل ان بیلٹ کو جارحانہ انداز میں چیلنج کرنے کا وعدہ کر رہے ہیں۔ تاکہ ان کے بقول ممکنہ طور پر بڑے پیمانے پر دھوکہ دہی کے امکان کو روکا جا سکے۔ڈیموکریٹس نے کچھ ایسا کہا ہے جو ووٹر دبانے کی واقعی ایک کوشش ہے۔اگر ووٹرز اپنے فارم کو غلط طریقے سے بھرتے ہیں یا مناسب طریقہ کار پر عمل نہیں کرتے ہیں۔ یا پھر ڈاک کی ترسیل میں تاخیر یا کوئی رکاوٹ ہوتی ہے تو نتیجتاً درست بیلٹ خارج ہو سکتے ہیں۔انتخاب کے روز ووٹ کے لیے کم پولنگ کے مقامات کے نتیجے میں ووٹ ڈالنا زیادہ مشکل ہو سکتا ہے اس سے ان امریکیوں کی حوصلہ شکنی ہو سکتی ہے جنھیں رائے شماری کرنے والے ممکنہ ووٹرز شمار کرتے ہیں۔اب دو ہفتوں سے زیادہ پہلے ٹرمپ اور بائیڈن کے مابین ہونے والے پہلے صدارتی مباحثے کی گرد بیٹھ چکی ہے اور صدر کو ہی اس میں زیادہ نقصان ہوا۔رائے شماری کے جائزوں سے پتہ چلتا ہے کہ کہ ٹرمپ کا جارحانہ اور مداخلت کرنے والا انداز اچھا نہیں۔ٹرمپ نے اپنے پہلے مباحثے کے تاثرات کو تبدیل کرنے کا موقع گنوا دیا جبکہ وہ دوسرے طے شدہ مباحثے سے دستبردار ہوگئے کیونکہ اسے بلامقابلہ کے بجائے اب ورچوئل فارمیٹ میں تبدیل کردیا گیا تھا۔اب آئندہ جمعرات کو ان کے پاس ایک اور موقع ہو گا۔اگر ٹرمپ پرسکون رہتے ہیں زیادہ صدارتی انداز اپناتے ہیں اور بائیڈن بے دلی میں آجاتے ہیں تو مقابلے کا توازن ممکنہ طور پر ٹرمپ کے حق میں جھک سکتا ہے۔یہاں تک کہ انتخاب میں بائیڈن کو فائدہ پہنچانے کے باوجود ایسی کافی ریاستیں موجود ہیں جہاں ٹرمپ آگے ہیں۔اگرچہ ٹرمپ پچھلی بار قومی مقبول ووٹ گنوا بیٹھے تھے ان کے لیے انتخابی کالج میں مارجن تھا جہاں ہر ریاستوں کو آبادی کی بنیاد پر متعدد ووٹ ملتے ہیں۔کچھ ریاستوں جہاں انھوں نے جیت حاصل کی مثال کے طور پر مشی گن اور وسکونسن اس بار وہ ان کی پہنچ سے باہر لگ رہی ہیں۔ لیکن اگر وہ دیگر میں کم فرق سے جیت سکتے ہیں تو پینسلوینیا اور فلوریڈا جیسی جگہوں پر سفید فام نان کالج ووٹروں کا انتخاب کرتے ہیں تو وہ وائٹ ہاؤس کو فتح حاصل کرنے کے لیے لازمی 270 الیکٹورل ووٹوں تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔یہ منظر نامہ بھی دیکھا گیا ہے کہ اگر ٹرمپ اور بائیڈن دونوں کو 269 ووٹ ملے تو کیا ہوگا۔ ایسے میں ایوان نمائندگان میں ہر ریاست کے وفود فیصلہ کریں گے اور ہو سکتا ہیشاید ان میں سے زیادہ تر ٹرمپ کے حامی ہوں۔اب تک جو بائیڈن نے بہت نظم و ضبط کے ساتھ الیکشن مہم چلائی ہے۔چاہے ایسا کورونا وائرس کی وجہ سے ہو یا پھر خود ایسا کیا گیا ہو جوبائیڈن سپاٹ لائٹ سے بہت حد تک دور رہے ہیں اور ایسی صورتحال سے بچے رہے ہیں جہاں ان کے منھ سے نکلے الفاظ انھیں کسی مشکل میں ڈال سکتے۔لیکن اب بائیڈن اب انتخابی مہم کے راستے کو پورے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ زیادہ سامنے آنے سے یا کچھ کہنے کرنے کی قیمت انھیں رائے شماری میں پڑے گی۔پھر یہ امکان بھی موجود ہے کہ انتخابی مہم کی تھکاوٹ کے باعث بائیڈن نے اپنی عمر ظاہر کریں۔ ایک بار پھر اس بارے میں تشویش پیدا کی کہ آیا وہ صدر بننے کی ذمہ داری لے سکتے ہیں یا نہیں۔بائیڈن مہم کو شاید یہ لگتا ہے کہ ابھی کچھ وقت بعد وہائٹ ہاؤس ان کا ہوگا لیکن اگر انھیں ٹھوکر لگی تو وہ پہلی سیاسی ٹیم نہیں ہوگی جس نے غیر متوقع شکست چھیننے کا کوئی راستہ تلاش کیا تھا جو کہ یقینی طور پر فتح معلوم ہو رہی تھی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here