امریکی عہدیدار کا شمالی کوریا کے ساتھ مذاکرات کیلئے امید کا اظہار

0
194

امریکہ کی قومی سلامتی کے مشیر رابرٹ اوبرائن نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ شمالی کوریا کے ساتھ جوہری ہتھیاروں کے خاتمے پر تعطل کے شکار مذاکرات میں آئندہ سال ٹوکیو اولمپکس اور پیرالمپکس کے انعقاد کے وقت کے لگ بھگ پیشرفت ہو گی۔اُنہوں نےیہ بات ایک آن لائن پروگرام میں جمعہ کے روز کہی ہے۔جناب اوبرائن نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ شمالی کوریا پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالتی رہے گی۔اس کے ساتھ ساتھ اُنہوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ 3 نومبر کے امریکی صدارتی انتخاب کے بعد شمالی کوریا کے یہ سمجھ جانے پر اُس کے ساتھ مذاکرات کا ایک موقع ہو گا کہ اب کوئی اور راستہ نہیں ہے۔جناب اوبرائن نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ شمالی کوریائی لوگ ٹوکیو اولمپکس میں شرکت میں دلچسپی رکھتے ہیں۔اُنہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ امریکہ اور شمالی کوریا ان کھیلوں سے قبل، دوران یا ان کے بعد مذاکرات منعقد کر سکیں گے۔جناب اوبرائن نے ایران کا بھی حوالہ دیا۔ اُنہوں نے عندیہ دیا کہ ٹرمپ انتظامیہ تہران پر دباؤ ڈالنا جاری رکھے گی۔اُنہوں نے کہا کہ ایران پر امریکہ کی اقتصادی پابندیوں کے اثرات بہت سنگین ہیں اور وہ نہیں سمجھتے کہ تہران طویل عرصے تک برداشت کر پائے گا۔اُن کا کہنا تھا ہو سکتا ہے ایران یہ اُمید کر رہا ہو کہ امریکہ ایک اور انتظامیہ کے تحت جوہری سمجھوتے پر واپس آجائے گا لیکن ایسا ہونے کا امکان غالباً نہیں ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here