“وہ شمع کیا بجھے جسے روشن خدا کرے”ٹرانسپیرنٹ ہینڈز کی کاوشیں (قسط 02) تحریر:سیدہ رضا

0
338

خصوصی اشاعت 
TRANSPARENT HANDS
وہ شمع کیا بجھے جسے روشن خدا کرے
ٹرانسپیرنٹ ہینڈز کی کاوشیں
تحریر:سیدہ رضا : دنیا انٹرنیشنل

اسلام علیکم قارئین
میں ہوں سیدہ رضا فرام دنیا انٹرنیشنل یو ایس اے

اور میں ہوں ہم وطنوں کی آواز جو بظاہر تو امریکہ میں رہائش پذیر مگر آج بھی ہر دم اور ہر لحظہ میرا دل اپنے وطن پاکستان کیلئے دھڑکتا ہے اور ہمہ وقت خدمت کرنے کو تیار بھی۔ کسی ضرورت مند کو خوشی دینا اور خوشی بانٹنا‘دنیا میں بہت بڑی خدمت انسانیت ہے۔میں‘ آپ اور ہم سب مل کر دنیا میں کسی ضرورت مند‘بے سہارا اور مستحق انسان کو تھوڑی سی خوشی اس کی ضرورت پوری کر کے دے سکتے ہیں‘ وہ کیسے؟
وزٹ کیجئے www.transparentshands.org
قارئین! ہمارے درمیان چند ایسی بھی شخصیات موجود ہیں جو وطن پاکستان میں رہیں یا پھر وطن سے دور مگر ان کے لہو میں دکھی انسانیت کی خدمت کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے اور ان کی سوچوں میں ہر وقت اپنے وطن پاکستان کے پسماندہ ومحتاج لوگوں کی خدمت کرنا ہوتا ہے‘ان میں ایک روشن نام انسانیت کی خدمت کی علمبردار”رمیزہ معین“صاحبہ کا بھی ہے‘ جنہوں نے 2014ء میں ٹرانسپیرنٹ ہینڈز کے نام سے پاکستان وامریکہ میں اس کی بنیاد رکھی جو نہ صرف پاکستان بلکہ امریکہ میں بھی رجسٹرڈ ہے میرا مقصد لوگوں کی تکلیف کو کم کرنا ہے

رمیزہ معین تمغہ ء امتیاز یافتہ سی ای او اینڈ فاؤنڈر

رمیزہ معین صاحبہ ویمن چیمبر آف کامرس‘پاکستان سوفٹ ویئر ہاؤس ایسوسی ایشن اور سوشل میڈیا ایمپاورمنٹ ایوارڈ (جو دہلی میں ساؤتھ ایشیئن ممالک کے درمیان ہوا تھا)کے علاوہ جنوری 2020ء میں سی ایس آر ایوارڈ کی بھی حقدار ٹھہرائی گئی جو ان کی انسانیت کی اعلی خدمات کے اعتراف میں دیا گیا ہے۔

قارئین!واضح کرتی چلوں کہ ٹرانسپیرنٹ ہینڈز ایک نان پرافٹ ادارہ ہے جو پاکستان میں غریب ومستحق افراد کی مفت سرجریز پروسیجرز اور ٹریٹ منٹس کروانے میں شب وروز مصروف عمل ہے‘ میڈیکل کیمپس کے علاوہ اب ٹیلی ہیلتھ پراجیکٹ کا قیام خوش آئند عمل ہے۔حال ہی میں کورونا وائرس کے حوالے سے پاکستان کے مختلف ہسپتالوں میں

COVID 19 PPE EQUIPMENTS

کی فراہمی میں بھی مصروف عمل ہے۔
قارئین! 18ستمبر2020ء کے دنیا انٹرنیشنل کی اشاعت میں آپ ہمارے خصوصی ایڈیشن میں 7سالہ معصوم بچی حسینہ بتول کی کارڈیک سرجری کے متعلق تفصیل سے پڑھ چکے ہیں۔ یوں تو ٹرانسپیرنٹ ہینڈز کی جانب سے پاکستان کے 26ہزار سے زائد افراد کی مفت سرجریز‘پروسیجرز اور ٹریٹ منٹس ہو چکے ہیں مگر آج میں آپ سے پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے علاقہ بونیر میں مقیم ایک 76سالہ بزرگ رفیق شاہ صاحب جن کی اس سال جولائی 2020ء میں نیوروسرجری کی گئی تھی اس کی تفصیلات شیئر کرنے جا رہی ہوں۔
قارئین کرام! فاصلے انسان کو بظاہر دور ضرور کر دیتے ہیں مگر قلم میں وہ طاقت ہے جو اثر رکھتے ہوئے دنیا میں بکھرے تمام لوگوں کو یکجا کر سکتی ہے۔ پٹسبرگ امریکہ سے پاکستان خیبر پختونخواہ  بونیر مریض ولاہور میں نیورو سرجن ڈاکٹر ابرار خان سے ہماری ٹیلی فونک گفتگو ہوئی سرجری کے بارے میں آئیے پڑھتے ہیں۔


رفیق شاہ مریض

76سالہ رفیق شاہ کا تعلق پاکستان کے صوبہ خیبرپختونحوا کے علاقہ بونیر سے ہے جو ایک سال سے بیمار تھے۔ان کا کہنا تھا کہ میرے ہاتھ پاؤں بالکل کام کرنا چھوڑ چکے تھے حتی کہ پانی کا گلاس یا چائے کا کپ بھی میں نہیں پکڑ سکتا تھا۔ہمارے علاقے کے سرکاری ہسپتال میں چیک اپ کروایا تو وہاں کے ڈاکٹر نے آپریشن کا بتایاجس پر خرچہ 7لاکھ روپے کا تھا میں مزدور آدمی ہوں میرا بیٹا کارپینٹر ہے ہم یہ خرچہ کہاں برداشت کرسکتے تھے پھر وہاں ایک فرشتہ صفت ڈاکٹر نے ہماری رہنمائی کی اور ٹرانسپیرنٹ ہینڈز ادارہ کے بارے میں بتایاکہ آپ لاہور میں ان سے رابطہ کریں وہ علاج کروانے میں آپ کی مدد کر سکتے ہیں۔ ہمارے پاس لاہور جانے کا کرایہ بھی نہ تھا مگر کسی نہ کسی طرح انتظام کر کے ہم لاہور ٹرانسپیرنٹ ہینڈز کے پاس گئے اور رپورٹس دیں پھر انہوں نے آپریشن کروانے میں مدد دی‘دوائیں مفت دیں چار پانچ دن ہسپتال میں رہا سرجری مفت ہوئی بہترین ڈاکٹر وہسپتال تھا۔آپریشن کے بعد اب میں چل پھر سکتا ہوں میرے ہاتھ پاؤں کام کررہے ہیں۔ رفیق شاہ کا کہنا تھا کہ وہ اب واک کرنے جاتے ہیں تین چار چکر لگاتے ہیں۔میری دوسری سرجری بھی ہے میں ڈاکٹر کو بہت دعائیں دیتا ہوں۔میں ادارے کے مالک کو نہیں جانتا اور کبھی ملا بھی نہیں مگر میرے ہاتھ ہر نماز میں ادارے کے مالک اور ڈاکٹروں کیلئے بلند ہوتے ہیں میں اپنے لیے دعا بھی میں اور ان لوگوں کیلئے پہلے مانگتا ہوں اور مرتے دم تک شکر گزاررہوں گا۔پہلے شکر اللہ کا اور پھر ادارے وڈاکٹروں کا جس نے فرشتے بھیجے لوگوں کی صورت میں اور میری سرجری کروائی۔مریض سے گفتگو کر کے مجھے ایسا لگا کہ جیسے اسے ایک نئی زندگی کسی وسیلے سے عطا ہوئی ہو۔میں آپ کا اور اخبار کا بھی بہت شکرگزار ہوں گا جو میری آواز لوگوں تک پہنچاؤ گی۔رفیق شاہ نے ادارے کی مالک‘ڈاکٹر صاحبان اور ہمیں وہمارے اخبار کو جھولی بھر بھر دعائیں دیتے ہوئے ہمیں خدا حافظ کہا۔


ڈاکٹر ابرار خان: نیورو سرجن
میو ہسپتال لاہور‘ حمید لطیف ہسپتال ولاہور کیئر ہسپتال
اسلام علیکم ڈاکٹر ابرار خان
ٹرانسپیرنٹ ہینڈز ادارہ پاکستان میں غریب ومستحق افراد کی طبی خدمات برطریق احسن انجام دے رہا ہے جس کو دنیا بھر میں سراہا جارہا ہے۔ ٹرانسپیرنٹ ہینڈز کے تعاون سے لاہور کیئر ہسپتال میں اس سال جولائی 2020ء میں ایک بزرگ مریض 76سالہ رفیق شاہ جن کی نیورو سرجری کی گئی بالکل فری آف کاسٹ۔ماشاء اللہ اب وہ روبصحت ہیں کچھ اس سرجری ومریض کی بیماری کی نوعیت ہمارے قارئین کی معلومات کیلئے بتائیے۔

ڈاکٹر ابرار خان نیورو سرجن
وعلیکم سلام
پہلے تو آپ کا اور دنیا انٹرنیشنل کا بے حد شکریہ جو ایک نیکی کے کام کرنے والے ادارے اور اس میں شریک وتعاون کرنے والے تمام افراد کو دنیا میں پھیلے ہم وطنوں تک آواز بلند کرنے میں ساتھ دے رہے ہیں۔
اب میں آپ سے مریض رفیق شاہ کے متعلق بنانا چاہوں گا کہ انہوں نے صوبہ خیبر پختونحوا کے علاقہ بونیر میں لوکل ہسپتال کو وزٹ کیا تو وہاں پر میڈیکل چیک اپ ورپورٹس میں اس کو

NEUROGENIC CLAUDICATION MUMBNESS

تشخیص کے بعد سرجری کو کہا گیا جو ان کے لئے ناقابل برداشت خرچہ تھا۔ جب مریض نے ٹرانسپیرنٹ ہینڈز کو اپروچ کیا تو ان کے ڈاکٹر نے چیک اپ کے بعد مریض کی تمام ہسٹری اور ٹیسٹ رپورٹس مجھے بھیج دیں کہ آیا یہ نیورو سرجری کیس ہے؟
تمام رپورٹس چیک کرنے کے بعد مجھے کنفرم تھا کہ یہ نیورو سرجری ہی کیس ہے۔
میں نے مریض کو لاہور کیئر ہسپتال میں ٹائم دیا کہ مجھے وزٹ کیجئے۔
وہاں میں نے مکمل معائنہ کیا اور تمام چیک اپ ورپورٹس کے بعد کنفرم ہو گیا کہ
HE WAS SUFFERING FROM
MUMBNESS NEUROGENIC CLAUDICATION
+CERVICAL STENOSIS
مریض کی دونوں ٹانگیں وبازو بہت کمزور پائے گئے‘وہ سہارے کی مدد سے آئے تھے اور حتی کہ میں نے اپنی انگلی ان کے ہاتھ میں دیناچاہی تو وہ بھی نہ پکڑ پائے۔

ان کی

UPPER LIMS WEAKNESS

اور ٹانگوں کی

WEAKNESS

کے جو

SIGNS

ملے اس میں معلوم ہوا کہ یہ

CURVICAL ISSUE

ہے‘گردن کے مہروں میں کہیں پر دباؤ آیا ہوا تھا یہ دیکھتے ہوئے ہم نے ٹرانسپیرنٹ ہینڈز کو اپروچ کیا کہ ان کو ارجنٹ سرجری کیضرورت ہے اور اگر ان کی سرجری نہ ہوئی تو یہ ہمیشہ کیلئے پیرالائز ہو سکتے ہیں۔ٹرانسپیرنٹ ہینڈز کے تعاون سے لاہور کیئر ہسپتال میں ہم نے ان کی سرجری کی‘ تھوڑی ایفرٹ ہماری تھی اور زیادہ شفاء اللہ پاک نے دی یہ سرجری ہمارے لیے بہت بڑی کامیابی تھی۔ رفیق شاہ کی پاور بنانے سے پہلے کہوں گا کہ دیکھیں کچھ پاور گریڈز ہوتی ہیں جیسے میری اور آپ کی نارمل پاور گریڈز 5پر ہیں رفیق شاہ کی 2/5 تھیں 1/5ایسے ہوتے ہیں جو بیڈ سے صرف ہاتھ اٹھا سکتے ہیں مگر کچھ پکڑ نہیں پا سکتے۔
سرجری کے بعد ماشاء اللہ رفیق شاہ از ناؤ 5/5 یہ کامیابی ہمیں سرجری میں ملی صرف ٹرانسپیرنٹ ہینڈز کے مکمل تعاون کی وجہ سے اور ان کی ٹیم کے تمام ارکان نے آخری وقت تک ہمارا ساتھ دیا مریض کی مکمل شفایابی تک۔ اب ان کی بیک سپائن کی دوسری سرجری کیلئے ہم نے ان کو چھ ماہ ہیل اپ ہونے کے بعد کا ٹائم دے رکھا ہے۔سیدہ رضا: ڈاکٹر ابرار ہم اپنے اطراف میں بہت سے لوگوں کو گردن میں کالر لگائے ہوئے دیکھتے ہیں گردن کے مہروں میں دباؤ کی وجہ کیا ہے؟ڈاکٹر ابر ار خان: اس کی وجہ ہیوی لوڈ‘ جیسے مزدور طبقہ جو سرپر بوجھ اٹھا کر کام کرتے ہیں‘چوٹ لگنے کی وجہ سے‘ مسلسل ایک پوسچر میں لیٹے رہنے کی وجہ سے‘آفس ورک کرنے والے لوگ جو مستقل ایک ہی پوسچرمیں بیٹھتے ہیں یا جن کا چیئرورک بہت ہوتا ہے اس میں

SPINE

ایک خاص پوزیشن اختیار کر لیتی ہے پھر ہماری ڈائٹ اور جنک فوڈز وغیرہ بھی ہماری ہڈیوں کو کمزور کر دیتی ہیں یا پھر ہڈیوں کی چھوٹی چھوٹی گروتھ نکال دیتی ہیں جن کو ہم آسٹیریوفائڈز بولتے ہیں۔
یہ آپ کی

NERVES

کو

COMPRESSION

کردیتے ہیں یہ

NERVES

بجلی کی تار کی طرح کام کرتی ہیں جو حرام مغز سے نکل کر ہر طرف جاتی ہیں‘ آپ کی انگلیاں‘ پاؤں حتی کہ آپ کے دماغ پر کنٹرول بھی اس کی وجہ سے ہے۔
اس میں سب سے پہلے درد ہوتا ہے اور پھر نم نیس یعنی سن ہو جانا ہے۔

سیدہ رضا: آپ کو رفیق شاہ کی نیورو سرجری کرتے ہوئے کتنا وقت لگا؟
ڈاکٹر ابرار خان: تقریبا تین سے چار گھنٹے اور یہ پانچ دن ہسپتال میں زیر علاج رہے جس کا تمام خرچہ ٹرانسپیرنٹ ہینڈز کا تعاونتھا۔

سیدہ رضا: ڈاکٹر ابرار اس وقت پاکستان میں انداز کتنے نیوروسرجن کام کررہے ہیں؟
ڈاکٹر ابرار خان: تقریبا 800سے 900 نیوروسرجن ہیں جو کہ بہت ہی کم تعداد ہے آبادی کے لحاظ سے ہر دس سے 15لاکھ افراد کیلئے ایک نیوروسرجن بنتا ہے۔

سیدہ رضا: ڈاکٹر ابرار جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ میں امریکہ میں رہتے ہوئے اپنے صحافتی فرائض انجام دے رہی ہوں تو آپ میرے اور دنیا انٹرنیشنل کے توسط سے پاکستانی کمیونٹی کو کوئی پیغام دینا چاہیں گے؟

ڈاکٹر ابرار خان: جی بالکل دینا چاہوں گا کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ جو کام ہمیں کرنے میں دس سال لگیں گے وہ آپ دس دن میں کر کے دنیا بھر میں پاکستانی کمیونٹی کی معلومات میں اضافہ کر رہی ہو جو انسانیت کی بھلائی وخدمت کی مثال ہے۔
میرا پاکستانی کمیونٹی کو یہ خاص پیغام ہے کہ کے پی کے اور بلوچستان میں پاورٹی رشو بہت زیادہ ہے مریض بہت زیادہ ہیں وہ اس وجہ سے کہ وہ ایفورڈ نہیں کر پاتے کہ علاج وسرجری کروائیں‘ اس لیے ان صوبوں سے مریض زیادہ آتے ہیں۔ٹرانسپیرنٹ ہینڈز کے تعاون سے علاج کروانے کیونکہ لاہور میں ہمارے پاس ہسپتال زیادہ ہیں پرائیویٹ اور گورنمنٹ سیکٹر دونوں میں۔ بلوچستان وکے پی کے میں تعداد واس لیول کے نہیں ہیں یا پھر کراچی اور اسلام آباد میں ہیں لیکن مریضوں کی اپروچ وہاں پر نہیں ہے تو اوورسیز کمیونٹی کو میرا پیغام ہے کہ آپ کو اگر اللہ تعالی نے بہت نواز رکھا ہے‘ صاحب استطاعت ہیں تو آگے بڑھتے ہوئے ٹرانسپیرنٹ ہینڈز کا ساتھ دیجئے اور ان کی ٹرانسپیرنسی کو دیکھئے کہ ان کا پیسہ کہاں اور کیسے لگ رہا ہے؟یہ تمام تفصیلات آپ کو ان کی ویب سائٹ پر ملے گی وہاں ہر طرح سے معلومات موجود ہیں مریض کی انفارمیشن‘ڈاکٹر کا ڈیٹا‘ ہاسپٹل کی فائلز وبلز وغیرہ۔
T.H کے ساتھ تعاون کیجئے جتنا زیادہ ڈونیٹ کریں گے اتنا فائدہ غریب پاکستانیوں کو ہو گا اور آپ کو اس کا ثواب ملے گا اس جہاں میں بھی اور آخرت میں بھی۔


قارئین!اپنے خصوصی ایڈیشن کا اختتام قول امام حسین علیہ السلام پر کررہی ہوں کہ
تمہاری عمر مسلسل گھٹتی جارہی ہے پس جو کچھ تمہارے ہاتھ میں ہے اس سے کسی کی مدد کرتے جاؤ
یقینا اللہ نیک امو رکوانجام دینے کیلئے ہمیشہ اپنے نیک بندوں کو ہی چنتا ہے اور ہو سکتا ہے کہ وہ خوش قسمت نیک انسان آپ ہی ہوں جو کسی کا سہارا بنتے ہوئے اور مدد کرتے ہوئے اس کی اندھیروں کی جانب بڑھتی زندگی میں اجالا کا سبب بن جائیں۔میری‘ آپ کی اور ہم سب کی تھوڑی سی توجہ اور سخاوت وطن عزیز میں رہ جانے والے لوگوں کی زندگی میں رنگ بکھیر سکتی ہے۔
آگے بڑھئے اور میرے ساتھ مل کر رمیزہ معین وٹرانسپیرنٹ ہینڈز کا ساتھ دیجئے۔

WWW.TransparentHands.org
3100 Clarendon Blvd Suite 200 Arlington VA22201
Contact: +1(703)270-8387
اپنی فیڈ بیک ہماری ای میل پر دیجئے۔

razasyeda5@gmail.com

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here