مہنگائی روکنے کیلئے ایک اور اجلاس ، قیمتوں میں کمی کیلئے ہر ممکنہ اقدام کیا جائے: وزیراعظم ، وفاقی کابینہ میں بھی وزرا کی تشویش ، ایک دوسرے پر تنقید

0
202

صورتحال خود مانیٹر کر رہا ہوں، اب پوری توجہ مہنگائی کنٹرول کرنے پر ہوگی،دیکھتے ہیں مافیا کیا کرتا ہے ؟عمران خان، سابق صدور ، وزرائے اعظم پر اخراجات اور مراعات کا جائزہ لینے کی ہدایت مہنگی بجلی ،گیس کے ذمہ دار عمر ایوب ، ندیم بابر ہیں،مراد سعید، نومبر، دسمبر میں آٹا مزید مہنگا ہو سکتا ،شیخ رشید،اپوزیشن کے جلسوں سے فرق نہیں پڑیگا،شبلی، پی آئی اے بورڈ ممبران کی منظوری

اسلام آباد:___وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کو روکنے اور گندم ، چینی کی دستیابی کے حوالے سے اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا، وزیر اعظم نے اشیا کی قیمتوں میں کمی اور ان کی مارکیٹ میں دستیابی یقینی بنانے کی یقین دہانی کرائی اور کہا قیمتوں میں کمی کیلئے ہر ممکنہ اقدام کیا جائے ، اس سے قبل وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بھی وزیراعظم نے وزرا کو مہنگائی میں کمی کیلئے ہنگامی اقدامات کی ہدایت کی، مہنگائی روکنے کیلئے اجلاس میں وفاقی وزرا شاہ محمود قریشی، شبلی فراز، خسرو بختیار، حماد اظہر، فخر امام، علی امین گنڈا پور،مشیر ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، عبدالرزاق داؤد، ڈاکٹر عشرت حسین، معاونین خصوصی ڈاکٹر شہباز گل، عثمان ڈار، وقار مسعود، گورنر سٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر اور سینئر حکومتی اہلکار شریک ہوئے ، وزیر خوراک پنجاب عبدالعلیم خان، وزیر صنعت میاں اسلم اقبال اور چیف سیکرٹری صاحبا ن نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی ، اجلاس کے پہلے حصے میں گندم کی دستیابی پر غور ہوا، مختلف صوبوں میں گندم اور آٹے کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے اور مستقبل کی ضروریات کو پورا کرنے کے حوالے سے سرکاری اور نجی سطح درآمد کی جانے والی گندم کے ملک میں پہنچنے کا شیڈول پیش کیا گیا، اجلاس میں ٹائیگر فورس اور آزاد ذرائع سے مختلف حصوں میں گندم اور آٹے کی قیمتوں کے حوالے سے رپورٹ پیش کی گئی، اجلاس کو بتایا گیا حکومت سندھ کی جانب سے سولہ اکتوبر تک گندم کی ریلیز شروع کر دی جائے گی، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا حکومت پنجاب کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر ریلیز کی جانے والی گندم میں مزید اضافہ کیا جائے گا تاکہ وافر سپلائی میسر آئے ۔ اجلاس کے دوسرے حصے میں چینی کی دستیابی اور درآمد کی جانے والی چینی اور اس کی قیمتوں کے حوالے سے بریفنگ دی گئی ،اجلاس کو بتایا گیا درآمد شدہ چینی موجودہ قیمت کے مقابلے میں کم نرخوں پر عوام کو میسر آئے گی، پنجاب میں 10نومبر سے کرشنگ سیزن کا آغاز کر دیا جائے گا، موجود سٹاک، درآمد کی جانے والی چینی اور کرشنگ کے جلد شروع ہونے سے ناصرف چینی کی وافر فراہمی میسر آئے گی بلکہ اس کے قیمتوں میں کمی آئے گی، وزیرِ اعظم نے خطاب کرتے ہوئے کہا بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی لانے کے لئے ہر ممکنہ انتظامی اقدام اٹھایا جائے ۔ انہوں نے کہا ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف سخت ایکشن یقینی بنایا جائے ، وزیر اعظم نے قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لئے تجویز کردہ انتظامی اقدامات کی منظوری دی۔دوسری طرف وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بڑھتی ہوئی مہنگائی پر گرما گرمی ہوئی ، وفاقی وزرا نے ایک دوسرے کو تنقید کا نشانہ بنایا،اجلاس میں وزرا کا ایک ہی پرزور مطالبہ رہا کہ مہنگائی کو پوری قوت سے قابو کیا جائے اور اس کیلئے تمام وسائل استعمال کیے جائیں، وزیراعظم نے وزرا کو مہنگائی میں کمی کیلئے ہنگامی اقدامات کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ حکومت جلد ایکشن پلان پر عملدرآمد شروع کرے گی، عام آدمی کو ریلیف دینے کیلئے تمام سرکاری مشینری متحرک کریں گے ،صورتحال خود مانیٹر کر رہا ہوں، اب پوری توجہ مہنگائی کنٹرول کرنے پر ہوگی،دیکھتے ہیں اب مافیا کیا کرتا ہے ؟وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وفاقی وزیر مراد سعید، شیخ رشید، فیصل واوڈا اور دیگر وزرا نے مہنگائی کا معاملہ اٹھایا، ذرائع کے مطابق کابینہ اجلاس میں وزرا کی نوک جھوک کی روایت برقرار رہی ، کابینہ ارکان نے وزیراعظم سے بڑھتی مہنگائی پر ہنگامی اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا صوبائی حکومتوں اور ضلعی انتظامیہ کو اشیا کی دستیابی یقینی بنانا ہوگی،ذرائع کے مطابق اجلاس میں بجلی گیس اور ادویات کی بڑھتی قیمتوں پر بھی بحث ہوئی، وفاقی وزیر مراد سعید نے ندیم بابر اور عمر ایوب پر کھل کر تنقید کی اور کہا کہ یہاں فیصلے ہوتے ہیں عوام کو بجلی اور گیس کی قیمتوں میں ریلیف فراہم کیا جائے گا لیکن حقیقت میں ایسا کچھ بھی ہوتا نظر نہیں آرہا، بجلی گیس میں ریلیف نہیں ملتا، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کے ذمہ دار آپ لوگ ہیں، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے کابینہ ارکان کو ادویات پر بریفنگ دی تو شیخ رشید نے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا بتایا جائے ادویات کیوں مہنگی ہوئیں؟ادویات مہنگی ہونے کی وجہ سے لوگوں کی باتیں سننا پڑتی ہیں، اس پر معاون خصوصی فیصل سلطان کا کہنا تھا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی سے معاملات بہتر کرنے کا کہہ دیا ہے ، اجلاس کے دوران شیخ رشید نے کابینہ کو خدشے سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ نومبر، دسمبر میں آٹا مزید مہنگا ہو سکتا ہے ،وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی میڈیا ٹیم مضبوط بنائیں،وزیر اعظم عمران خان نے کہا مہنگائی پرقابو پا کر ہی دم لیں گے ، اس وقت سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے ، وفاقی وزرا نے مہنگائی میں کمی کے لئے تجاویز بھی پیش کیں ، وزیراعظم نے مہنگائی میں کمی کیلئے ہنگامی اقدامات کی یقین دہانی کرائی، ذرائع کے مطابق اجلاس میں کہا گیا اگر مہنگائی کو نہ روکا گیا تو اس سے حکومت کو نقصان ہو گا اور اپوزیشن جو احتجاج کی طرف جارہی ہے اس ایشو کو استعمال کر کے حکومت کے خلاف فائدہ اٹھا سکتی ہے ، وزرا کی رائے تھی اس صورتحال کوسمجھنے کی ضرورت ہے کہ آخر حکومت مہنگائی کو روکنے میں ناکام کیوں ہے ،ان کا کہنا تھا بعض عناصرجان بوجھ کر حکومت کو ایسی سمت لے جا رہے ہیں جہاں سے اس کی مقبولیت کو کم کیا جا سکے اور اپوزیشن کے احتجاج کو تقویت دی جا سکے ،ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے یہ بھی ہدایت کی اپوزیشن کے جلسوں میں اداروں کیخلاف بیانیہ کا بھرپور جواب دیا جائے ،انہوں نے کہا اپوزیشن کو زیادہ اہمیت دیتے ہوئے ٹارگٹ نہ کیا جائے بلکہ اسے نظرانداز کرکے اس کی اہمیت کو کم کیا جائے ۔ وزیر اعظم عمران خان نے شیخ رشید کی کارکردگی کو سب سے بہتر قرار دیا۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے بتایاوفاقی کابینہ نے سابق صدور اور وزرائے اعظم پر اٹھنے والے اخراجات اور مراعات کا جائزہ لینے کی ہدایت دی ہے ، کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ متعلقہ قوانین میں ترمیم کے نتیجے میں صدر اور وزیر اعظم کو صرف ایک کیمپ آفس رکھنے کی اجازت ہوگی، وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ کیمپ آفس پر اٹھنے والے اخراجات کی بھی حد مقرر کی جائے تاکہ عوام کے پیسے کی ایک ایک پائی کا صحیح استعمال یقینی بنایا جا سکے اور سرکاری خزانے سے صرف اتنے ہی اخراجات ہوں جتنا کار سرکار چلانے کے حوالے سے ضرورت ہے ۔وفاقی کابینہ نے نئے گیس ٹرمینلز کے قیام اور ترسیل کے لئے نئی پائپ لائن بچھانے کے لئے رائٹ آف وے کا مسئلہ حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ کابینہ کو بتایا گیا گیس ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے ٹرمینلز کے قیام پر کام جاری ہے تاہم گیس کی ترسیل کے لئے نئی پائپ لائن بچھانے کے حوالے سے 17کلومیٹر کی لمبائی پر رائٹ آف وے کے ایشو پر حکومت سندھ سے درخواست کی گئی ہے ۔ کابینہ نے زور دیا اس مسئلے کو جلد از جلد حل کیا جائے تاکہ گیس کی ضروریات پوری کرنے کے حوالے سے ضروری اقدامات کو یقینی بنایا جا سکے ۔ انہوں نے کہا کابینہ نے موٹروے سانحے کے مرکزی ملزم کی گرفتاری پر حکومت پنجاب اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کو سراہا۔ کابینہ نے اس امر پر زور دیا کہ ریپ جیسے ہولناک جرائم کی موثر روک تھام کے حوالے سے قانون سازی کو مزید موثر بنایا جائے ۔کابینہ کو ای آفس اور ای گورننس کے معاملے میں پیش رفت پر بریفنگ دی گئی۔ کابینہ کو بتایا گیا رواں سال دسمبر تک تمام وزارتوں کو ای آفس پر منتقل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ شہریوں کو ان کے گھروں کی دہلیز پرحکومتی خدمات کی رسائی یقینی بنانے کے لئے ماڈل کے طور پر وفاقی دارالحکومت میں سٹی ایپ متعارف کرائی گئی ہے ۔ اس ایپ کے تحت شہریوں کو 43سروسز موبائل فون پر فراہم کی جا رہی ہیں۔کابینہ نے این آئی ٹی بی کو مزید مستحکم کرنے کے حوالے سے تجاویز اقتصادی رابطہ کمیٹی کو بھجوانے کی ہدایت کی۔ کابینہ نے اس امر کا اعادہ کیا قانون کا اطلاق سب کے لئے برابر ہے اور گرین ایریاز پر کسی قسم کی تجاوزات کی اجازت نہیں دی جائے گی۔انہوں نے کہا کابینہ نے پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز کارپوریشن لمیٹڈ کے بورڈ ممبران کی تعیناتی کی منظوری دی۔ کابینہ کو روزویلٹ ہوٹل کے مالی معاملات پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ کابینہ کو بتایا گیا روز ویلٹ ہوٹل مسلسل مالی خسارے میں جا رہا تھا اگر حکومت کی جانب سے بروقت فیصلے نہ لیے جاتے تو پاکستان اپنے اثاثے سے محروم ہو جاتا۔کابینہ کو بتایا گیا وفاقی حکومت نے سو ملین ڈالر سے زائد قرض کی ادائیگی کے بعد نیویارک میں قومی ائیر لائن کے ہوٹل روز ویلٹ کی مکمل ملکیت حاصل کر لی ۔ کابینہ نے ایکسپورٹ امپورٹ بینک آف پاکستان ایکٹ 2020 کی اصولی منظوری بھی دی ۔کابینہ نے یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کے بورڈ آف ڈائریکٹر ز میں ڈائریکٹر جنرل (نیشنل سوشو اکنامک رجسٹری)بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی شمولیت کی منظوری دی۔ اس کے ساتھ ساتھ ظہیر بیگ جو بطور آزاد ممبرتعینات تھے انکا استعفیٰ منظور کرنے کی بھی منظوری دی گئی ۔ کابینہ کو بتایا گیا موجودہ دنوں میں یوٹیلیٹی سٹورز کی سیل میں سات فیصد اضافہ سامنے آیا ہے ۔ چیئرمین نے بتایا یوٹیلیٹی سٹورز پر چینی 68روپے کلو کے حساب سے دی جا رہی ہے ۔ دیگر بنیادی اشیائے ضروریہ بھی مارکیٹ کے مقابلے میں سستے نرخوں پر فراہم کی جا رہی ہیں۔کابینہ نے کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے ) کے بجٹ تخمینوں برائے مالی سال 2019-20اور2020-21کی منظوری بھی دی۔ کابینہ نے نائیجر میں بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریوں کے پیش نظر حکومت کی جانب سے امدادی سامان بھجوانے ،بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے بورڈ کے حوالے سے ممبران کی تعلیمی قابلیت اور تجربہ مقرر کرنے کے حوالے سے تجویز کی منظوری دی۔ اجلاس میں اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 07اکتوبر 2020میں لیے گئے فیصلوں کی بھی توثیق کی گئی۔ایک سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہا کابینہ اجلاس میں اشیا کی قیمتوں میں کمی کیلئے اقدامات پر غور کیا گیا، مہنگائی کو کنٹرول کرنے کیلئے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں ، حکومتی اقدامات کے نتیجے میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں واضح کمی ہو گی، آنے والے دنوں میں مہنگائی کا مسئلہ حل ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں بارشوں سے گندم کی فصل کو نقصان پہنچا، ملک میں ضرورت کے مطابق گندم کے ذخائر موجود ہیں، سندھ حکومت نے جان بوجھ کر گندم کی ریلیز روکے رکھی، سندھ حکومت کی جانب سے گندم بروقت جاری نہ کرنے سے بھی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا روز ویلٹ ہوٹل کے ملازمین کی تنخواہیں ادا کر دی گئی ہیں، حکومت کا روز ویلٹ ہوٹل بیچنے کا کوئی پروگرام نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا اپوزیشن کے جلسے جلوسوں سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، اپوزیشن ارکان کی اکثریت پر کرپشن کے مقدمات چل رہے ہیں،اپنی لوٹی ہوئی دولت اور لیڈروں کو بچانے کیلئے سب اکٹھے ہوئے ہیں، انہوں نے کہا اپوزیشن جماعتیں مولانا فضل الرحمن کو استعمال کررہی ہیں وہ ان کے ساتھ گزشتہ سال کی طرح اس مرتبہ بھی ہاتھ کریں گی، انہوں نے کہا نوازشریف کے بیٹے لندن میں ہیں اور چاہتے ہیں عوام سڑکوں پر نکلیں، اپوزیشن کے قول و فعل میں تضاد ہے ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here