فرنٹ لائن سٹاف کوویڈ کی دوسری لہر قریب آنے پر خوفزدہ

0
43

لندن :___ برطانیہ میں کورونا وائرس کیسز میں مسلسل اضافہ کے باعث ہیلتھ اور کیئر سٹاف نے کہا ہے کہ وہ خود کو اکتاہٹ اور تھکن کے شکار محسوس کرتے ہیں جبکہ وہ خوفزدہ ہیں کہ وائرس کی دوسری لہر کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ سکار بورو ، نارتھ یارکشائر میں سینٹ سیسلیاز نرسنگ ہوم پر ایک کلینیکل لیڈر سائمن والز، جو اس سال کے آغاز میں وبا کے پھیلائو کے بعد صرف دو ہفتوں کے دوران 10 مکینوں سے محروم ہو گئے تھے، کہا کہ دوسری لہر نے خوف میں مبتلا کر دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سب سے زیادہ تشویش کی بات قابل اعتماد ٹیسٹنگ کی عدم موجودگی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نرسنگ ہوم میں رہنے والوں کا ہر 28 دن بعد وائرس ٹیسٹ ہوتا ہے جبکہ سٹاف کو ہر ہفتہ ٹیسٹ کرانا پڑتا ہے۔ برطانیہ کی لیبارٹریوں میں رش ہونے کے باعث انہیں کوویڈ ٹیسٹ کے لئے بھیجے گئے سیمپل کا ریزلٹ تین ہفتوں بعد ملا تھا۔ واضح رہے کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ دنیا بھر میں کوویڈ۔19 ہیلتھ ورکرز کی سب سے زیادہ اموات والے ممالک میں سے ایک برطانیہ بھی ہے، جہاں 540سے زائد ورکرز جاں بحق ہو چکے ہیں۔ مسٹر ویلز نے پی اے نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صورت حال خوفزدہ کر دینے والی ہے، ہم جانتے ہیں کہ یہ وقت جلد آرہا ہے جبکہ ہمارے اپنے نرسنگ ہوم اور گروپ میں ہمارے اپنے مسائل موجود ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے کیئر ہومز کو مکسڈ ہدایات بھیجی ہیں، جن پر عمل کرنا مشکل ہے۔ لوگ ان ہدایات پر عمل نہیں کر رہے اور ہم اس کے نتائج دیکھ رہے ہیں

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here