نیب گورننس کے ساتھ تباہ کن طریقے سے کھیل رہا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ

0
71

اسلام آباد: ہائی کورٹ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ نیب گورننس کے ساتھ تباہ کن طریقے سے کھیل رہا ہے اور نیب نے تمام کیسز میں وزیروں کو ملزم بنایا ہوا ہے۔  

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے نندی پور ریفرنس میں سابق وزیر قانون بابر اعوان اور جسٹس (ر) ریاض کیانی کی بریت کے خلاف نیب اپیلوں پر سماعت کی۔ سابق سیکرٹری قانون مسعود چشتی کے وکیل امجد پرویز ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ قانونی رائے میں تاخیر سے نندی پورریفرنس پراجیکٹ میں تاخیر کا الزام عائد کیا گیا، ریاض کیانی بھی سیکرٹری قانون رہے اور انہیں بری کیا گیا، یہ ایشو مسعود چشتی کے سیکرٹری قانونی مقرر ہونے سے پہلے سے چل رہا تھا، میرے موکل سے قبل ریاض کیانی سمیت 2 سیکرٹری قانونی رائے دینے سے انکار کر چکے تھے، میرے موکل پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کیا نندی پور ریفرنس میں صرف اور صرف تاخیر ہی واحد جرم ہے؟ وکیل امجد پرویز نے جواب دیا کہ  جی، میرے موکل ایک دھیلے کے روادار نہیں لیکن انہیں ملزم نامزد کر دیا گیا، نندی پور منصوبہ اُس وقت کے وزیراعظم اور صدر کے نوٹس میں تھا، نہ صدر اور نہ ہی وزیراعظم نے اس پر کوئی اعتراض کیا تھا۔ عدالت نے نیب پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ نندی پور منصوبے میں کیا جرم تھا آپ بھی بتائیں۔ نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر نے جواب دیا کہ اس کیس میں فرد جرم بھی عائد ہو چکی ہوئی ہے۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ ایک غیر ملکی کمپنی کیساتھ معاہدے پرنندی پور ریفرنس بنایا گیا، کیا اُس غیر ملکی کمپنی کو بتایا گیا تھا کہ اس کی کلیئرنس نہیں لی گئی؟ کیا ایسی کوئی کلیئرنس لینے کی ضرورت تھی؟ جب لا ڈویژن منظوری پہلے ہی دے چکی تھی؟ بادی النظر میں تویہ کیس بنتا ہی نہیں دکھائی دیتا، اگر جرم ہی نہیں تو پھر یہ ریفرنس بنا کر ریاست کے لیے شرمندگی کا باعث نہیں بنایا گیا ؟ عدالت نے نیب پراسیکیوٹر کو ہدائت کی کہ  ڈاکومنٹ دکھائیں کہ سیکرٹری قانون نے قانون کی کیا خلاف ورزی کی،  جب وزارت قانون نے رائے دینے سے انکار کیا تو کیا آپ نے معاملہ اٹارنی جنرل کو ریفر کیا؟ اس طرح کے مزید کتنے کیسز آپ نے بنائے ہیں؟۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ کہتے ہیں کہ وزارت قانون نے معاہدوں کے بعد قانونی رائے دینے سے انکار کیا، آپ چینی کمپنی کے ساتھ معاہدے کے بعد وزارت قانون سے رائے مانگ رہے تھے، اگر آپ اس طرح کریں گے تو آپ کے پاس فارن انویسٹر کیوں آئے گا؟ یہ بتائیں کہ قانونی رائے میں تاخیر کر کے سیکرٹری قانون کو کیا فائدہ ہوا؟ جب معاہدہ ہو چکا تو پھر وزارت قانون سے منظوری کی ضرورت ہی کیا بچی،  جب وزارت قانون نے اپنی قانونی رائے نہیں دی تو اس سے قومی خزانے کو نقصان ہوا، پراسیکیوٹر نیب آ پ نیب ہیں، آپ کرپشن کے کیس پکڑیں، کیا اس میں کوئی کرپشن ہے، آپ ابھی ایک لفظ نہیں بتا دے سکے کہ کرمنل ایکٹ کہاں ہوا ہے۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ وزارت خزانہ یا پانی و بجلی نے تو کوئی اعتراض نہیں کیا تو نیب کا تفتیشی پھر کون ہوتا ہے کہنے والا کہ رائے ضروری تھی ،  نیب بیوروکریٹ کا فیصلے لینے کا اختیار واپس لینا چاہتا ہے، اس وقت  سارے مسائل پیدا ہی اسی وجہ سے ہو رہے ہیں، ریکوڈک میں ہمیں کتنا نقصان ہوا ہے؟ اس طرف نہ جائیں، نیب کو دس چیزیں پہلے سوچ کے آگے چلنا چاہیے۔ نیب پراسیکیوٹر نے عدالت سے کہا کہ 19 مارچ 2009 کو آپ نے ایگریمنٹ سائن کیا، 17 اپریل کو 2009 کو وزارت قانون نے جواب دیا۔ چیف جسٹس نے اظہار برہمی کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ  نیب تفتیشی کسی رپورٹ سے متاثر نہیں ہو سکتا، اس طرح تو فئیر ٹرائل ختم ہوگیا، پھر تو کیس میں تفتیشی افسر مقرر کرنے کی ضرورت ہی نہیں بچی تھی، ایسا کر کے تفتیشی افسر نے سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کی، رولز آف بزنس کے مطابق سیکرٹری وزارت کا انچارج ہوتا ہے،  نیب نے تمام کیسز میں وزیروں کو ملزم بنایا ہوا ہے، کیا آپکو معلوم ہے ریفرنس کیا ہے؟  یفرنس نیب کا چالان ہوتا ہے وہ الزامات کی سمری ہوتی ہے۔ چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا سابق سیکرٹری قانون لاہور سے آتے ہیں اور احتساب عدالت سے تاریخ لے کر واپس چلے جاتے ہیں، ان کا کیا شوق تھا سیکرٹری بننے کا، پتہ نہیں باقی بیوروکریٹس کا کام کیسے ہو رہا ہے؟  نیب کا کام کرپشن پکڑنا ہے لیکن آپ اس سے ہٹ کر پروسیجرل معاملات میں چلے گئے، اگر وہ رائے دے دیتے تو پھر آپ کہتے کہ یہ رائے دی کیوں؟ اسی لیے تو آج گورننس رکی ہوئی ہے، اس طرح کی آپ کی مداخلت ہے تو پھر گورننس تو نہیں چلے گی، اس طرح کے ماحول میں تو کوئی بیوروکریٹ رائے دینے کے لیے تیار نہیں ہو گا۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ نیب نے ان لوگوں کو بھی ملزم بنایا ہے جن کو ملزم نہیں بنایا جانا چاہیے تھا، لوگوں کی سوسائٹی میں عزتیں خراب ہو جاتی ہیں، نیب گورننس کے ساتھ تباہ کن طریقے سے کھیل رہا ہے، یہ نیب کا لیول نہیں، اینٹی کرپشن والے بھی ایسا نہ کریں، نیب کو پتہ ہونا چاہیے کہ ان کے ہر ایکشن سے گورننس پر کیا فرق پڑتا ہے۔عدالت نے  ڈاکٹر بابر اعوان کی بریت کے خلاف نیب اپیل پر فیصلہ محفوظ کر لیا، جب کہ جسٹس ریٹائرڈ ریاض کیانی کی بریت کے خلاف نیب اپیل پر بھی فیصلہ محفوظ کرلیا گیا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here