امریکی انتخابات‘پاکستانی اور بھارتی نژاد 4 خواتین میدان میں آگئیں

0
182

امریکی انتخابات‘پاکستانی اور بھارتی نژاد 4 خواتین میدان میں آگئیں
تین نومبرکومتعدد مقامی اور ریاستی انتخابات کا انعقاد ہوگاجن میں یہ حصہ لے رہی ہیں

نیو یارک (نیوز ڈیسک) امریکہ میں تین نومبر کو ہونے والے انتخابات کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ امریکہ کی تاریخ کے اہم ترین انتخابات ہیں۔ امریکہ سیاسی اور سماجی دونوں اعتبار سے منقسم ہے اور ملک میں وبا کے باعث ایک لاکھ 95 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور لاکھوں افراد بیروزگار ہیں۔ متعدد شہروں میں بلیک لائف میٹرز تحریک کے مظاہروں کا اختتام تشدد اور پولیس کارروائی پرہوا۔ تین نومبرکومتعدد مقامی اور ریاستی انتخابات کا انعقاد ہوگا۔ انتخابات میں چند پاکستانی اور بھارتی نژاد خواتین بھی حصہ لے رہی ہیں۔ثوبیہ ظفر سان رامن میں وائس میئر کی حیثیت سے کام کررہی ہیں اور اب میئر کا انتخاب لڑ رہی ہیں۔رادھیکاکونال انڈین نژاد امریکی دارھیکاکونال نیواڈا کیلئے ریاستی اسمبلی کی امیدوارہیں، رادھیکا ایک سائنسدان ہیں جنھیں 11 ستمبر 2011 کا دن اچھی طرح یاد ہے۔ رادھیکا سنہ 1996 میں اپنی مائیکرو بائیولوجی میں پی ایچ ڈی کرنے امریکہ آئیں ان کا تھیسز کینسر بائیولوجی پر تھا۔ ان کی سیاست میں آنے کی ایک دوسری وجہ قانون سازوں میں سائنسدانوں کی کمی تھی۔ فرح خان پاکستانی نژاد امریکی، کیلیفورنیا میں اروائن شہر کے میئر کے لیے امیدوار ہیں فرح تین سال کی عمر میں امریکہ آئیں۔ ان کی والدہ کا تعلق لاہور سے ہے اور والد کا تعلق کراچی سے ہے۔ وہ شکاگو اور سان فرانسیسکو میں پلی بڑھیں جس کے بعد وہ 2004 میں جنوبی کیلیفورنیا منتقل ہوگئیں۔ غیر منافع بخش امدادی اداروں کیساتھ کام کرنے کے بعد انھوں نے سٹی کونسل کے رکن کے لیے انتخاب لڑا۔ وہ سنہ 2016 میں ہار گئی۔ یہ ان کے لیے ایک تجربہ تھا۔ پدما کوپا انڈین نژاد امریکی، مشی گن میں ٹوری اینڈ کلسن کی امیدوار ہیں پدما کی والدہ 70 کی دہائی میں ان کے والد کے پاس امریکہ آئیں۔ پدما ایک کتابی کیڑا تھیں، ایک مصنف اور ریاضی دان، جب ان کے والد نے 1981 میں واپس انڈیا جانے کا فیصلہ کیا تو انھیں لگا کے ان سے مواقع چھین لیے گئے ہیں۔ وہ اس وقت 16 برس کی تھیں۔ لیکن وہ سنہ 1988 میں اپنے ماسٹرز کے لیے پھر سے امریکہ گئیں، ان کے والدین اور بھائیوں نے بھی پی ایچ ڈی کر رکھی تھیں۔ پدما کہتی ہیں جب میں میشی گن آئی تو یہاں لوگ دوسری تہذیبوں کے لوگوں سے آشنا نہیں تھے۔ انھوں نے سنہ 2018 میں انتخاب جیتا اور اسی نشست کے لیے وہ پھر سے میدان میں ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here