کورونا کے علاج کے دوران ٹرمپ حامیوں سے ملنے ہسپتال سے باہر آگئے

0
116

واشنگٹن:___ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیکل برادری کے پروٹوکول توڑنے اور ہسپتال کے باہر اپنے حامیوں سے ملاقات کرنے پر سخت تنقید کا سامنا ہے۔ خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ انتہائی موذی کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے بعد ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ واشنگٹن کے قریب والٹر ریڈ ملٹری میڈیکل سینٹر کے باہر کے مختصر سفر کے دوران وہ اپنی بلٹ پروف گاڑی کے اندر سے ہاتھ ہلاتے دیکھے گئے جہاں وہ ماسک پہنے بیٹھے تھے۔ ان کی اچانک باہر کی سیر ایسے وقت میں سامنے آئی جب ڈاکٹروں نے ان کی طیبعت کے بارے میں اطمینان کا اظہار کیا تھا اور پیر کے روز انہیں ہسپتال سے جانے کی اجازت دینے کا امکان بھی ظاہر کیا تھا۔ تاہم ماہرین نے شکایت کی کہ باہر جانے سے انہوں نے اپنی حکومت کے ہی صحت عامہ کے گائیڈ لائنز کو توڑا جس کے تحت مریضوں کو دوران علاج آئی سولیشن میں رہنے کا کہا گیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ جنہیں بار بار عوامی صحت کے گائیڈ لائنز کی خلاف ورزی کرنے اور وبائی امراض پر غلط فہمی پھیلانے پر تنقید نشانہ بنایا جارہا ہے، نے عوام کے سامنے آنے سے قبل سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ’وائرس سے لڑتے ہوئے ہسپتال آکر انہوں نے بہت کچھ سیکھا ہے‘۔

تاہم صحت کے ماہرین نے سوشل میڈٰا کا سہارا لیتے ہوئے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے کچھ بھی نہیں سیکھا ہے۔ جارج واشنگٹن یونیورسٹی کے ڈزاسٹر میڈیسن کے سربراہ جیمز فلپس نے کہا کہ ’مکمل طور پر غیر ضروری صدارتی ڈرائیو کے دوران گاڑی میں سوار ہر فرد کو 14 دن کے لیے قرنطینہ میں رکھ دیا گیا ہے’۔ ان کا کہنا تھا کہ ’وہ بیمار ہوسکتے ہیں، وہ مر سکتے ہیں، سیاسی شو کے لیے، ٹرمپ کے احکامات پر تھیٹر کے لیے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالنا، یہ پاگل پن ہے‘۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوڈ ڈیئر نے کہا کہ ٹرمپ اور ان کے معاون عملے کی حفاظت کے لیے حفاظتی کٹس سمیت ’مناسب‘ احتیاطی تدابیر اختیار کی گئیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ’میڈیکل ٹیم نے اس کی اجازت دی تھی‘۔ تاہم یونیورسٹی آف پنسلوانیا میں میڈیکل ایتھکس اور صحت کی پالیسی کے چیئرمین ذکی ایمانوئیل نے ٹرمپ کے عوام کے سامنے آنے کو ’شرمناک‘ قرار دیا۔

انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ’اپنے سیکریٹ سروس ایجنٹس کو کورونا کے مریض کے کھڑکیاں اوپر کرکے گاڑٰ میں گھومنے سے ان کو غیر ضروری طور پر انفیکشن کا خطرہ لاحق ہوا اور یہ کس لیے کیا گیا؟ ایک تشہیری مہم کے لیے؟‘۔

الجھن پھیلانے والے پیغامات

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی جب ٹرمپ کی میڈیکل ٹیم نے چند گھنٹوں قبل بریفنگ دی تھی اور کہا تھا کہ ’ان کی طبیعت مسلسل بہتر ہورہی ہے اور وہ وائٹ ہاوس واپسی کے لیے تیار ہیں جہاں صدر کو آئی سولیٹ کرنے اور علاج کے لیے تمام سہولتیں دستیاب ہیں‘۔ خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے معالج سیان کونلے نے بریفنگ میں کہا تھا کہ ’صدر کو تیز بخار ہونے اور آکسیجن کی سطح تشویشناک حد تک کم ہونے کی وجہ سے جمعے کے روز والٹر ریڈ ہسپتال لایا گیا تھا ‘۔ ماہرین صحت نے شکایت کی ہے کہ انتظامیہ کی طرف سے اور خاص طور پر ٹرمپ کی میڈیکل ٹیم کی جانب سے دیے گئے بیانات نے بڑے پیمانے پر الجھن پیدا کردی ہے۔ سیان کونلے نے عوام سے چھپائی گئی بات کا بھی اعتراف کیا کہ صدر کو ’بہتر علاج‘ کے لیے اضافی آکسیجن بھی دی گئی ہے۔ تاہم انہوں نے ہفتے کے روز ٹرمپ کی طبیعت کے حوالے سے مثبت بیان دیا تھا جس کے فوراً بعد وائٹ ہاؤس کے چیف آف اسٹاف مارک میڈوز نے صحافیوں کو یہ بتایا تھا کہ ٹرمپ کی حالت ’انتہائی تشویشناک‘ ہے اور وہ ’اب بھی مکمل صحتیابی کے راستے پر نہیں ہیں‘۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here