آرمینیائی فوج نے دوسرے شہر پر بھی گولہ باری کردی، آذربائیجان

0
164

آذربائیجان نے کہا کہ آرمینیا کی افواج نے جنوبی قفقاز میں دوسرے شہر گانجا پر بھی گولہ باری کی ہے۔

آرمینیا نے مذکورہ الزام کی تردید کی ہے لیکن نیگورنو-کاراباخ میں آرمینیا کے مسلح گروہ کے رہنما نے دعویٰ کیا کہ ان کی افواج نے آذربائیجان کے شہر گانجا میں واقع ایک فوجی ہوائی اڈہ تباہ کردیا ہے۔ نیگورنو-کاراباخ کے رہنما ارائیک ہارٹیونیان نے کہا کہ ’اب سے آذربائیجان کے بڑے شہروں میں قائم مستقل فوجی یونٹوں کو نشانہ بنایا جائے گا‘۔دوسری جانب آذری وزارت دفاع نے کہا کہ نیگورنو-کاراباخ سے متصل شہروں ’ٹیرٹر اور ہورادیز‘ پر شدید گولہ باری کی جارہی ہے جبکہ خطے کی فوج نے بتایا کہ اس کا دارالحکومت اسٹیپنکارت بمباری کی زد میں ہے۔واضح رہے کہ لڑائی ایک ہفتہ قبل شروع ہوئی اور 1990 کی دہائی کے بعد سے اب تک کی بدترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔گزشتہ روز ایران نے آرمینیا اور آذربائیجان کے مابین نیگورنو-کاراباخ میں جاری جنگ کے نتیجے میں اپنے سرحدی دیہاتوں پر مارٹر فائر گرنے پر دونوں ممالک کی فوجوں کو خبردار کیا تھا۔واضح رہے کہ آرمینیا اور آذربائیجان کے مابین جس متنازع علاقے پر جنگ جاری ہے اس کی سرحدیں ایران کے ساتھ بھی ملتی ہیں۔دوسری طرف آرمینیا کی جانب سے جنگ بندی پر بات کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے، متعلقہ حکام کا کہنا تھا کہ وہ روس، امریکا اور فرانس کے ساتھ نیگورنو-کاراباخ میں جنگ بندی سے متعلق مذاکرات کریں گے۔اس سے قبل ہونے والی جنگ بندی کا حوالہ دیتے ہوئے آرمینیا نے کہا تھا کہ ‘ہم آذربائیجان کی جارحیت کو پسپا کرنے کی کوششیں جاری رکھیں گے لیکن اس کے ساتھ ہم 1994 اور 1995 کے معاہدوں کی بنیاد پر عالمی طاقتوں کے ساتھ مذاکرات کو تیار ہیں‘۔خیال رہے کہ گزشتہ اتوار کو شروع ہونے والی جھڑپیں تاحال جاری ہیں اور تازہ رپورٹس کے مطابق نیگورنو-کاراباخ کی وزارت داخلہ نے کہا کہ مزید 54 فوجی ہلاک ہوئے اور مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 158 ہوگئی ہے۔آرمینیا کے علیحدگی پسندوں کے زیر تسلط متنازع علاقے نیگورنو-کاراباخ میں 11 عام شہری بھی ہلاک ہوئے اور 60 سے زائد شہریوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔یاد رہے کہ آرمینیا کے حامی علیحدگی پسندوں نے 1990 کی دہائی میں ہونے والی لڑائی میں نیگورنو-کاراباخ خطے کا قبضہ باکو سے حاصل کرلیا تھا اور اس لڑائی میں 30 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔سوویت یونین سے 1991 میں آزادی حاصل کرنے والے دونوں ممالک کے درمیان شروع سے ہی کشیدگی رہی جو 1994 میں جنگ بندی معاہدے پر ختم ہوئی تھی۔بعد ازاں فرانس، روس اور امریکا نے ثالثی کا کردار ادا کیا تھا لیکن 2010 میں امن معاہدہ ایک مرتبہ پھر ختم ہوگیا تھا۔متنازع خطے نیگورنو-کاراباخ میں تازہ جھڑپیں 27 ستمبر کو شروع ہوئی تھیں اور پہلے روز کم ازکم 23 افراد ہلاک ہوگئے تھے جبکہ فوری طور پر روس اور ترکی کشیدگی روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔مسلم ملک آذربائیجان اور عیسائی اکثریتی ملک آرمینیا کے درمیان کشیدگی سے خطے کی دو بڑی طاقتوں روس اور ترکی کے درمیان تلخی کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔آرمینیا کے وزیر اعظم نیکول پشینیان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ترکی کو تنازع سے دور رکھے۔دوسری جانب آذربائیجان کے اتحادی ترکی نے کشیدگی شروع کرنے کا الزام آرمینیا پر عائد کیا اور باکو کی حمایت کا اعادہ کیا تھا۔ترک صدر رجب طیب اردوان نے اپنے بیان میں آرمینیا کو خطے کے لیے بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ آذربائیجان سے مکمل تعاون کیا جائے گا۔اپنی ٹوئٹ میں ان کا کہنا تھا کہ ‘ترکی کے لوگ آذربائیجان کے بھائیوں سے ہمیشہ کی طرح ہر ممکن تعاون کریں گے’۔انہوں نے کہا کہ ‘آرمینیا خطے کے امن و استحکام کے لیے بڑا خطرہ بن رہا ہے’۔عالمی برادری کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ آرمینیا کی ‘جارحیت کو روکنے کے لیے اہم اقدامات کرنے میں ناکام رہی ہے’۔نیگورنو-کاراباخ کا علاقہ 4 ہزار 400 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے اور 50 کلومیٹر آرمینیا کی سرحد سے جڑا ہے، آرمینیا نے مقامی جنگجوؤں کی مدد سے آذربائیجان کے علاقے پر خطے سے باہر سے حملہ کرکے قبضہ بھی کرلیا تھا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here