علی بابا چالیس چوروں کیلئے جیلیں تیار

0
185
آل پارٹیز کانفرنس کے بعد نیب کا پہلا شکار شہباز شریف بن چکے ہیں جنہیں نیب نے گرفتار کر لیا‘احتساب عدالت نے ان کا 14روزہ جسمانی ریمانڈ بھی دیدیا
 احتساب عدالت نے میگا منی لانڈرنگ کیس میں آصف زرداری اور انکی ہمشیرہ فریال تالپور پر فرد جرم عائد کردی‘مولانا فضل الرحمن کو بھی یکم اکتوبر کو طلب کرلیا گیا
آئندہ آنے والے دنوں میں نیب کی جانب سے مزید گرفتاریوں کا بھی امکان ہے‘شیخ رشید احمد پہلے ہی پیشنگوئی کر چکے ہیں کہ دسمبر جنوری میں جھاڑو پھر جائے گا
لاہور(نامہ نگار)پاکستان میں آل پارٹیز کانفرنس کے بعد احتساب کا عمل تیزی پکڑنے لگا‘اے پی سی کے بعد نیب کا پہلا شکار شہباز شریف بن چکے ہیں جنہیں 28تاریخ کو عبوری ضمانت منسوخ ہونے کے بعد نیب نے گرفتار کر لیا ہے اور 29ستمبر کو احتساب عدالت نے شہباز شریف کو 14 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کی تحویل میں دیدیا۔اسلام آباد میں احتساب عدالت نے میگا منی لانڈرنگ کیس میں آصف زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور پر فرد جرم عائد کردی جبکہ مولانا فضل الرحمن کو بھی یکم اکتوبر کو طلب کرلیا گیا ہے‘ آنے والے دنوں میں نیب کی جانب سے مزید تیزی دکھائی جانے کا عندیہ بھی دیا جارہا ہے اور کافی تعداد میں گرفتاریوں کا امکان ہے شیخ رشید احمد بھی پیشن گوئی کر چکے ہیں کہ دسمبر جنوری میں جھاڑو پھر جائے گا -مسلم لیگ (ن) کے صدر اور اپوزیشن لیڈر شہبازشریف کو نیب نے گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ سے عبوری ضمانت خارج ہونے پر آمدن سے زائد اثاثوں اور منی لانڈرنگ کے کیس میں گرفتار کیا تھا۔نیب کی ٹیم نے شہبازشریف کو29ستمبر کو عدالت کے روبرو پیش کیا جہاں جج جواد الحسن نیب ریفرنس کی سماعت کی۔عدالت میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے غیر رسمی گفتگو میں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ نیب نیازی گٹھ جوڑ ناکام ہے، اس کا مقابلہ کریں گے۔سابق وزیراعلیٰ پنجاب اور اپوزیشن لیڈر شہبازشریف نے احتساب عدالت میں اپنا مقدمہ خود لڑنے کا اعلان کیا ہے۔شہبازشریف نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ میں اپنا کیس خود لڑوں گا۔عدالت نے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو 14 روز کے جسمانی ریمانڈ پر نیب کی تحویل میں دے دیا اور انہیں 13 اکتوبر کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا گیاہے۔شہباز شریف کے بعد دیگر لیگی رہنماؤں کو بھی نیب کی جانب بلاوے آنے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے دوسری جانب نیب نے مولانا فضل الرحمن کو بھی یکم اکتوبر کو طلب کرلیا- جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ 1995 میں بھی مجھ پر جائیدادوں کا الزام لگایا، اب پھر لگادیا گیا لیکن ڈنکے کی چوٹ پر کہتے ہیں یہ سلیکٹڈ حکومت ہے۔ مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جمعیت علمائے اسلام نے ہمیشہ کشمیر کی جمعیت کو اپنا نمائندہ سمجھا، پاکستانیوں اورکشمیریوں کاماضی اور حال ایک ہے، مستقبل بھی ایک ہوگا، گلگت کو صوبے کا درجہ دینے پر کشمیرپر ہمارے مؤقف کا کیا ہوگا؟انہوں نے کہا کہ دھاندلی کی پیداوار حکومت کو ہم نے تسلیم نہیں کیا، ہماری جنگ جاری ہے، 1995 میں بھی مجھ پر جائیدادوں کا الزام لگایا، اب پھر لگادیا گیا، ڈنکے کی چوٹ پر کہتے ہیں یہ سلیکٹڈ حکومت ہے، اسے لایا گیا، ہم تمہارا جبر تو برداشت کرلیں گے مگر آئندہ نسلوں کے سامنے سرخرو ہوں گے۔فضل الرحمن کاکہنا تھاکہ ایوب نے بھی کیس بنائے، ضیا ء نے بھی بنائے، ہم نے جیلوں کو قبول کیا مگر جبر قبول نہیں، میڈیا ذمہ داری کا مظاہرہ کرے، گندے پانی میں مچھلیاں نہ پکڑی جائیں۔خیال رہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) خیبرپختونخوا نے مولانا فضل الرحمن کو آمدن سے زائد اثاثہ جات کے معاملے پر یکم اکتوبر کو طلب کیا۔احتساب عدالت نے میگا منی لانڈرنگ وپارک لین کیس میں آصف علی زرداری اور فریال تالپورپر بھی فرد جرم عائد کر دی ہے-

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here