شہادت شہزادی سکینہ بنت حسین علیہ السلام 13صفر 61ہجری :تحریر:سیدہ رضا

0
1780
اسلام علیکم قارئین!

میں ہوں سیدہ رضا فرام دنیا انٹرنیشنل یو ایس اے
کچھ موضوعات ایسے ہوتے ہیں جن پر لکھتے ہوئے قلم باآسانی لکھتا چلا جاتا ہے مگر کچھ موضوع الفاظ ایسے ہوتے ہیں جن پر لکھنے سے پہلے سوچتے ہوئے بھی آنکھوں سے آنسو رواں ہو جاتے ہیں اور ایک ایک لفظ بڑی ہمت مجتمع کر کے لکھنا پڑتا ہے
محرم اور کربلا ایک دوسرے سے مربوط ہیں ماہ محرم اور واقعہ کربلا کا تذکرہ وبیان ہو اور سکینہ بنت الحسین علیہ السلام کا ذکر نہ ہو یہ ناممکن و تشنہ سیرابی ہو گی
بجھ جائے پیاس سکینہ کی‘ہم آنکھ میں آنسو لائے ہیں
شہزادی سکینہ سلام اللہ علیہا کی پیدائش 20رجب61ہجری کو ہوئی -روایات میں ملتا ہے کہ شہزادی سکینہ کا اصل نام آمنہ یا امیمہ تھا اور سکینہ کے لقب سے آپ مشہور ہیں سکینہ بنت الحسین کی والدہ کا نام رباب بنت امراء القیس ہے-علوی خاندان کی یہ بچی اپنے والد امام حسین علیہ السلام اور والدہ معظمہ حضرت رباب کی آغوش میں پروان چڑھی-حبیب خدا محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چھوٹے اور لاڈلے نواسے اور حضرت علی وفاطمہ کے پسر حضرت امام حسینعلیہ السلام نے فرمایا کہ میری بیٹی سکینہ سلام اللہ علیہا میری ”نماز شب“ کی دعاؤں کا نتیجہ ہے-قارئین! بیٹی اور باپ کی محبت فطری اور لازوال ہوتی ہے-حضرت امام حسین علیہ السلام کی بھی اپنی اولاد خصوصا چھوٹی اور لاڈلی بیٹی سکینہ سلام اللہ علیہا سے ایسی ہی محبت تھی-واقعہ کربلا میں جہاں خانوادہ ء امام حسین علیہ السلام کے ہر فرد نے امام عالی مقام کی قیادت میں اس جہاد میں حصہ لیا وہاں خواتین اور بچے بچیوں نے بھی کوئی کسر نہ اٹھا رکھیحضرت امام حسین علیہ السلام کی لاڈلی بیٹی شہزادی سکینہ سلام اللہ علیہا اور میدان کربلا میں موجود طفلان نے جس استقامت وصبر کا مظاہرہ کیا اس کی نظیر نہیں ملتی-قارئین کرام! سکینہ کے معنی ہیں ”قلبی وذہنی سکون“ مگر یہ معصوم بچی نہ تو دنیا میں سکون سے رہ پائی اور نہ ہی قید زندان میں سکون پا سکی-نازونعم میں رہنے والی سکینہ باپ کے سینہ پر سر رکھ کر سونے والی سکینہ چار سال کی عمر میں ہی یتیم ہو گئی
سررکھ کر وہ بابا کے سینے پہ سونے والی
پانی کو ترستی تھی نازوں سے پلنے والی
روایات میں ہے کہ جب حضرت امام حسین علیہ السلام جہاد کیلئے کربلا جا رہے تھے تو آپ ذوالجناح کے سموں سے لپٹ گئیں -امام حسین علیہ السلام نے سبب پوچھا تو عرض کیا”میں آپ کے روئے مبارک پر ایک نظر ڈال کر آپ کے چہرے کو تصور بنانا چاہتی ہوں تاکہ اس صابر چہرے کا تصور ہی میرے لیے سرمایہ تسکین بن سکے
جانے دے مجھے میدان کی طرف‘دینا یہ تجھے قربانی ہے
راہوار کے تو پاؤ ں نہ پڑ‘ میری بچی تو سیدانی ہے
آپونچھ لے آنسو آنکھوں سے‘تو دیکھ لے چہرہ باباکا
کل ہو سکتا ہے آ نہ سکے‘پہچان میں چہرہ بابا کا
جب 11محرم 61ہجری کو آل اطہار کو پابند سلاسل کر کے بازاروں میں سے گزارا گیا تو اس معصوم بچی سکینہ کو سب سے زیادہ تکلیف واذیت دی گئی
قافلہ جب سوئے زندان چلا
اپنے بابا سے سکینہ نے کہا
بابا ہو گیا قید تمہارا کنبہ
بابا دیکھو میرا رسی میں گلا
میرا سلام ہو اس معصوم شہزادی سکینہ بنت الحسینعلیہ السلام  پر جو عاشور کے دن ڈھلنے تک اپنے سے چھوٹے بچوں کو یہ کہہ کر تسلی دیتی رہی کہ ابھی (عمو)چچا عباس علمدار پانی لے کر آئیں گے مگر کیا خبر تھی اس معصوم سکینہ کو کہ روز عاشور کیا قیامت گزرے گی کہ اس کے (عمو)عباس علمدار نہر پر اپنی مشک تیروں کی برسات میں لے جا کر اپنے بازو کٹائیں گے
آپ عباس علمدار  نے مشک پانی اپنے دانتوں میں لے لی کہ پیاسے بچوں سے وعدہ کیا تھا کہ چچا پانی لائیں گے مگر یزیدی لشکر نے آپ کے دندان بھی شہید کر دیئے اور مشک بھی چھد گئی
بابا پانی کی مجھے اب آس نہیں
اشک پی لوں گی مجھے اب پیاس نہیں
کربلا سے کوفہ اور کوفہ سے شام اور پھر زندان شام کی آخری آرام گاہ بھی وہی قید خانہ بن گیا
قارئین! روایات میں ہے کہ ایک روز شہزادی سکینہ بنت حسین علیہ السلام زندان(قید خانہ) میں اپنے بابا کو بہت یاد کررہی تھیں تمام بیبیاں رو رہی تھیں یزید نے پوچھا کہ کیا معاملہ ہے؟تو اس کو بتایا گیا کہ حسین ابن علی کی چھوٹی بیٹی اپنے بابا کو یاد کر کے رو رہی ہے- یزید نے اپنے حواریوں سے پوچھا کہ اس کو کس طرح خاموش کروایا جائے؟یزید کو کہا گیا کہ اگر سرحسین زندان میں بھجوا دیں تو یہ قیدی بچی خاموش ہو جائے گی-سر حسین زندان میں لایا گیا ایک حشر برپا ہوا حضرت سید سجاد عابد بیمارطوق وزنجیر سنبھالے بابا حسین کے سرمبارک کو لیے آگے بڑھے-شہزادی سکینہ کی گود میں جب بابا کا سر آیا تو آپ نے اپنے ہونٹ اپنے بابا امام عالی مقام کے رخسار پر رکھ دیئے‘ کبھی ماتھا چومتی‘کبھی لبوں کا بوسہ لیتے اپنے بابا کا سکینہ نے کہا
بابا اک بار تو آنکھیں کھولو
قیدی بیٹی کی یہ حالت دیکھو
بابا اک بار تو سکینہ کہہ دو
شہزادی سکینہ روتے ہوئے اپنے بابا سے شکوے کرتی جاتیں‘ بابا مجھے طمانچے مارے گئے‘ بابا میرے کانوں سے گوشوارے چھینے گئے‘میرے کان زخمی ہو گئے‘ ہمیں بازاروں میں گھمایا گیا‘ میرا اس قید خانہ میں دم گھٹتا ہے
بابا سینہ سے سکینہ کو لگاتے جاؤ
اب کہاں ہو گی ملاقات بتاتے جاؤ
پیاسی سکینہ روتے روتے شکوے کرتی رہی اور بالاآخر ہچکیوں سے رندھی ہوئی آواز خاموش ہو گئی
حضرت سید سجاد نے کھڑے ہوئے پھوپھی زینب کو سہارا دیا اور بلند آواز میں کہا کہ سکینہ ہمیشہ کیلئے خاموش ہو گئی-اناللہ وانا الیہ راجعون حضرت امام حسین علیہ السلام کی لاڈلی دختر شہزادی سکینہ اپنے بابا کے سینے پر سر رکھ کر سونے والی بیٹی پانی کو ترستے ترستے دنیا سے رخصت ہو گئی
سررکھ کر وہ بابا کے سینے پہ سونے والی
پانی کو ترستی تھی نازوں سے پلنے والی
اپنی تحریر کا اختتام اپنے پروردگار کے حضور ان دعائیہ الفاظ پر کر رہی ہوں کہ ”اے پروردگار عالم اپنے حبیب محمد مصطفی کے صدقے اور معصوم شہزادی سکینہ کی یتیمی کے صدقے کسی بھی بچی کو اس کی طفلی وکم سنی میں یتیم نہ کرنا-آمین یارب العالمین
سکینہ کی تربت پہ اے جانے والو
ردا اور دوبالیاں لیتے جانے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here