بابری مسجد شہادت کیس: ایل کے ایڈوانی سمیت تمام 32 ملزمان بری

0
94

بھارت کی خصوصی عدالت نے بابری مسجد پر حملہ کرنے کے الزام سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنما اور سابق نائب وزیراعظم لال کرشنا (ایل کے) ایڈوانی، مرلی منوہر جوشی، اوما بھارتی سمیت تمام 32 ملزمان کو بری کردیا۔امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس اے پی کی رپورٹ کے مطابق ان تمام افراد پر 1992 میں 16ویں صدی عیسویں کی بابری مسجد کو شہید کرنے اور ہندو مسلم فسادات کو بھڑکانے کے الزامات تھے جس کے نتیجے میں 3 ہزار افراد مارے گئے تھے۔بھارتی نشریاتی ادارے این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ مقدمہ بھارتی عدالت میں 28 سال تک چلا اور آج سنائے گئے فیصلے میں عدالت نے قرار دیا کہ مسجد کی شہادت باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت نہیں کی گئی تھی۔اس کیس کا فیصلہ سنانے کے لیے جج کے عہدے کی مدت میں توسیع بھی کی گئی جنہوں نے کہا کہ ‘مسجد کو سماج مخالف عناصر نے منہدم کیا تھا اور جن رہنماؤں پر الزام عائد کیا گیا ہے انہوں نے لوگوں کو روکنے کی کوشش کی’۔جج کا یہ بھی کہنا تھاکہ سی بی آئی کی جانب سے عدالت میں پیش کردہ آڈیو اور ویڈیو شواہد کوئی سازش ثابت نہیں کرسکے جبکہ تقاریر کی آڈیو واضح نہیں تھی۔تفتیشی اداروں کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ایل کے ایڈوانی، اوما بھارتی، اور کلیان سنگھ سمیت 32 ملزمان اس اسٹیج کے قریب موجود تھے جہاں سیاسی، مذہبی اور مندر کے لیے مہم چلانے والوں نے تقاریر کیں اور ان تقاریر کی وجہ سے ہجوم مشتعل ہوا۔این ڈی ٹی وی نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ ایک پروگرام میں ایل کے ایڈوانی نے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ بابری مسجد کی شہادت ایک ‘خوفناک غلطی تھی لیکن مجھے آج تک معلوم نہیں کہ ہجوم کے مشتعل ہونے کے نتیجے میں ہوا یا کسی گروہ کی جانب سے جان بوجھ کر کیا گیا’۔جبکہ سابق بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی نے کہا تھا کہ کار سیوکوں کا ایک گروہ قابو سے باہر ہوگیا تھا، انہوں نے کہا تھا کہ جو کچھ ایودھیا میں ہوا وہ افسوسناک تھا ہم نے اسے روکنے کی کوشش کی لیکن ہم کامیاب نہ ہوسکے۔برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی اردو سروس کی رپورٹ کے مطابق بابری مسجد کی شہادت کے بعد ایودھیا کے حکام نے دو مقدمات درج کیے تھے اس کے علاوہ بابری مسجد کی زمین کی ملکیت کا بھی ایک مقدمہ تھا جس کا بھارتی سپریم کورٹ نے گزشتہ برس نومبر میں فیصلہ سنایا تھا۔ایک مقدمہ مسجد پر حملہ کرنے والے ہزاروں نامعلوم ہندو انتہا پسندوں کے خلاف درج ہوا تھا اور دوسرا مقدمہ مسجد ڈھانے کی سازش کے بارے میں تھا جس میں ایل کے اڈوانی، منوہر جوشی، اوما بھارتی سمیت کئی رہنماؤں کو نامزد کیا گیا تھا۔مقدمے میں ابتدائی طور پر 48 افراد کے خلاف فرد جرم عائد کی گئی تھی، تین دہائیوں سے جاری اس کیس کی سماعت کے دوران 16 ملزمان انتقال بھی کر چکے ہیں۔

بابری مسجد کیس کا پس منظر

یاد رہے کہ 6 دسمبر 1992 میں مشتعل ہندو گروہ نے ایودھیا کی بابری مسجد کو شہید کردیا تھا جس کے بعد بدترین فسادات نے جنم لیا تھا اور 2 ہزار افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے، ان فسادات کو تقسیم ہند کے بعد ہونے والے سب سے بڑے فسادت کہا گیا تھا۔جب بابری مسجد کو شہید کیا گیا تھا اس کے بعد سے اس مقام کا کنٹرول وفاقی حکومت اور بعدازاں سپریم کورٹ نے سنبھال لیا تھا۔بھارت کی ماتحت عدالت نے فیصلہ دیا تھا کہ 2.77 ایکڑ کی متنازع اراضی مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان تقسیم ہو گی۔ایودھیا کے اس مقام پر کیا تعمیر ہونا چاہیے، اس حوالے سے مسلمان اور ہندو دونوں قوموں کے افراد نے 2010 میں بھارتی ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف عدالت عظمیٰ میں علیحدہ علیحدہ درخواستیں جمع کروا رکھی تھیں جس کے بعد اس معاملے پر اُسی سال 8 مارچ کو ثالثی کمیشن تشکیل دیا گیا تھا۔اس تنازع کے باعث بھارت کی مسلمان اقلیت اور ہندو اکثریت کے مابین کشیدگی میں بہت زیادہ اضافہ ہوگیا تھا۔تاہم 9 نومبر 2019 کو بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کی زمین سے متعلق کیس میں فیصلہ سناتے ہوئے مسجد کی متنازع زمین پر رام مندر تعمیر کرنے اور مسلمانوں کو مسجد تعمیر کرنے کے لیے متبادل کے طور پر علیحدہ اراضی فراہم کرنے کا حکم دیا تھا۔جس کے بعد وزیراعظم نریندر مودی نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے ٹھیک ایک سال ہونے پر گزشتہ ماہ 5 اگست کو رام مندر کا سنگ بنیاد رکھا تھا۔خیال رہے کہ بھارت میں مسلم اقلیت کے اکثر افراد بابری مسجد سے متعلق گزشتہ برس کے فیصلے کو ہندو قوم پرست حکومت کے طریقہ کار کا حصہ قرار دیتے ہیں تاہم بھارتی حکومت اس الزام کو مسترد کرتی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here