لاہور: شوہر کی موجودگی میں خاتون سے اجتماعی زیادتی

0
73
لاہور کے قریب اجتماعی زیادتی کا ایک اور واقعہ پیش آیا ہے، جہاں شوہر کی موجودگی میں خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ڈی پی او شیخوپورہ صلاح الدین نے بتایا کہ اغوا کار میاں بیوی کو مینار پاکستان سے بہلا پھسلا کر گاؤں لے گیا اور وہاں یرغمال بنالیا۔ ڈی پی او نے کہا کہ متاثرہ خاتون کا میڈیکل کرالیا گیا ہے، پنجاب فارنزک لیب نے ڈی این اے سیمپلز بھی لے لیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاتون نے بیان دیا ہے کہ 4 سے 5 افراد نے اُس کے ساتھ  اجتماعی زیادتی کی۔ ڈی پی او کا کہنا ہے کہ میاں بیوی کے بیان کے مطابق کرایہ ختم ہونے پر شام کو مینار پاکستان آکر بیٹھ گئے تھے۔ خاتون سے اجتماعی زیادتی کے واقعے کا تھانہ فیروز والا میں مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی گئی ہے، جبکہ کچھ ملزم زیر حراست ہیں۔ واضح رہے کہ اس سے قبل بھی گجر پورہ کے قریب موٹروے پر ایک خاتون کو اس کے بچوں کے سامنے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس واقعے خلاف پورے ملک میں شدید ردعمل سامنے آیا تھا اور مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ملزمان کو کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ پولیس اس واقعے کے مرکزی ملزم عابد کو اب تک گرفتار کرنے میں ناکام رہی ہے۔
زیادتی کے واقعات کی روک تھام کیلئے پنجاب میں ریپ انویسٹی گیشن یونٹ قائم کرنے کا فیصلہ

 

گجرپور موٹروے خاتون زیادتی کیس کے بعد پنجاب پولیس نے صوبہ بھر میں ’ریپ انویسٹی گیشن یونٹ ‘ قائم کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

ذرائع کے مطابق پنجاب کے تمام تھانوں میں خصوصی سیل ریپ انویسٹی گیشن یونٹ(آر آئی یو) بنانے کا فیصلہ کرلیا۔ یہ سیل خواتین اور بچوں سے جنسی زیادتی اور انہیں ہراساں کرنے کے واقعات کی تحقیقات کرے گا۔ پنجاب کے تمام تھانوں میں مخصوص تفتیشی افسران آر آئی یوکا حصہ ہوں گے اور یہ یونٹ صوبے کے بڑے اضلاع میں ایس پی رینک افسر کی نگرانی میں کام کرے گا۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ انویسٹی گیشن یونٹ کے پاس ڈی این اے ٹیسٹ رپورٹ جلد حاصل کرنے کے خصوصی اختیارات ہوں گے۔ ملزمان کی شناخت، گرفتاری، شواہد اور گواہوں کو تحفظ دینا تفتیشی افسران کی ذمہ داریوں میں شامل ہوگا۔ اس کے علاوہ آر آئی یو میں تعینات تفتیشی افسران دیگر ڈیوٹیوں سے آزاد ہوں گے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here