اے رب دوجہاں بیمار کی راتوں کو شفایاب سحر دے : تحریر: سیدہ رضا

0
591

ٹرانسپیرنٹ ہینڈز کی کاوشیں

تحریر: سیدہ رضا : دنیا انٹرنیشنل
(اشاعت خصوصی (پارٹ

اسلام علیکم قارئین
میں ہوں سیدہ رضا فرام دنیا انٹرنیشنل یو ایس اے اور میں ہوں ہم وطنوں کی آواز
سانس اور انسانی زندگی ایک ڈور سے بندھے ہیں‘اگر سانس چل رہا ہے تو انسان کی زندگی چل رہی ہے اور اگر سانس رک جائے تو زندگی رک جاتی ہے-قارئین کیا ہم سب نے کبھی سوچا کہ ہماری زندگی کتنی اچھی ہے؟ اچھی زندگی کس کی عطا کردہ ہے؟ یقینا خداوند کی عطا کردہ ہے اور ہم سب اس کے تابع بھی‘ہمیں عطا کی گئی نعمتوں میں اللہ کی مخلوق کا بھی حصہ ہے جو ہمارے اور آپ کے ذمہ ہے-یقینا ہم سب پاکستان اور پاکستان سے باہر کے ملکوں میں رہتے ہوئے بھی بہت اچھی زندگیاں گزار رہے ہوں گے اور ہم سب کے پاس بہترین گھر‘ پہننے کو اعلی کپڑے اور کھانے کو بہترین اشیاء میسر ہیں اور صحت کی اعلی سہولیات سے آراستہ ہم اپنی اپنی زندگیاں بہترین گزار رہے ہیں مگر ہم میں سے کتنے لوگ ہوں گے جنہوں نے مخلوق خدا کے بارے میں سوچا؟ کہ وہ لوگ بھی توہوں گے جن کے پاس یہ بنیادی سہولیات نہیں ہیں اور وہ ہمارے ہی دیس کے باسی ہیں اور ہمارے ہم وطن پاکستانی ہیں اور ان میں سے بہت سو ں کو ہماری اور آپ کی ضرورت بھی ہوگی-قارئین! رواں سال فروری 2020ء میں پاکستان کے مختصر ترین دورہ پر دنیا انٹرنیشنل کے تعاون سے ٹرانسپیرنٹ ہینڈز آرگنائزیشن کے لاہور آفس کا وزٹ کرنے کا موقع ملا تو وہاں پر آئے ہوئے مریضوں‘ڈاکٹرز و تمام ٹیم ممبران سے گفتگو کے بعد سل میں ایک خواہش سی اٹھی کہ ہم دکھی انسانیت کی آواز کو اپنے قلم کے ذریعے دنیا میں بسنے والے ہم وطنوں سے روشناس کرواؤں گی-اور آج رمیزہ معین صاحبہ سی ای اواینڈ فاؤنڈر آف ٹرانسپیرنٹ ہینڈز ان کی تما م ٹیم اور دنیا انٹرنیشنل کے تعاون سے میری خواہش اور مشن جو میں نے وطن پاکستان میں رہ جانے والے ضرورتمندوں کیلئے سوچا تھا اس کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے-قارئین! واضح کرتی چلوں کہ تمغہ ء امتیاز یافتہ رمیزہ معین نے پاکستان میں رہتے ہوئے بھی ہمیشہ غریب ونادار وضرورتمند پاکستانیوں کے بارے میں نہ صرف سوچا بلکہ عمل کرنے ہوئے اسے نہ صرف پاکستان میں ہمکنار کیا بلکہ اسے امریکہ لانے اور ہم سب پاکستانیوں کو بھی اس کاوش میں شریک ہونے کا موقع فراہم کیا-ٹرانسپیرنٹ ہینڈز 2014ء سے لیکر اب تک 25,000غریب لوگوں کی مفت سرجریز‘پروسیجرز وعلاج کروا چکی ہے اور مزید مصروف عمل ہے-
قارئین! بچے پھول کی مانند ہوتگے ہیں اور صحت مند زندگی گزارنا ان کا بنیادی حق بھی ہوتا ہے مگر کچھ بچے پیدائشی نقائص کی وجہ سے صحت مند زندگی گزارنے کا خواب اپنی آنکھوں میں لئے پھرتے ہیں -ان ہی بچوں میں ایک نام معمصوم بچی حسینہ بتول کا بھی ہے جو گلگت بلتستان کے ایک پسماندہ علاقے میں اپنے والدین اور بھائی بہنوں کے ساتھ رہائش پذیر ہے جو صحت کی بنیادی سہولیات سے محروم ہے حسینہ بتول کی والدہ کا کہنا تھا کہ میری بچی بچپن سے ہی دل کے عارضے میں مبتلا تھی اور سانس لیتے ہوئے بھی دشواری کا سامنا تھا-ہمارے حالات اچھے نہیں تھے کہ ہم اخراجات برداشت کرتے اور علاج کروانے سے قاصر تھے‘پھر ہمیں کسی نیک انسان نے ٹرانسپیرنٹ ہینڈز کے بارے میں بتایا کہ آپ ان سے رابطہ کریں کیونکہ ٹرانسپیرنٹ ہینڈز اور ان کی ویب سائٹ پر تمام مخیر حضرات بیٹی کی بیماری کو پڑھ کر اور سن کر ضرور علاج میں مدد کریں گے اور یوں ہم گلگت بلتستان سے حسینہ بتول کولے کر لاہور آگئے اور ٹرانسپیرنٹ ہینڈز سے رابطہ کیا-قارئین! ہماری مریضہ بچی کے اہل خانہ کے علاوہ ڈاکٹر احمد فواد سیامی (کنسلٹنٹ جنرل سرجن) اور ڈاکٹر سید نجم حیدر (کنسلٹنٹ پیڈیا ٹرک کارڈیالوجسٹ) سے بھی بچی کے علاج کے متعلق خصوصی گفتگو ہوئی

آئیے پڑھتے ہیں

ڈاکٹر احمد فواد سیامی (کنسلٹنٹ جنرل سرجن)ڈاکٹر احمد فواد سیامی‘ کنسلٹنٹ جنرل سرجن نے بتایا کہ تقریبا ایک سال پہلے حسینہ بتول کے والدین اس کو چیک اپ کیلئے گلگت کے کسی لوکل میڈیکل کیمپ میں لے گئے وہاں ڈاکٹر نے

FIND OUT

کیا کہ اس کا دل

ABNORMALLY HIGH

ہے تو اس نے مختلف ٹیسٹ تجویز کر دیے اور گاؤں کے مقامی ڈاکٹر

FURTHER INVESTIGATION REFER

کر دیا-حسینہ کے والد اسے فوری طور پر لاہور لے کر گئے

‘CONSULTATION

اور روٹین چیک اپ کے بعد معلوم ہوا کہ حسینہ

(PDA)

میں مبتلا ہے

PATENT DUCTUS ARTERIOSUS

جو کہ بچے کے دل کی دو بلڈ ویسلز کا

MAIN CONNECTION

ہوتا ہے‘ جب وہ ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے جو پیدائش کے فوری بعد بند ہو جاتا ہے اور اگر کھلا رہ جائے تو وہ پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے جو کہ بچی حسینہ بتول کے کیس میں تھااور اگر اسے بند کرنے کا

TREATMENT

جلد نہ کیا جائے تو یہ ہارٹ فیلئر کا بھی باعث بن جاتا ہے-اس کی نارمل کنڈیشن رکھنے کیلئے کارڈیک پروسیجر کرنا بہت ضروری ہوتا ہے-اس میں دو طرح کے

TREATMENTS

ہیں -(1) سرجیکل ے‘(2)پروسیجرل ہےتو ہم نے جو اس کیلئے تجویز کیا تھا وہ پروسیجرل تھا-(ڈاکٹر فود آپ کا بے حد شکریہ)ڈاکٹر سید نجم حیدر (کنسلٹنٹ پیڈیا ٹرک کارڈیالوجسٹ)ڈاکٹرنجم حیدر نے ہمیں بتایا کہ یہ بھی ٹرانسپیرنٹ ہینڈز کے ریفرنس سے آئی تھی مارچ 2020میں
SYMPTOMS

میں اس کو

BREATHING PROBLEM

تھی‘ہلکی پھلکی ایکٹویٹیز پر بھی سانس چڑھنے‘ پھولنے کی شکایت تھی اور

(PDA)

اس کو

DIAGNOSE

ہوا تھا اس قسم کے

CASE

میں دو طرح کی

SYMPTOMS

کے مریض آتے ہیں ایک میں

BREATHING

پرابلم اور دوسرے میں جسم پر نیلا پن ہوتا ہے جس میں فوری سرجری ضروری ہوتی ہے-ایسے کیس دو طرح سے ٹریٹمنٹ کئے جاتے ہیں

(i)

کارڈک سرجری سے

RELATED

ہیں

(ii)

کارڈک انٹروینشن جس کو ہم انجیو گرافی کہتے ہیں  اس بچی کیلئے ہم نے کارڈک انٹرویشن تجویز کیا کیونکہ تشخیص کے بعد پتہ چلا کہ اس کی ایک ایکسٹرا شریان کھلی ہوئی ہے تو ہم نے اس بچی کو سرجری سے بچانا چاہا کہ لڑکی ذات ہے سامنے سے چیرایا

CUT

لگانا‘ کیونکہ عموما بچیوں میں شادی وغیرہ کے وقت چیرایا کٹ کے نشان رہ جانے کی وجہ سے کوئی مسئلہ نہ ر ہے اور بچی ذات کو اور اس کے خاندان کو شادی میں کسی بھی قسم کے

ISSUE

سے بچانے کیلئے ہمارا مقصد سرجری سے بچاتے ہوئے علاج کرنا تھا سو اس کیلئے ہم نے کارڈک انٹرویشن تجویز کیا-تھوڑی وضاحت کرنا چاہوں گا قارئین کیلئے کہ اس قسم کے کیس

(PDA)

میں ایک ایکسٹرا شریان کھلی رہ جاتی ہے جب ماں کے پیٹ سے بچہ نکلتا ہے تو یہ خودبخود بند ہو جاتا ہے مگر کچھ بچوں میں ایسا نہیں ہوتا اور یہ بچی بھی ان ہی بچوں میں سے ایک تھی جو ہمارے پاس ٹرانسپیرنٹ ہینڈز کے ریفرنس سے علاج کی غرض سے لائی گئی تھی اور اس کے علاج کی عمر 8سال تک بہترین ہوتی ہے-اس میں اینجیو گرافی

ANGIOGRAPHY

کے ذریعے ٹانگ سے مین شریان کے

THROUGH

جاتے ہیں اور ہارٹ تک اس کو

(PLUG)

لگا کر بند کر دیتے ہیں یہ تمام عمل یا پروسیجر

(THROUGH ANGIOGRAPHY)

کرتے ہیں اس تمام پروسجر میں بچی جاگ رہی تھی ہم نے لوکل سن کر دیا تھا اور کوئی

(BLOOD LOSS)

بھی نہیں ہوا یہ 95فیصد سے 98فیصد تک

(SAFE PROCEDURE)

ہوتا ہے اب وہ بچی ماشاء اللہ صحت مند ہے-قارئین!ڈاکٹر نجم حیدر نے مزید بتایا کہ یہ ایک مہنگا علاج ہے اور پاکستان میں اس کی سہولت بہت کم ہے حتی کہ امریکہ جیسے ملک میں بھی انٹروینشن لے لیں یا سرجریخصوصا بچوں کی دل کی سرجری ایک بہت مہنگا علاج ہے-پاکستان میں اس کاتقریبا دو ہزار ڈالر کے قریب خرچ آتا ہے اور اس وقت پاکستان کی 26کروڑ عوام میں گنے چنے 30سے زیادہ

(PEDIATRIC CARDIOLOGIST)

ہیں ہی نہیں‘ اب آپ دیکھیں کہ ہمارے پاکستان میں

LIMITED SOURCES

ہیں جس میں رہتے ہوئے بھی ہمارے

LIMITED EXPERTS AND DOCTORS

کام کررہے ہیں خصوصا مارچ میں کورونا و لاک ڈاؤن کے باوجود بھی ٹرانسپیرنٹ ہینڈز کی محنت وکاوش کی وجہ سے ہم نے اس بچی کا کامیاب پروسیجر کیا-اللہ کا کرم ہونے کی وجہ سے ڈونرز کے تعاون سے اور خاص طور پر

T.HANDS

کی ہمت‘کاوش اور خلوص نیت کی وجہ سے آج یہ بچی صحت مند ہے اور اس کو دل وسانس کا کوئی ایشو نہیں ہے-الحمد اللہ (ڈاکٹر نجم حیدر آپ کا بے حد شکریہ)قارئین!ہماری گفتگو حسینہ بتول کے بڑے بھائی سے ہوئیی تو انہوں نے بتایا کہ علاج کی سہولیات ہمارے علاقے میں نہ ہونے کی وجہ سے ہم بہن کو لاہور لے کر گئے تھے وہاں ٹرانسپیرنٹ ہینڈز نے تمام علاج کا مکمل خرچہ خود اٹھایا‘لاہور کے اتفاق ہسپتال میں بہترین ڈاکٹر وعلاج پر خرچ ہونے والا کوئی پیسہ ہم سے نہ لیا ہم بہت شکر گزار ہیں -قارئین کرام! یہ تھا وہ سفر جو ایک معصوم کلی حسینہ بتول نے گلگت بلتستان سے لاہور تک ٹرانسپیرنٹ ہینڈز تک رسائی کیلئے کیا اور بیماری سے شفایابی کی امید رکھتے ہوئے اور اس سفر میں بے شمار لوگ وسیلہ بنے جو یقینا سب کے سب خدا کی جانب سے تفویض کردہ اپنے فرائض کو انجام دینے میں سینہ سپر آخری وقت تک ٹرانسپیرنٹ ہینڈز کے بازو بنے رہے-یہ تو صرف ایک کلی کے علاج کا سفر آپ سے شیئر کیا گیا‘ نہ جانے ایسی کتنی کلیاں اور پھول بیمارہوتے ہوئے میری‘آپ کی اور ہم سب کی جانب دیکھ رہی ہیں –
قارئین‘ ایک زندگی کو بچانا پوری انسانیت کی خدمت ہے-ہم وطن سے دور پردیس میں رہنے والوں پر ہمارے وطن کی مٹی کا کچھ قرض بھی ہے -اگر آپ کو اللہ نے صاحب استطاعت بنایا ہے اور آپ کے پاس ضرورت سے بڑھ کر ہے تو آگے آئیے اور میرے ساتھ مل کر رمیزہ معین اور ٹرانسپیرنٹ ہینڈز کا ساتھ دیجئے
رابطہ کیجئے
www.TransparentHands.org
3100 Clarendon Blvd Suite 200 Arlington VA 22201
Contact: +1(703)270-8387
اپنی تحریر کا اختتام قول امام علی علیہ السلام پر کرنا چاہوں گی کہ ”کسی مضطرب کی داد فریاد سننا اور مصیبت زدہ کو مصیبت سے چھٹکارا دلانا بڑے بڑے گناہوں کا کفارہ ہے اور اگر کوئی تم کو صرف اپنی ضرورت کے وقت یاد کرتا ہے تو پریشان مت ہونا بلکہ فخر کرنا کہ اس کو اندھیروں میں روشنی کی ضرورت ہے اور وہ تم ہو
اپنی فیڈ بیک ہماری ای میل پر دیجئے
سیدہ رضا: دنیا انٹرنیشنل یو ایس اے

 Email:razasyeda5@gmail.com

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here