سیاہ فاموں کے حقوق کو گوروں کی طرح یکساں تحفظ حاصل نہیں، ریسرچ میں انکشاف

0
342

لندن :___ ایم پیز اور پیئرز کی جانب سے کرائے گئے ایک پول میںانکشاف ہوا ہے کہ سیاہ فاموں کی اکثریت یہ محسوس کرتی ہے کہ انکے حقوق کا یکساں تحفظ نہیں کیا گیا۔ پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے ایک ریسرچ رپورٹ شائع کی ہے جس میں تین چوتھائی سے زائد سیاہ فام باشندے اس پر یقین نہیں رکھتے کہ ان کے حقوق کو ان کے سفید فام ساتھیوں کی طرح یکساں تحفظ فراہم کیا گیا۔ یہ ریسرچ برطانیہ میں سیاہ فاموں کے حقوق کے تحفظ کی سطح کے حوالے سے شواہد سیشن سے قبل جاری کی گئی۔ حالیہ مہینوں میں ملک بھر میں بلیک لائیوز میٹر کے مظاہروں کے بعد یہ نتائج سامنے آئے ہیں جو امریکی ریاست مینی سوٹا میں ایک سیاہ فام شخص جارج فلائیڈ کے 25 مئی کے قتل کے بعد شروع ہوئے تھے۔ ایک پولیس افسر گرفتاری کے دوران تقریباً منٹ تک فلائیڈ کی گردن کو دبوچتا رہا تھا۔ پول میں سامنے آیا کہ 75 فیصد سے زائد سیاہ فام افراد یہ محسوس کرتے ہیں کہ سفید فام شہریوں کے مقابلے میں ان کے حقوق انسانی کو یکساں تحفظ حاصل نہیں ہے جیسا کہ تعلیم،علاج، روزگار کے مواقع اور جرائم میں غیر مساویانہ برتائو شامل ہیں۔ سٹڈی میں پتہ چلا کہ نوجوانوں کے ایج گروپس کے مقابلے میں معمر افراد کو اس بارے میں زیادہ یقین ہے کہ ان کے حقوق انسانی کو مساویانہ تحفظ دیا گیا ہے۔ 30 سال سے کم عمر افراد میں سے صرف 0.2 فیصد شرکاء نے اس بیان سے پختہ اتفاق کیا کہ ان کے انسانی حقوق سفید فام افراد کے مقابلے میں اتنے ہی محفوظ ہیں۔ جواب دہندگان میں سے اکثریت یعنی 85 فیصد اس پر یقین نہیں رکھتے کہ انکے انسانی حقوق کو سفید فاموں کی طرح مساویانہ تحفظ دیا گیا ہے اور ان سے پولیس ویسا ہی برتائو کرتی ہے جیسا کہ سفید فاموں کے ساتھ۔ سیاہ فام مردوں کے مقابلے سیاہ فام خواتین میں یہ احساس چھ پوائنٹس زیادہ پایا جاتا ہے۔ جب سروے میں ان سے پوچھا گیا کہ ایسے کیا اقدامات ہو سکتے ہیں جن کے ذریعے سیاہ فام افراد کے حقوق کے تحفظ پر مثبت اثرات پڑ سکتے ہیں۔ اسکے جواب میں مقبول ترین تجویز فیصلہ سازی کے کرداروں میں زیادہ تعداد میں سیاہ فام رہنماوں کی موجودگی تھی جیسا کہ ایم پیز کونسلرز کی حیثیت سے خدامات کی انجام دہی، سکول گورننگ بورڈز اور کمپنی کے چیف ایگزیکٹوز جیسے کرداروں پر سیاہ فلام افراد کو زیادہ مواقع دیئے جائیں، دوسری مقبول ترین تجویز بلیک اکانومی کو زیادہ سپورٹ کی فراہمی تھی جس میں سیاہ فام ملکیت والے کاروباروں سے زیادہ خریداری انویسٹمنٹ فنڈز اور قرضوں تک رسائی میں رکاوٹوں کو دور کرنا شامل ہے۔ تیسری تجویز سیاہ فام افراد کیلئے مساوی تعلیم کے مواقع تھے جبکہ دوسرے آئیڈیاز میں سیاست میں زیادہ شمولیت، بہتر سیاسی تعلیم کے ساتھ، سیاہ فام حقوق کی حمایت میں زیادہ مظاہرے اور سیاہ فام لوگوں کو انتخابات میں زیادہ تناسب سے ووٹ ڈالنے کی ترغیب دینا شامل ہے۔ یہ سروے 29 جولائی سے 12 اگست تک کیا گیا جس میں 16 سال سے زائد عمر کے 515 سیاہ فام افراد نے انٹرویوز کے دوران جوابات فراہم کئے۔ پولسٹر کلیئر ویو ریسرچ نے بتایا کہ اکثریت 61 فیصد افراد کا تعلق گریٹر لندن کے علاقے سے تھا۔ ویلز سے تین فیصد سکاٹ لینڈ سے ایک فیصد جبکہ ناردرن آئرلینڈ سے کوئی نہیں تھا۔ پارلیمنٹ کی حقوق انسانی سے متعلق مشترکہ کمیٹی کلیئر ویو سروے کے نتائج کو سننے کیلئے تیار ہے جس میں منیجنگ ڈائریکٹر اور شریک بانی کینی ایمافیڈن بھی شامل ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here