منظّم منصوبہ بندی کے تحت ملک کو فرقہ وارانہ تصادم کی طرف دھکیلا جا رہا ہے” مفتی منیب الرحمن

0
375

تحریر : ڈاکٹر علامہ لیاقت حسین

منظّم منصوبہ بندی کے تحت ملک کو فرقہ وارانہ تصادم کی طرف دھکیلا جا رہا ہے  اس تباہ کن سازش کے سرپرست وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے اندر موجود ہیں مفتی منیب الرحمن نے ممتاز علمائے اہلسنت اور تاجر برادری کی نمائندہ شخصیات کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا
’’ہم نے 29جولائی کو اسی ہال میں پریس کانفرنس کر کے قومی سلامتی کے اداروں کو نہایت دردِ دل کے ساتھ متوجہ کیا تھا کہ ملک کو کسی داخلی یا بین الاقوامی سازش کے تحت فرقہ ورانہ تصادم کی طرف دھکیلا جارہا ہے ، لیکن ہمیں افسوس ہے کہ ہماری گزارشات پر توجہ نہیں دی گئی ۔ چنانچہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت تسلسل کے ساتھ عام مجالس میں صحابہ کرام کی توہین کا گستاخانہ اور مجرمانہ سلسلہ نہ صرف جاری ہے بلکہ اس کی شدت میں اضافہ ہوگیا ہے ،اس کے محرّکات غیر ملکی بھی ہوسکتے ہیں اورملک کے اندر بھی کوئی ایسی طاقت ہے جو مجرموں کو تحفظ دے رہی ہے، ایک مجرم کو توراتوں رات برطانیہ بھیج دیا گیا ہے ،لوگ بعض وفاقی اور صوبائی وزرا کی طرف انگلیاں اٹھارہے ہیں اور ہمیں اس میں کوئی نہ کوئی صداقت نظر آرہی ہے۔ چنانچہ اسلام آباد میں بھری مجلس میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی تکفیر کی بات کی گئی اور کراچی میں نمازِ ظہرین کے بعد لائوڈ اسپیکر پر صحابہ کرام پر لعن طعن کی گئی ،جو سوشل میڈیا اور بعض چینلز پر براہِ راست نشر ہوئی ، پاکستان کی تاریخ میں ماضی میں ایسی ناپاک جسارت کرنے کی کسی کوہمت نہیں ہوئی۔ ناموسِ الوہیت جَلَّ وَعَلَا ،ناموسِ رسالت مآب صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہِ وَسَلَّمْ ، ناموسِ اہلبیتِ اطہاروناموسِ صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ عَلَیْھِمْ اَجْمَعِیْن اور ناموسِ مقدّساتِ دین کی حرمت کا تحفظ ہر مسلمان کے ایمان کا لازمی تقاضا ہے ۔ایک طرف اتحاد، اخوت اور رواداری کے پیغامات دیے جائیں اور دوسری طرف زبانوں سے نفرت اور فتنہ انگیزی کے شعلے اگلے جائیں ، اب یہ منافقت نہیں چل پائے گی۔ وزیرِ اعظم کی ذمے داری ہے کہ اپنی صفوں کا جائزہ لیں اور پتاچلائیں کہ ملک کو فرقہ واریت کی آگ میں جھونکنے کے لیے حکومت کی صفوں میں موجود کون سے عناصر مصروفِ عمل ہیں۔ ہم ایک بار پھر وزیرِ اعظم پاکستان اور چیف آف آرمی اسٹاف کو براہِ راست متوجہ کر رہے ہیں کہ صورتِ حال ناقابلِ برداشت ہوگئی ہے۔ اگر فوری تدارک نہ کیا گیا تو پہلے مرحلے پر ہم کراچی میں تاریخ کی سب سے بڑی پرامن ریلی کا اہتمام کریں گے اور اس کے بعد آئندہ لائحہ عمل کے بارے میں اتفاقِ رائے سے فیصلہ کیا جائے گا،ان شاء اللہ تعالیٰ۔ اب بھی ہماری خواہش ہے کہ سیاسی اور دفاعی قیادت ایکشن میں آئے اور اس کے اقدامات ہر ایک کو نظر آئیں، ہمارا ملک کسی بے امنی اور انتشار کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ ہماری سرحدوں کے چاروں طرف کی صورتِ حال انتہائی حساس ہے ، جب پرامن رویوں کو نظر انداز کردیا جائے ، امن پسندی کوکمزوری سمجھا جائے تو پھر لوگوں کے پاس احتجاج کے لیے سڑکوں پر آنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا، ہم نہیں چاہتے کہ ملک دشمن قوتیں اور سیاسی عناصر اس مذہبی بے چینی سے فائدہ اٹھاکر اسے اپنے حق میں استعمال کریں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here