جہلم میں پاکستان کا پہلا صنعتی بایوٹیکنالوجی پارک قائم کیا جائے گا

0
410

اسلام آباد: پاکستان کا پہلا صنعتی بایوٹیکنالوجی پارک جہلم میں قائم کیا جارہا ہے۔ اس کے قیام سے روزگار کے نئے مواقع ملیں گے اور برآمدات میں اضافہ بھی ہوگا۔ 

کامسیٹس نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے ملکی ترقیاتی ویژن اور جمہوریہ چین کے روڈ اینڈ بیلٹ منصوبےکے تناظر میں پاکستان کے پہلے صنعتی بائیو ٹیکنالوجی پارک کی تکمیل کے لیے کام کی رفتار کو دوگنا کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے جامع لائحہ عمل وضع کرلیا ہے۔کامسیٹس کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ڈاکٹر، ایس ایم جنید زیدی نے اس ضمن میں میڈیا کو بتایا کہ حال ہی میں منعقد ہونے والے ایک اعلی سطحی اجلاس میں صدر مملکت اور وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی چوہدری فواد حسین نے جہلم میں قائم ہونے والے پاکستان کے پہلے بائیو ٹیکنالوجی پارک کو مقررہ مدت میں مکمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ اس کے لیے کامسیٹس نے ایک جامع لائحہ عمل کے خدوخال کومکمل کرلیاہےتاکہ کام کی رفتار کو بلاتعطل آگے بڑھایا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی ترقی میں بائیوٹیکنالوجی ہربل میڈیسن پارک کا کردار عصر حاضر میں ماضی کی نسبت کہیں زیادہ اہمیت اختیارکرچکا  ہے۔ گذشتہ سال جولائی میں اس جدید ترین بائیو ٹیکنالوجی پارک کے قیام کے فیصلے کااعلان ہوا تھا، یہ پارک  جمہوریہ چین کے روڈ اینڈ بیلٹ منصوبے کا حصہ ہے۔ مفاہمت کی ایک یادداشت کے تحت کامسیٹس نے جہلم میں ٹارچ ہائی ٹیک انڈسٹری ڈویلپمنٹ سنٹراور ٹی آئی بی(تیاآنجن انسٹی ٹیوٹ آف انڈسٹریل بائیو ٹیکنالوجی) کے تعاون سے پاکستان کے اس پہلےبائیوٹیکنالوجی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک کے قیام میں اپنی معاونت فراہم کر گا۔اس منصوبے کے لیےحکومت پاکستان اور وزارت سائنس اینڈٹیکنالوجی کامسیٹس کوہر طرح کی سہولیات فراہم کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ کامسیٹس ایک بین الاقوامی تنظیم ہےجوجنوبی خطے میں پائیدار ترقی کے لیے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کمیشن کی شکل میں کام کررہی ہے اور اس کا ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں ہے ،جب کہ چین اس تنظیم کے بانی اراکین میں شامل ہے، جوترقی پذیر ممالک کی معاشرتی اور معاشی ترقی میں مدد فراہم کرنے کے لیے سائنس اور ٹیکنالوجی کے مختلف شعبوں میں بھرپور تعاون فراہم کر رہا ہے۔  انہوں نے کہاکہ پاکستان کو زراعت کی ترقی کےلیے جدید ترین ٹیکنالوجی خصوصاً بایو ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانا ہوگا،کیوں کہ زرعی بائیو ٹیکنالوجی میں ترقی ہی تجارتی محرکات کو فروغ دینے کا باعث بنتی ہے،اس لیے وزارت سائنس وٹیکنالوجی کی یہ اولین ترجیح میں شامل ہے۔کامسیٹس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر ایس ایم جنید زیدی نے وزارت سائنس وٹیکنالوجی، چین میں پاکستانی سفارت خانے اور پاکستان میں چینی سفارت خانے کے کےاقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ تحقیق اور ترقی کے منصوبوں کو ملک کی سماجی و معاشی ضرورتوں کے مطابق ڈھالنے سے ہی اقوام متحدہ کے ترقیاتی اہداف حاصل کئےجاسکتے ہیں۔اس جدید بائیوٹیکنالوجی پارک کے قیام کا بنیادی مقصد سائنسی مقالہ جات اور تحقیق کو فروغ دینا ہےتاکہ وہ طالب علم جو سائنس اور ٹیکنالوجی سے متعلق جدید سہولیات حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ اپنی سائنسی تحقیق اور صلاحیتوں کو مقامی سطح پر نکھار سکیں۔ڈاکٹر ایس ایم جنیدزیدی نے مزید بتایا کہ گذشتہ سال بین الاقوامی سائنس تنظیموں کے اتحاد (اے این ایس او)کی کامسیٹس نے رکنیت حاصل کی ہے ،جو ایک بین الاقوامی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے متعلق ایک فعال غیر سرکاری تنظیم ہے اوریہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو پر قومی سائنسی تنظیموں کا پہلا بین الاقوامی سائنسی فورم بھی ہے۔ اس کا مقصد مشترکہ تحقیق اور صلاحیتوں کوآگے بڑھانا ہے۔اس سلسلے میں مشترکہ تحقیقی منصوبوں کے لئے مختلف تجاویز دی گئی تھیں جن میں کامسیٹس کےسینٹرز آف ایکسی لینس کے قیام کی تجویز بھی شامل ہے۔ حال ہی میں کامسیٹس نے مصنوعی ذہانت ، ماحولیاتی امور ، رسک مینجمنٹ ، ریاضی اورباہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون کے لیے ، چین کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط بھی کیےہیں۔ اس مفاہمت کی یادداشت کے تحت ماحولیاتی معاشیات( اکنامکس) سے متعلق چین کی سائنس اکیڈمی برائے سائنس وٹیکنالوجی کے ساتھ کمپیوٹر پر مبنی نظام ، گرین سپلائی چین کی فراہمی ممکن ہو سکے گی

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here