وزیر اعظم کی سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق خواتین قیدیوں کی رہائی کی ہدایت

0
168

وزیر اعظم عمران خان نے جیلوں میں موجود زیر ٹرائل اور سزا یافتہ خواتین قیدیوں کی سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق فوری رہائی کے لیے ہدایات جاری کر دیں۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ میں عمران خان نے کہا کہ انہوں نے یہ ہدایات وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری، اٹارنی جنرل اور بیرسٹر علی ظفر سے ملاقات کے بعد جاری کیں۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم نامہ 2020/299 پر فوری عملدرآمد کی ہدایت کی تاکہ زیر ٹرائل خواتین قیدیوں اور ایسی سزا یافتہ خواتین جو سپریم کورٹ کے حکم کے تحت رہائی کے لیے اہل قرار پائیں انہیں رہا کیا جا سکے۔ وزیر اعظم نے سزائے موت پانے والی خواتین قیدیوں کی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہائی اور غیر ملکی خواتین قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے بھی رپورٹس فوری طور پر طلب کر لی ہیں۔

وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے وزیر اعظم نے فیصلے کو سراہتے ہوئے اسے ‘قیدیوں سے ہمدردی اور انسانی حقوق کی طرف بڑا قدم قرار’ دیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعطم نے وزارت انسانی حقوق کو قیدیوں سے متعلق اصلاحات پر عملدرآمد کے لیے مکمل ٹائم لائن فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔ شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ ‘یہ صرف آغاز ہے، وزیر اعطم نے قیدیوں سے متعلق اصلاحات پر عملدرآمد کے لیے مکمل ٹائم لائن مانگی ہے، جیل اصلاحات سے متعلق ہماری رپورٹ تیار ہے اور اب بیرسٹر علی ظفر کے ساتھ اس پر عملدرآمد کی ٹائم لائن تیار کرنے جارہے ہیں۔’

واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے اپریل کے اس عبوری حکم کا حوالہ دیا جس میں عدالت عظمیٰ نے حکومت نے مندرجہ ذیل کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا

  • وہ قیدی جو کسی جسمانی یا ذہنی بیماری کا شکار ہوں۔
  • وہ زیر ٹرائل قیدی جن کی عمر 55 سال یا زائد ہو۔
  • زیر ٹرائل وہ مرد قیدی جو ماضی میں سزا یافتہ نہ رہے ہوں۔
  • خواتین اور کم عمر قیدی

خیال رہے کہ اپریل میں سپریم کورٹ نے ہائی کورٹس سے قیدیوں کی رہائی سے متعلق اٹارنی جنرل خالد جاوید خان کی پیش کردہ سفارشات کو تسلیم کرتے ہوئے سندھ، اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے قیدیوں کی رہائی کے فیصلے کالعدم قرار دے دیے تھے۔ساتھ ہی عدالت عظمیٰ نے ہائی کورٹس سے رہا ہونے والے تمام قیدیوں کو دوبارہ گرفتار کرنے کا بھی حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں فوری گرفتار کیا جائے۔تاہم سپریم کورٹ نے حکومت کو مندرجہ بالا افراد کی رہائی کی اجازت دے دی تھی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here