جو چیز سب سے زیادہ جنت میں داخل کرے گی وہ اللہ تعالی کا ڈر اور اچھا اخلاق ہے”تحریر : سیدہ رضا

0
1112

دعا

یا اللہ میری ہر صبح کا آغاز میری محنت‘تیری رحمت‘ میری حرکت‘تیری برکت اور ہر شام کا اختتام میری توبہ اور تیری قبولیت پر ہو-آمین
تحریر : سیدہ رضا

ارشاد نبوی

ایک شخص نے پوچھا کہ اللہ کے رسول اسلام کسے کہتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: اسلام یہ ہے کہ تیرا دل اللہ کیلئے فرمانبردار ہو جائے اور دوسرے مسلمان تمہارے ہاتھ اور زبان سے محفوظ رہیں
(مسند احمد: 17027)
ارشاد نبوی ہے کہ مومن وہ ہوتا ہے جس کا اپنا نفس خواہ وہ تنگی میں ہو لیکن دوسرے لوگ اس سے راحت میں ہوں -جو چیز سب سے زیادہ جنت میں داخل کرے گی وہ اللہ تعالی کا ڈر اور اچھا اخلاق ہے-(ترمذی2004)اورمیری امت کو خدا وند عالم ہدایت کے سوا کسی اور بات پر جمع نہیں کرتا‘ہمیشہ اتحاد کا ساتھ دو کیونکہ اللہ کا ہاتھ اتحاد کے ساتھ ہے
(میزان حکمت جلد 2ص 123)
ارشاد امام علی علیہ السلام انسان کی قدروقیمت اس کی عقل سے ہے نہ کہ اس کی شکل وصورت سے-اس کی ہمت وکوشش سے اس کا معیار جانا جاتا ہے نہ کہ اس کے جمع کردہ مال ودولت سے-مجھے تعجب ہے اس شخص پر جو اپنی کھوئیی ہوئی چیز تو ڈھونڈتا ہے مگر اپنے آپ کو کھو کر بھی تلاش نہیں کرتا
(غرر الحکم ح6266)
جو ذات رات کو درختوں پر بیٹھے پرندوں کو نیند میں کبھی گرنے نہیں دیتی وہ ذات انسان کو کیسے بے یارومددگار چھوڑ سکتی ہے-(حضرت علیؑ)تھوڑا دینے سے شرماؤ نہیں کیونکہ خالی ہاتھ لوٹانا اس سے بھی گری ہوئی بات ہے-(نہج الاغی حکمت 67)مولاعلیؑ نے فرمایا: لوگ دو طرح کے ہیں ایک سخی لیکن ان کے پاس پیسہ نہیں ہوتا‘دوسرے مالدار مگر وہ کسی کی حاجت روائی نہیں کرتے
(اقوال علی ص 42)
یہ ممکن نہیں ہے کہ خداوند دعا کا دروازہ کھلا رکھے لیکن قبولیت کا دروازہ بند کردے
(میزان الحکمت باب دعا)

اسلام علیکم

ہمیشہ کی طرح ہماری بھرپور محنت‘لگن اور کاوشوں کے ساتھ خواتین ایڈیشن آپ کے سامنے حاضر خدمت ہے-خدا کرے کہ آپ کی زندگی میں ہزاروں خوشگوار صبحیں طوح ہوں  اور اللہ تعالی آپ کو ہر اس چیز سے نوازے جس میں خیر وبرکت‘ عزت‘ راحت اور سکون ہو -آمین
قارئین مولا علی علیہ السلام کا قول ہے کہ ”اگر تمہارے پاس تھوڑا سا بھی علم ہے تو اسے پھیلاؤ“ تو میرا لکھنے کا سفر عزم وحوصلے کے ساتھ جاری وساری ہے اور اگر دنیا کے کسیی بھی کونے میں بیٹھے ہوئے انسان کی تشنہ سیرابی میرے قلم کے ذریعے ہوتی ہے تو یوں سمجھئے کہ میرے لکھنے کا پھل خدا کی بابرکت ذات کی جانب سے مل رہا ہے-ہمیں ہر ہفتے ملنے والی ای میلز ماری تحریروں کی پسندیدگی کا واضح ثبوت ہے امریکہ میں ”خواتین ایڈیشن“ کی اشاعت کا سلسلہ سب سے پہلے ”دنیا انٹرنیشنل“ میں شروع کیا گیا جس کا سہرا ”چیف ایڈیٹر زاہد حسین“کے سر ہے جن کی سرپرستی میں ہم اس صفحے پر روز بروز نئی جدت وتبدیلی کے ساتھ آپ قارئین کیلئے اصلاح معاشرہ کے لیے پردیس میں رہنے والے پاکستانیوں کے سماجی مسائل اجاگر کرنے کیلئے تمام ٹیم ممبران کے تعاون سے اپنے کام میں مصروف عمل ہے- نہ صرف خواتین بلکہ مردحضرات کی جانب سے بھی اس صفحے کو بغور دلچسپی سے پڑھا جا رہا ہے
خواتین یہ صفحہ خاص طور پر آپ کیلئے ہے
آپ کی رائے اور تجاویز ہمیشہ ہمارے لیے مشعل راہ ثابت ہوں گی-اگر آپ کسی مسئلے کی نشاندہی کرنا چاہیں تو اس صفحے کے ذریعے ہم آپ کی آواز دوسروں تک پہنچائیں گے ہمیں لکھئے
ہمیشہ کی طرح دعا گو اور زندگی کی امید کے سا تھ سیدہ رضا دنیا انٹرنیشنل
razasyeda5@gmail.com
میری ڈائری…شکر خداوندی
”ارشاد خداوندی ہے کہ میں جو نعمت تمہیں عطا کرتا ہوں اس نعمت پر میرا شکر بجا لاؤ گے تو میں وہ نعمت اور بڑھا دوں گا“
اللہ کچھ نعمتیں دے کر اپنے بندے کو آزماتا ہے اور کچھ نعمتیں واپس لے کر آزماتا ہے -یہ اپنا اپنا ظرف ہوتا ہے کہ وہ اس حکمت خداوندی سے کس طرح نبردآزما ہوتا ہے-آج اپنی ڈائری کا ورق لکھنے بیٹھی تو گزرے سال کی تاریخ اس یادگار دن کی تھی جس کے ذہن میں آتے ہی کچھ یادیں اور کچھ نقش یادرفتگان کی طرح امڈتی چلیی آئیں -امریکہ آمد‘نشیب وفراز زندگی‘ جہد مسلسل‘اپنے پرائے کی تمیز‘ وقت سے سمجھوتہ‘شخصیت میں بلا کی خود اعتمادی‘زمانے کی چالبازیاں‘رنگ ڈھنگ اور سب سے بڑھ کر زندگی کی قدرو قیمت سب ایک کے بعد ایک کر کے ذہن میں بہت کچھ یاد دلا گئے آج تاریخ اس یادگار دن کی تھی جس میں امریکی شہریت(سٹیزن شپ)ملی تھی‘ وقت کتنی تیزی سے سرک گیا معلوم ہی نہ ہوا-گزرا وقت جہاں خوشگواریت کا احساس دلاتا ہے وہاں بہت سے ملے زخم وصدمے ہرے کر جاتا ہے جو ناگہانی وقدرت کی طرف سے آئے اور بہت کچھ بہالے گئے چھوڑا تو صرف عزم‘ ٹوٹے حوصلے‘ڈٹی  چٹان اور بہادری وخوداعتمادی سے بھرپور وجود- اللہ تعالی نے جو کچھ بھی مجھے عطا فرمایا ہے وہ میرا حق ہنیں بنتا تھا بلکہ یہ اس کا فضل وکرم اور خاص مہربانی ہے کہ اس نے مجھے ایک جیتا جاگتا اور زندہ وجود عطا فرمایا اور زندہ وجود کی عظیم نعمت عطا کرنے کے بعد اس نے مجھے انسانوں میں سے اپنی بہترین مخلوق اور اپنے پیارے حبیب حضرت محمدصلی اللہ وعلیہ وسلم کی امت سے قرار دیا- امت محمد ہونا میرے لیے اتنا بڑا اعزاز ہے کہ اس سے بلند ترکوئی اور شرف نہیں ہے-میں ذات باری تعالی کا صدشکر ادا کرتی ہوں کہ اس نے مجھے اس لائق سمجھا اور توفیق دی کہ میں اس کی مخلوق کیلئے کچھ کر سکوں -یہی وجہ ہے کہ میں اپنی ذات سے نکل ر اللہ کی مخلوق کے بارے میں سوچتے ہوئے اپنے قلم کو دائرہ تحریر میں لاتی ہوں –
صدشکر اور صد احسان ہے ان لوگوں کا جن کے دلوں میں اللہ نے میرے لیے نرم گوشہ ڈالا اور میں ان ہی کے وسیلے سے مخلوق خدا کی خدمت کرنے کی کوششوں میں شب وروز مصروف ہوں ورنہ قلم کی بجائے میں سوچ کی طاقت بھی نہ رکھ سکتی تھی اگر
میرے رب کی ذات کا مجھ پر کرم نہ ہوتا-
تسبیح حضرت سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا
قارئین!روایات میں ہے کہ حضرت سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا کو جب کام کاج میں دقت محسوس ہوئی تھی تو آپ نے اپنے والد رسول خداؐسے ایک کنیز طلب کی جس پر حضور ؐنے ارشاد فرمایا کہ اے سیدہ فاطمہ سلام اللہ علہیا میں تم کو ایسی چیز تعلیم کرتا ہوں جو کنیز سے بہتر ہے-
وہ یہ ہے کہ 34مرتبہ اللہ اکبر‘33مرتبہ الحمد اللہ اور 33مرتبہ سبحان اللہ پڑھا کرو-
بعض کتب میں تسبیح حضرت سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا کی یہ شان نزول اس طرح بیان کی ہوئی ہے کہ جب لوگوں نے سیدہ فاطمہؑ سے عقد کی خواستگاری کی تو حضرت نبی کریمؐ نے یہ جواب دیا کہ آج کی شب جس کے گھر میں ستارہ اترے گا اس سے سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا کا عقد کیا جائے گا-یہ خبر مدینے میں پھیل گئی اور وہ رات عجیب چہل پہل میں گزری سب لوگ انتظار میں جاگتے رہے کہ قریب سحر ایک ستارہ آسمان سے زمین پر اترتا ہوا دکھائی دیا حضرت سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا نے جب ستارہ کو آسمان سے اترتے ہوئے دیکھا تو آپ کی زبان اطہر سے نکلا ”اللہ اکبر“ آپ یہ ورد زبان فرماتی رہیں یہاں تک کہ ستارہ خانہ علیؑ پر نازل ہوا اور ساکن رہا اور آپ سلام اللہ علیہا کی زبان مبارک سے ”الحمد اللہ“ کہا گیا اور حالت واپسی پر ستارہ نے عرش کی جنب رجوع کیا تو آپؑ کی زبان مبارک سے سبحان اللہ جاری ہوا-آپ کا یہی عمل تسبیح فاطمہ سلام اللہ علیہا کے نام سے موسوم ہوا-
بلیک بیریز پوٹا شیم کا بھرپور خزانہ
قارئین! پھل قدرت کا انمول تحفہ ہیں جو بیش بہا خصوصیات کے حامل ہیں -صحت کا خزانہ اور اانسانی زندگی کی صحت وتندرستی کے ضامن بھی-ہم امریکہ میں مقیم پاکستانی جہاں بہت سے رسیلے پھلوں سے محروم ہیں جیسے پاکستانی آم‘امرود‘فالسہ‘ جامن‘شہتوت‘ لچی‘ بیر‘لوکاٹ اور خوبانی وغیرہ تو اس کے برعکس امریکہ میں پائے جانے والے بے شمار پھلوں کے ذائقے سے بھی لطف اندوز بھی ہیں جیسے آج کل موسم گرما کے آغاز میں بیریز ہر طرف ہیں -سٹرابریز‘بلو بیریز‘ چیریز اور بلیک بیریز-
آج میری تحریر میں بلیک بیریز کی افادیت پر روشنی ڈالی جارہی ہے جو پوٹاشیم کا بھرپور خزانہ ہیں -سیاہ گودے وکٹھے میٹھے ذائقہ والی بلیک بیریز پوٹاشیم سے بھرپور ہیں -کٹھی اور رسیلی بلیک بیریز کو دنیا بھر کے ماہر غذائیت”سپر فوڈ“ کی فہرست میں شامل کرتے ہیں -بلیک بیریز میں موجود غذائی اجزاء اور مفید مرکبات کا ذخیرہ اپنے اندر بے شمار فوائد سموئے ہوئے ہیں جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں –
بلیک بیریز ذہنی صحت وذہنی کارکردگی اور بہترین یادداشت میں اہم کردار ادا کرتی ہے
بلیک بیریز فائبر کا ذخیرہ ہے جو قبض میں فائدہ مند‘وزن گھٹانے میں اور وقت بے وقت کھانے میں بھی معاون ہے-
بلیک بیریز میں موجود میگنشیئم کی موجودگی خون کا دورانیہ بہتر بنانے اور دل کی دھڑکنوں کی بے قاعدگی دور کرنے میں مددگار ہوتی ہے کیونکہ اس میں شامل ANTHOCYANIN جیسے FLAVONOIDS دل کی شریانوں میں ہونے والی تنگی سے بچاتی ہیں -بلیک بیریز میں وٹامن Kکی وافر مقدار زخموں اور چوٹوں کے سبب نکلنے والے خون کو روکنے اور خون جمانے میں بھی معاون ہوتی ہیں -جدید تحقیق کے مطابق بلیک بیریز میں کیلشیئم کی خاص مقدار پائی جاتی ہے جو ہڈیوں میں (OSTEOPOROSIS)جیسے عمل کو پھیلنے سے بچانے میں  اہم کرداربھی ادا کرتی ہے اور فاسفورس کی وجہ سے کیلشیئم کو جسم میں متحرک رکھ کر ہڈیوں کی مضبوطی میں مدد دیتی ہے-بلیک بیریز میں BIOFLAVONOIDS اور وٹامن C کے وافر مقدار قوت مدافعت بہتر بنانے میں اور مختلف انفیکشنز اور بیماریوں سے محفوظ رکھنے میں اہم کردار بھی ادا کرنے کاباعث ہے-
قارئین! قدرت کے پیدا کردہ ہر پھل میں افادیت ہے -موسم کا ہر پھل خدا کی نعمت اور فائدے سے بھرپور ہے اسے موسم کے مطابق ضرور استعمال کیجئے چاہے پسند ہو یا نہ ہو-دنیا کے ہر ملک میں پھلوں کی منفرد اقسام موجود ہیں انہیں اپنی خوراک میں لازمی شامل کیجئے اور بھرپور فائدہ و لطف اٹھائیے-

دنیا اور ہمارے اعمال

انسان اشرف المخلوقات ہے-اللہ تعالیٰ نے اسے دنیا میں سب سے افضل مخلوق بنا کر بھیجا- اگر غور کیا جائے تو انسان تین چیزوں سے عبارت ہے جیسے جسم‘روح اور ضمیر- انسان جو عمر لے کر دنیا میں پیدا ہوتا ہے وہ اس کا مقدر ہوتا ہے‘ کوئی بھی اس مقدر سے زیادہ نہیں جی سکتا-ابھی تک عمر ناپنے کا کوئی بھی پیمانہ نہیں بن سکا اس لیے آخرت کے سفر کیلئے انسان کو ہر وقت تیار رہنا چاہئے-اب یہ ہم انسانوں پر منحصر ہے کہ ہم اپنی زندگی کو اچھائیوں میں گزاریں یا پھر برائیوں میں انسانی عقل بھی یہی درس دیتی ہے کہ ہمیں جو بھی زندگی میں عمر میسر ہوتی ہے اسے ہم اچھے اعمال میں صرف کریں -دنیا میں اللہ تعالیٰ سب کو نیک پیدا کرتا ہے نیک انسان ہر جگہ ہوتے ہیں لیکن یہ حالات اور اعمال ہوتے ہیں جو اسے بدی کی طرف دھکیلتے ہیں –
رسول خد اؐنے فرمایا! ”دنیا دار کی مثال اس مسافر کی جیتی ہے جو پانی میں چل رہا ہو اور چاہے کہ اس کے پیر نہ بھیگیں -“یعنی دنیاایک سرائے ہے جس میں ہم سب کچھ دیر قیام کرنے کو رکے ہیں اور پھر آگے بڑھ جانا ہے یا اگر سوچا جائے کہ دنیا ایک خواب میں ملی دولت ہے اور جب آنکھ کھلے گی تو دولت غائب یعنی ہماری آنکھ تب کھلتی ہے جب آنکھیں بند ہو جاتی ہیں -ہمارے اعمال ہی ہماری عاقبت کو سنوارنے کا سبب بنیں گے-اگر نیک اعمال کئے جائیں گے تو وہ ہی آخرت میں ہماری نجات کا ذریعہ بنیں گے-
زمانہء طالب علمی میں میری ایک استاد نے ”ہمارے اعمال“ پر لیکچر دیتے ہوئے ایک کہانی سے وضاحت بیان کی تھی جو آج بھی میرے ذہن اور میرے دل پر نقش ہے اور میری زندگی میں بڑھتا ہوا ہر قدم اس کہانی کی بدولت میری رہنمائی کرنے میں معاون ہوتاہے-
آج میں وہ ہی کہانی آپ سے شیئر کررہی ہوں اگر چاہیں تو پڑھنے کے بعد مجھ سے ضرور ڈسکس کیجئے گا کہ آیا اس کہانی نے آپ کے اوپر بھی کوئی نقش ثبت کیا یا نہیں؟
وہ کہانی کچھ یوں ہے کہ ایک دن ایک بادشاہ نے اپنے تین وزراء کو دربار میں بھلایا اور تینوں کو حکم دیا کہ وہ ایک ایک تھیلا لے کر باغ میں جائیں اور وہاں سے بادشاہ کیلئے مختلف اچھے اچھے پھل جمع کریں وزیروں نے بادشاہ کے اس عجیب وغریب حکم پر حیرانی کا اظہار کیا اور وہ تینوں ایک ایک تھیلا لے کر ایک باغ میں گئے پہلے وزیر نے کوشش کی کہ بادشاہ کیلئے اس کی پسند کے پھل جمع کرے اس نے کافی محنت سے بادشاہ کی پسند کے مزیدار پھل اکٹھے کر کے تھیلا بھر لیا- دوسرے وزیر نے خیال کیا کہ بادشاہ ایک ایک پھل کا خود تو جائزہ نہیں لے گا کہ کیسے ہیں اور نہ ہی پھلوں میں فرق دیکھے گا اس لیے اس نے بغیر فرق کئے ہر قسم کے گلے سڑے پھلوں سے اپنا تھیلا بھر لیا- تیسرے وزیر نے سوچا کہ بادشاہ ایک ایک پھل کا جائزہ تو لے گا نہیں اس لیے اس نے ہر قسم کی گھاس بھوس اور پتوں سے تھیلا بھر لیا اور محنت سے بچ کر وقت بچا لیا- دوسرے دن بادشاہ نے تینوں وزراء کو اپنے تھیلوں سمیت دربار میں حاضر ہونے کا حکم دیاجب تینوں وزیر دربار میں حاضر ہوئے تو بادشاہ نے تھیلے کھول کر بھی نہ دیکھے اور حکم دیا کہ تینوں کو ان کے تھیلوں سمیت ایک ماہ کیلئے دور دراز جیل میں قید کردو-اب اس دور دراز جیل میں تینوں کے پاس کھانے پینے کیلئے کچھ نہیں  تھا سوائے اس تھیلے کے جو انہوں نے جمع کیا تھا-اب پہلا وزیر جسن ے اچھے اچھے پھل چن کر جمع کئے تھے وہ مزے سے اپنے انہی پھلوں پر گزارہ کرتارہا یہاں تک کہ ایک ماہ باآسانی گزر گیا اب دوسرے وزیر کاحال سنئے  جس نے بغیر دیکھے کچے پکے اور گلے سزے پھل جمع کئے تھے اس کو بڑی مشکل پیش آئی کچھ دن تو تازہ پھل کھالئے لیکن پھر کچے اور گلے سڑے پھل کھانے پڑے جس سے وہ بیمار ہو گیا- اور تیسرا وزیر جس نے اپنے تھیلے میں صرف گھاس بھوس ہی جمع کی تھی وہ کچھ دن بعد ہی بھوک سے مر گیاکیونکہ اس کے پاس گھاس بھوس کے علاوہ کچھ نہ تھا-
آپ سب اب اپنے آپ سے پوچھئے؟
آپ دنیا میں کیا جمع کررہے ہیں؟
مال ودولت کن طریقوں سے حاصل کررہے ہیں؟
آپ کی اولاد کس ماحول میں پروان چڑھ رہی ہے؟
کیا آپ حلال اور حرام میں فرق جانتے ہیں؟
کیا آپ نے آخرت کیلئے کچھ زاد راہ اکٹھا کیا ہے؟
اپنے آپ کو کچھ دیر کیلئے اس باغ میں تصور کریں جہاں سے آپ چاہیں تو نیک اعمال اپنے لیے جمع کریں اور چاہیں تو برے اعمال-
مگر جب تمام دنیا کے بادشاہ خدا کا حکم صادر ہو گا تو آپ کو اپنی جیل (قبر)میں ڈال دیا جائے گا اور وہاں آپ اکیلے ہوں گے جہاں آپ کے ساتھ صرف آپ کے اعمال ہوں گے اور اعمال کی تھیلی میں وہی کچھ ہو گا جس آپ نے اس میں جمع کیا ہوگا اور وہی قبر میں آپ کی مدد کرے گا- تو آئیے آج سے میرے ساتھ مل کر تھوڑی سی محنت کر کے اچھی  اچھی چیزیں یعنی نیک اعمال جمع کرنے شروع کر دیں تاکہ دوسرے جہاں میں آسان اور آرام دہ زندگی گزارسکیں –
کیا آپ اس سفر میں میرا ساتھ دیں گے؟

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here