پائیدار بنیادی ڈھانچے میں تیز سرمایہ کاری ضروری ہے‘منیر اکرم

0
207
ایس ڈی جیز کے حصول کے لئے جدید ترین ٹیکنالوجی کا مکمل استعمال کرنا ہو گا، خطاب
نیویارک(نیوز ڈیسک) پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کے مطابق کوویڈ 19 بحران کا سامنا کرنے، ایس ڈی جی کے اہداف کو حاصل کرنے کے لئے انہیں 2.5 ٹریلین ڈالر سے زیادہ کی ضرورت ہے۔نیویارک میں اقوام متحدہ کی معاشی اور سماجی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے منیر اکرم نے کہاکہ ہر ایک، ہر جگہ،امیر یا غریب،سب کو ویکسین تک مساوی رسائی حاصل ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ گذشتہ 75 سالوں میں، متعدد وجوہات کی بناء پر اقوام متحدہ کی اقتصادی اور سماجی کونسل نے چارٹر کے ذریعہ اس کو تفویض کردہ پالیسی اور کوآرڈینیشن مینڈیٹ کی تکمیل کے لئے جدوجہد کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس مینڈیٹ کی تکمیل اس سے پہلے کبھی زیادہ مشکل یا اس سے زیادہ ضروری نہیں تھی جیسا کہ آج ہے۔ انہوں نے کہاکہ رکن ممالک کو بیک وقت تین عالمی چیلنجز کا سامنا کرنا ہے، پہلا، کوویڈ وبائی مرض اور اس کے نتائج، دوسرا، پائیدار ترقیاتی اہداف (ایس ڈی جی) کا ادراک اور تیسرا، آب و ہوا کے وجودی خطرے سے گریزہے۔ منیر اکرم نے کہاکہ ترقی یافتہ ممالک وبائی اور معاشی بحالی کے لئے اپنے ردعمل کی مالی اعانت کے لئے قریب 10 ٹریلین ڈالر تیار کرسکے ہیں۔ اقوام متحدہ میں مستقل مندوب نے کہاکہ ترقی پذیر ممالک اس کا ایک حصہ بھی نہیں اٹھا سکے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ آئی ایم ایف نے اندازہ لگایا ہے کہ کوویڈ 19 بحران کا سامنا کرنے، ایس ڈی جی کے اہداف کو حاصل کرنے کے لئے انہیں 2.5 ٹریلین ڈالر سے زیادہ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایک، ترقی پذیر ممالک کو کوڈ کی وبائی بیماری کا جواب دینے اور ایس ڈی جی اور آب و ہوا کے اہداف پر عمل درآمد کے لئے خاطر خواہ مالی اعانت جمع کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ پائیدار بنیادی ڈھانچے میں تیز سرمایہ کاری ضروری ہے،ایس ڈی جیز کے حصول کے لئے جدید ترین ٹیکنالوجی کا مکمل استعمال کرنا ہو گا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here