امریکہ میں نسل پرستی کے خلاف مظاہرے” انتخابی جنگ چھڑ گئی

0
172
جارج فلوئیڈ کی موت کیخلاف بڑے پیمانے پر مظاہروں کے بعد گذشتہ ہفتے نسل پرستی کیخلاف احتجاج میں دوبارہ تیزی اس وقت آئی جب پولیس نے ایک جھڑپ کے دوران سیاہ فام شخص جیکب بلیک کو پیچھے سے کئی گولیاں ماریں
بلیک کو انکے تین بچوں کے سامنے گولی مارنے کے واقعہ نے ایک لاکھ آبادی والے شہر کو نسل پرستی اور پولیس کی زیادتیوں کیخلاف مظاہروں کے مرکز میں تبدیل کر دیا‘ بلیک لائیوز میٹر کے ممبران غنڈے اور لٹیرے نہیں ہیں‘ کلائیڈ میکلی مور
 پورٹ لینڈ میں ایک بیوقوف میئر امن بحال نہیں کر سکتا، انہوں نے شہر میں موت اور تباہی ہونے دی‘صدرٹرمپ کا الزام‘ صدر ٹرمپ اپنے لاپرواہ بیانات سے تشدد کو ہوا دے رہے ہیں‘ڈیموکریٹک صدارتی امیدوارجو بائیڈن کا ردعمل
وسکونسن (مانیٹرنگ ڈیسک):___امریکی شہر پورٹ لینڈ میں پرتشدد مظاہروں کے دوران ایک شخص کی ہلاکت کے بعد صدر ٹرمپ اور ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار جوبائیڈن آمنے سامنے آ گئے۔ پورٹ لینڈ کے میئر کا کہنا ہے امریکی صدر نے ہی نفرت اور تقسیم کی بنیاد رکھی۔پورٹ لینڈ میں پرتشدد مظاہروں کے بعد صدر ٹرمپ اوران کے حریف جوبائیڈن ایک دوسرے پر الزامات لگاتے رہے۔ صدر ٹرمپ نے متعدد ٹویٹس کرتے ہوئے جوبائیڈن پر الزام لگایا کہ وہ رہنمائی کرنے سے کتراتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پورٹ لینڈ میں ایک بیوقوف میئر امن بحال نہیں کر سکتا، انہوں نے شہر میں موت اور تباہی ہونے دی۔ڈیموکریٹک صدارتی امیدوارجو بائیڈن نے کہا کہ صدر ٹرمپ اپنے لاپرواہ بیانات سے تشدد کو ہوا دے رہے ہیں۔ انہوں نے صورت حال کو مزید خراب کیا ہے۔گذشتہ روز پورٹ لینڈ میں امریکی صدر کے حامیوں اور بلیک لائیوز میٹر نامی مہم کے حامیوں کے درمیان پرتشدد جھڑپوں میں ایک شخص گولی لگنے سے ہلاک ہو گیا تھا۔امریکہ میں نسلی امتیاز اور نسل پرستی کیخلاف مظاہرے جاری ہیں اورامریکی ریاست وسکونسن کے شہر کنوشا شہر میں لوگ ایک مارچ میں شریک ہوئے۔رواں برس مئی میں سیاہ فام جارج فلوئیڈ کی موت کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہروں کے بعد گذشتہ ہفتے نسل پرستی کے خلاف احتجاج میں دوبارہ تیزی اس وقت آئی جب پولیس نے کنوشا شہر میں ایک جھڑپ کے دوران ایک سیاہ فام شخص جیکب بلیک کو پیچھے سے کئی گولیاں ماریں۔خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق کنوشا شہر میں ہونے والے مارچ میں شریک لوگ ’بلیک لائیوز میٹر‘ اور ’نو جسٹس نو پیس‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔ امریکا میں ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ملک میں جاری نسلی ہنگامہ آرائی کو فروع دے رہے ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق صدر ٹرمپ نے صحافیوں کے سوالات کے جواب میں اپنے ایک سترہ سالہ حمایتی کی طرف سے دو افراد کو قتل کرنے پر اس کی مذمت کرنے سے گریز کیا اور کہا کہ لوگ اپنے دفاع میں کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ صدر ٹرمپ نسل پرستی کے خلاف احتجاج کرنے والے اکثر افراد کو بائیں بازوں کے سوشلسٹ انقلابی کارکن قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ لوگ سابق نائب صدر جو بائیڈن کے حمایتی ہیں، جن کے ساتھ ان کے بقول سختی سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اگلے ہفتے کنوشا شہر کے دورے کا اعلان کیا ہے۔احتجاجی مارچ سے جیکب بلیک کے والد جیکب بلیک سینئر نے بھی خطاب کیا اور شرکا پر زور دیا کہ وہ مظاہروں کے دوران تشدد اور لوٹ مار سے اختراز کریں۔اس شہر کے اچھے لوگ سمجھتے ہیں اگر ہم نے توڑ پھوڑ کی تو ہمیں کچھ نہیں ملے گا۔بلیک کو ان کے تین بچوں کے سامنے گولی مارنے کے واقعے نے ایک لاکھ آبادی والے شہر کو نسل پرستی اور پولیس کی زیادتیوں کے خلاف مظاہروں کے مرکز میں تبدیل کر دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار کے مطابق صدر دورے کے دوران قانو نافذ کرنے والے اہلکاروں سے ملاقات کریں گے اور مظاہروں کے دوران ہونے والے نقصان کا جائزہ لیں گے۔’بلیک لائیوز میٹر‘ کے کنوشا چیپٹر کے بانی کلائیڈ میکلی مور کا کہنا ہے کہ میں ٹرمپ کو بتانا چاہوں گا کہ بلیک لائیوز میٹر کے ممبران غنڈے اور لٹیرے نہیں ہیں۔وہ (صدر) ہم پر الزام لگا رہے ہیں حالانکہ ایسا ہے نہیں۔جیکب بلیک اگرچہ اس واقعے میں بچ گئے تاہم وہ شدید زخمی اور معذور ہوگئے ہیں۔ بلیک اگلے ہفتے ہسپتال کے کمرے سے عدالت میں اپنے خلاف ایک کیس کی کاروائی میں حصہ لیں گے جو کہ فائرنگ کے واقعے سے پہلے کا ہے۔بلیک کو گولی مارنے کے واقعے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد کنوشا میں پرتشدد مظاہرے ہوئے تھے جس کے دوران مشتعل مظاہرین نے پولیس پر پٹاخے پھینکے تھے اور سنگ باری کی تھی۔منگل کی رات کو ایک سیاہ فام نوجوان نے خود کار اسلحے سے تین مظاہرین کو گولی چلائی تھی جن میں دو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔خیال رہے جمعے کو امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن میں لاکھوں لوگوں نے نسل پرستی کے خلاف مظاہرہ کیا تھا۔ اس مظاہرے کا عنوان جارج فلوئیڈ کے واقع کی مناسبت سے ’اپنا گھٹنا ہماری گردن سے ہٹانا‘ رکھا گیا تھا۔فلوئیڈ کو مئی میں ایک سفید فارم پولیس آفیسر نے نیچے گرا کر گردن گھٹنے سے دبوچ کر ہلاک کیا تھا جس کے بعد امریکہ سمیت پوری دنیا میں نسلی امتیاز اور نسل پرستی کے خلاف مظاہرے ہوئے تھے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here