پاکستان میں پولیو وائرس مزید پھیلنے کا خدشہ، عالمی تنظیم نے آگاہ کردیا

0
70

لاہور: انڈیپنڈنٹ مانیٹرنگ بورڈ (آئی ایم بی) نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان میں وبائی صورتحال انتہائی تشویشناک اور مایوس کن ہے بالخصوص صوبہ خیبرپختونخوا کے جنوبی علاقوں کے ساتھ ساتھ کراچی اور کوئٹہ کے اہم ذخیرہ آب میں وائلڈ پولیو وائرس کا پھیلاؤ جاری ہے۔ ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق آئی ایم بی پولیو کے خاتمے کے عالمی پروگرام کے تحت عالمی سطح پر پولیو کی ترسیل اور سراغ لگانے کے سلسلے میں ہونے والی پیش رفت کا آزادانہ جائزہ فراہم کرتا ہے۔ اس عالمی صحت کی تنظیم کو خدشہ ہے کہ روایتی ذخیرہ آب سے ہٹ کر پاکستان میں پولیو سے پاک علاقوں میں یہ وائرس پھیل رہا ہے اور ویکسین سے لگنے والا پولیو وائرس بھی پاکستان میں جگہ بنا رہا ہے۔ آئی ایم بی نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ ‘اگر بڑے پیمانے پر ویکسینیشن کی سرگرمی نہ ہوئی تو سال کے آخر تک توقع سے زائد پولیو کیسز سامنے آسکتے ہیں اور یہ تعداد سیکڑوں میں ہوسکتی ہے’۔ رپورٹ میں ہے کہ آئی ایم بی کو پاکستان میں پولیو کے خاتمے کے امکانات پر سخت تشویش ہے اور اس بات کے تمام تر امکان موجود ہیں کہ پاکستان اس بیماری کا شکار دنیا کا آخری خطہ بن جائے گا۔ آئی ایم بی کا کہنا تھا کہ پاکستان کا پولیو پروگرام جسے تبدیلی کی ضرورت ہے ۔آئی ایم بی کی رپورٹ میں کہا گیا کہ ‘پاکستان میں پولیو کی صورتحال سنگین ہے، 31 جولائی 2020 تک کے ڈیٹا کے مطابق وائلڈ پولیو وائرس کے 61 کیسز سامنے آچکے ہیں جبکہ اس وقت تک 2019 میں کیسز کی تعداد 56 تھی۔  رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان میں ویکسین سے لگنے والے پولیو وائرس کے کیسز میں اضافہ چونکا دینے والا ہے اور یہ تعداد پوری دنیا میں اس طرح کیسز کے ایک تہائی کے برابر ہے۔ ملک کے کچھ بڑے متاثرہ علاقوں کی صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے آئی ایم بی کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے جنوبی حصوں میں وائلڈ پولیو وائرس کا پھیلاؤ تھم نہیں سکا۔ پنجاب میں حکام لاہور میں وائرس کی ترسیل نہیں روک سکے جبکہ کراچی کو پولیو وائرس کی دیر پا بنیاد قرار دیا گیا جہاں حکومت سندھ پولیو ریسپانس کی سربراہی کے لیے مؤثر میڈیکل افسران تلاش کرنے میں ناکام ہے۔  کوئٹہ میں پولیو وائرس کے بار بار ہونے والے انفیکشن سے منسلک دیرینہ مسائل کو اب بھی جامع طور پر حل کیے جانے کی ضرورت ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کے تمام صوبوں کو کووِڈ 19 کے بڑے چیلنج کا سامنا ہے جو زیادہ تر علاقوں میں پولیو کے خاتمے کے پروگرام، حفاظتی ٹیکوں اور عملی طور پر تمام عوامی خدمات کو کو متاثر کررہا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here