دماغ کو کمپیوٹر سے جوڑنے کے دور کا آغاز

0
104

امریکی کمپنی ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے بانی ایلون مسک نے اپنی نئی کمپنی ‘نیورا لنک’ کے ذریعے بنائی گئی کمپیوٹر چپ کو جانوروں کے دماغ سے جوڑنے کا مظاہرہ کردیا۔

ایلون مسک کی کمپنی ‘نیورا لنک’ نے محض 4 برس میں ایک ایسی چپ تیار کی ہے، جسے میڈیکل اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں نئے دور کا آغاز کہا جا رہا ہے۔ایلون مسک نے اگرچہ ماضی میں ہی اس بات کے خدشات ظاہر کیے تھے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت انسانی ذہن کو پیچھے چھوڑ دے گی اور بظاہر وہ انسانی ذہن کی قدرتی صلاحیتوں کے معترف رہے ہیں۔تاہم انہوں نے خود ہی ایک ایسی چپ متعارف کرادی جو انسانی ذہن کو پیچھے چھوڑ دے گی۔ایلون مسک کی جانب سے 28 اگست 2020 کو متعارف کرائی گئی چپ کی رونمائی یوں تو گزشتہ برس ہی ہونی تھی تاہم نامعلوم وجوہات کی بنا پر اس کی رونمائی ایک سال بعد کی گئی۔خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایلون مسک نے سان فرانسسکو میں ایک طویل ایونٹ میں دماغ میں لگائی گئی چپ کا عملی مظاہرہ بھی پیش کیا۔رپورٹ کے مطابق عملی مظاہرے کی تقریب میں تین ایسے ‘سوروں’ کو پیش کیا گیا، جن کے دماغوں میں ‘نیورا لنک’ کی جانب سے بنائی گئی چپ نصب کی گئی تھی۔

رونمائی کی تقریب کا مظاہرہ یوٹیوب پر بھی براہ راست دکھایا گیا، جس میں ‘گرٹ روڈ’ نامی ‘سور’ کو چپ نصب ہونے کے بعد غیر معمولی کام بھی کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ایلون مسک نے تقریب میں دعویٰ کیا کہ گرٹ روڈ نامی ‘سور’ جو اب ہر طرح کی غذا بڑے شوق سے کھا رہا ہے، یہ مذکورہ چپ نصب ہونے سے قبل کسی طرح کی غذا کھانے سے کتراتا تھا تاہم اب چپ لگنے کے بعد وہ ہر طرح کی غذا کھانے سمیت ایک صحت مند جانور کی طرح کام کر رہا ہے۔خبر رساں ادارے ایجنسی فرانس پریس (اے ایف پی) کے مطابق ایلون مسک نے طویل ایونٹ میں کہا کہ مذکورہ چپ سے کئی طرح کے دماغی اور اعصابی بیماریوں کا علاج کیا جا سکتا ہے۔ایلون مسک کی جانب سے متعارف کرائی گئی چپ کسی چھوٹے سکے کی سائز کی ہے اور وہ انتہائی پتلی ہے، جسے کسی بھی جاندار کے دماغ میں نصب کرکے اسے وائرلیس سسٹم کے ذریعے اسمارٹ فون سے منسلک کیا جاسکے گا۔مذکورہ چپ فالج، انزائٹی، ڈپریشن، جوڑوں کے شدید درد، ریڑھ کی ہڈی کے درد، دماغ کے شدید متاثر ہوکر کام چھوڑنے، نابینا پن، سماعت گویائی سے محرومی، بے خوابی اور بے ہوشی کے دوروں سمیت دیگر بیماریوں اور مسائل کو فوری طور پر حل کرنے میں مدد فراہم کرے گی۔

تقریب میں ایسے سور کو دکھایا گیا ہے، جس میں مذکورہ چپ نصب کی گئی تھی—اسکرین شاٹ یوٹیوب
تقریب میں ایسے سور کو دکھایا گیا ہے، جس میں مذکورہ چپ نصب کی گئی تھی—اسکرین شاٹ یوٹیوب

مذکورہ چپ کو موبائل فون کے سم کارڈ کی طرح ایسے سسٹم سے بنایا گیا ہے جو سگنل کی مدد سے اسے اسمارٹ فون سے منسلک کرے گا اور پھر فون کے ذریعے مذکورہ چیزیں شامل کی جا سکیں گی اور چپ سے چیزیں نکالی بھی جا سکیں گی۔یہ بھی پڑھیں: ایلون مسک دماغ میں لگائی جانے والی انوکھی ڈیوائس کے مظاہرے کیلئے تیارمذکورہ چپ انسانی خیالات کا ریکارڈ بھی جمع کرے گی جب کہ انسان کی یادداشت کو بھی محفوظ رکھ سکے گی۔چپ میں محفوظ انسانی یادداشت کو کمپیوٹر یا موبائل کے ذریعے کسی بھی وقت ری پلے کیا جا سکے گا یا کسی بھی وقت ماضی میں گزرے دنوں کو اسکرین پر ڈیٹا کی صورت میں لایا جا سکے گا۔اگرچہ چپ کو ‘سور’ کے دماغ میں نصب کرکے اس کا عملی مظاہرہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا تاہم ایلون مسک کی جانب سے یہ نہیں بتایا گیا کہ مذکورہ چپ کو کب تک انسانوں کے دماغ میں نصب کیا جا سکے گا یا پھر کب تک اسے عام فروخت کے لیے پیش کیا جائے گا۔تاہم انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ آنے والے وقت میں مذکورہ چپ کو چند ہزار ڈالر کی قیمت میں فروخت کیا جا سکے گا۔

موبائل سم کے طرز کی چپ وائرلیس سسٹم کے ذریعے کمپیوٹر یا موبائل سے منسلک ہوگی، ایلون مسک—فوٹو: اے ایف پی
موبائل سم کے طرز کی چپ وائرلیس سسٹم کے ذریعے کمپیوٹر یا موبائل سے منسلک ہوگی، ایلون مسک—فوٹو: اے ایف پی

خیال کیا جا رہا ہے کہ مذکورہ چپ کو آنے والے 5 سالوں کے دوران انسانی ذہن میں نصب کرکے اس کا عملی مظاہرہ کیا جا سکے گا اور ابتدائی طور پر کسی بیمار انسان کے دماغ میں چپ کو نصب کیا جا سکے گا۔ساتھ ہی کئی ماہرین نے مذکورہ ٹیکنالوجی پر خدشات ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ عین ممکن ہے کہ اسے حکومتوں کی جانب سے پیش کرنے کی اجازت ہی نہ دی جائے اور ایلون مسک بھی ماضی میں ایسا کہہ چکے ہیں کہ انہیں خدشہ ہے کہ امریکی حکومت انہیں مذکورہ چپ کی انسانوں پر آزمائش کی اجازت نہیں دے گی۔مزید پڑھیں: چھوئے بغیر محض دماغ سے کمپیوٹر کنٹرول کرنا جلد ممکن ہوگاماہرین کا خیال ہے کہ ابتدائی طور پر مذکورہ چپ کو حکومتوں کی مخالفت کے باوجود کئی سال تک محدود انسانوں میں ہی نصب کرکے استعمال کیا جائے گا تاہم طبی بنیادوں پر اسے استعمال کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے، لیکن اس حوالے سے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے۔بظاہر اس ٹیکنالوجی کا مقصد دماغی اور ریڑھ کی ہڈی کی انجری یا پیدائشی نقائض کے شکار افراد کو فون یا کمپیوٹر اپنے ذہن سے کنٹرول کرنے میں مدد دینا ہے۔مگر طویل المعیاد بنیادوں پر اس ٹیکنالوجی کا مقصد ڈیجیٹل سپرانٹیلی جنس لیئر کو تشکیل دینا ہے، یعنی انسانوں کو مصنوعی ذہانت سے منسلک کردیا جائے، جو اس لیے حیران کن ہے کیونکہ ایلون مسک آرٹی فیشل انٹیلی جنس کو ماضی میں انسانیت کے لیے خطرہ قرار دے چکے ہیں۔

سرجیکل روبوٹ میں بھی چپ کا مظاہرہ دکھایا گیا—اسکرین شاٹ یوٹیوب/ اے ایف پی
سرجیکل روبوٹ میں بھی چپ کا مظاہرہ دکھایا گیا—اسکرین شاٹ یوٹیوب/ اے ایف پی

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here