برطانیہ، کورونا وائرس میں اضافہ ہوا تو سیکنڈری اسکولوں میں روٹا سسٹم نافذ کیا جائے گا

0
158

لندن (پی اے) انگلینڈ میں اسکول کھلنے سے صرف چند روز پیشتر جمعہ کو اسکولوں کے حوالے سے انگلینڈ کیلئے جاری کردہ نئی گائیڈنس میں بتایا گیا ہے کہ اسکول کھلنے کے بعد اگر کورونا وائرس کے پھیلائو میں اضافہ ہوا تو سیکنڈری اسکولوں میں روٹا سسٹم نافذ کردیا جائے گا، اس کامقصد ایک دوسرے سے ملنے والے طلبہ کی تعداد کو کم کرنا اور اس طرح وائرس کے پھیلائو کو محدود کرنا ہے۔ وزیر تعلیم گیون ولیم سن نے کہا ہے کہ یہ طریقہ کار آخری حربے کے طور پر آزمایا جائے گا، وزیر تعلیم گیون ولیم سن نے کہا یہ اقدامات انتہائی ہنگامی اور بدترین صورت حال میں کئے جائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں توقع ہے کہ ہمیں یہ اقدامات نہیں کرنا پڑیں گے۔ انھوں نے کہا کہ اسکولوں میں حاضری کاطریقہ کار انتہائی آخری حربے کے طور پر ہی تبدیل کیا جائے گا۔ دوسری جانب اسکولوں کے ہیڈماسٹروں نے طلبہ کو دوبارہ یقین دہانی کرائی ہے کہ ہم آپ کیلئے تیار ہیں۔ ہیڈ ٹیچرز کی نیشنل ایسوسی ایشن کے سربراہ پال وہائٹ مین نے کہا کہ اسکولوں کو کھلا رکھنا ہماری ترجیح ہے لیکن آپ کے پاس کوئی جادوئی گولہ نہیں ہے جس میں آپ دیکھ سکیں کہ اگلے ہفتوں کے دوران بعض علاقوں میں کوئی گڑبڑ نہیں ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ اسکولوں کے ہیڈماسٹر کئی ہفتوں سے اس پلان بی کے اعلان کا مطالبہ کررہے تھے کہ وائرس پھیلنے کی صورت میں کیا کیا جائے گا۔ دوسری جانب وزیر صحت میٹ ہنکوک نے کہا ہے کہ موسم سرما کے دوران کورونا وائرس میں اضافے کی صورت میں پورے ملک میں پابندیوں کے نفاذ کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔  انھوں نے کہا کہ وائرس کی دوسری لہر ایک سنگین خطرہ ہے اور اس کی بدترین صورت حال میں برطانیہ کو کووڈ 19 کے پھیلائو میں اضافے کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے اورچونکہ لوگ زیادہ تر گھروں کے اندر رہیں گے اس لئے فلو کی وبا کے شدید ہونے کا بھی خدشہ ہے۔ دوسری جانب سوئٹزرلینڈ، جمیکا اور چیک جمہوریہ سے برطانیہ آنے والوں کیلئے قرنطینہ ضروری قرار دے دیا گیا ہے۔ حکومت کی ایک افشا ہوجانے والی رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ بدترین صورت حال میں رواں موسم سرما میں کووڈ 19 کے سبب برطانیہ میں کم وبیش 85,000 ہزار افراد موت کا شکار ہوسکتے ہیں، جس کی وجہ سے مزید پابندیاں عائد کی جائیں گی لیکن اسکول کھلے رکھے جائیں گے۔ جنوبی کوریا میں کی گئی ایک اسٹڈی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بچوں کی ناک میں کورونا وائرس 3 ہفتے تک زندہ رہ سکتاہے اور وہ یہ وائرس دوسروں کو منتقل کرسکتے ہیں۔ ادھر فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون نے جمعہ کو کورونا کے 7,379 مریض سامنے آنے کے بعد ملک گیر سطح پر لاک ڈائون کے امکانات کا انتباہ جاری کیا ہے، کورونا وائرس کی بدلتی ہوئی صورت حال کے سبب اسکولوں کے لئے 4 سطحی اقدامات کا اعلان کیا گیا ہے، جس کے تحت پرائمری اسکول پورے وقت کھلے رہیں گے اور جن اسکولوں میں بچے کل وقت موجود رہیں گے، وہاں بچوں کے بیٹھنے کا خصوصی انتظام کیا جائے گا۔ اگر پبلک ہیلتھ اور محکمہ تعلیم کے لوکل حکام یہ سمجھیں کہ پھیلائو کی سطح بہت زیادہ ہے تو اسکولوں کو دوسرے مرحلے میں تبدیل کردیا جائے گا، جس کے تحت سیکنڈری اسکول کے طلبہ جزوقتی روٹا سسٹم کے تحت اسکولوں میں حاضری دیں گے، اس سسٹم کے تحت طلبہ 2ہفتے اسکول میں حاضر ہوں گے اور 2ہفتے گھر پر آن لائن تعلیم حاصل کریں گے۔ گائیڈنس میں کہا گیا ہے کہ اسکولوں میں یہ طریقہ کار دوسرے تمام طریقوں کی ناکامی کے بعد اختیار کیا جائے گا۔ اس سے کووڈ۔19 کے پھیلائو کو روکنا ممکن ہوسکے گا۔ اس سے زیادہ سنگین صورت حال میں تیسرے مرحلے کو آزمایا جائے گا، جس کے تحت سیکنڈری اسکولوں کے زیادہ تر طلبہ گھروں سے پڑھائی کریں گے جبکہ چوتھے مرحلے کی صورت میں کلیدی ورکرز کے بچوں اور معذور بچوں کے علاوہ تمام بچے گھروں پر ہی پڑھائی کریں گے۔ گائیڈنس میں کہا گیا ہے کہ اگر اسکول میں کسی کا پازیٹو ٹیسٹ آگیاتو ہیلتھ پروٹیکشن کی ٹیمیں فوری طور متاثر بچے سے قریبی رابطے میں رہنے والوں میں وائرس کے خطرے کا جائزہ لیں گی اور ان لوگوں کو 14 دن کیلئے آئسولیشن اختیار کرنے کی ہدایت کی جائے گی۔ 2 ہفتہ کے دوران 2 یا اس سے زیادہ مریض سامنے آنے کو وائرس کا پھیلائو تصور کیا جائے گا۔ جس کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔ جس میں اسکولوںمیں ٹیسٹنگ کیلئے موبائل ٹیمیں بھیجنا شامل ہے، بعض معاملات میں ہیلتھ پروٹیکشن کی ٹیمیں کسی خاص گروپ کے طلبہ یا پورے اسکول کو گھروں پر آئسولیشن اختیار کرنے کی ہدایت دے سکتی ہیں۔آکسفورڈ یونیورسٹی میں وبائی امراض کے پروفیسر اور جی پی کے طور پر پریکٹس کرنے والے پروفیسر کارل ہینیگھن نے بی بی سی کو بتایا کہ نزلے اور زکام کی وجہ سے اسکولوں اور فیملیز کو کافی دقت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، جس کے معنی یہ ہیں کہ ٹیسٹ ہونے تک زیادہ لوگوں کو آئسولیشن اختیار کرنا پڑسکتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر آپ کے بچے میں ایسی کوئی بھی علامت ہو تو اسے اسکول نہ جانے دیں۔ انھوں نے کہا کہ ماضی میں یہ طریقہ رہا ہے کہ اگر آپ کے پاس کالپول ہے تو آپ کو اسکول جانے دیا جاتا تھا لیکن اب والدین کی جانب سے بچوں کی دیکھ بھال کے حوالے سے بڑی تبدیلی آرہی ہے۔ اے ایس سی ایل ہیڈٹیچرز یونین کے سربراہ جیوف بارٹن کا کہنا ہے کہ آخری لمحوں میں گائیڈنس ملنے پر انھیں بہت افسوس ہوا جبکہ ہیڈ ٹیچرز کافی عرصے سے وبا کے دوبارہ پھیلنے کی صورت میں ہنگامی پلاننگ کا مطالبہ کررہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ امتحانات کے دوران ان طلبہ کی سپورٹ کیلئے مزید اقدامات کی ضرورت ہے، آئسولیشن کی وجہ سے جن کی تعلیم متاثر ہوئی ہے۔ ان کو گھر پر اسٹڈی کیلئے لیپ ٹاپس کی فراہمی بھی ضروری ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم ماضی کے مقابلے میں زیادہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے۔ وبائوں سے متعلق امور پر حکومت کے ایک سابق مشیرپروفیسر نیل فرگوسن نے کہا کہ پرائمری اسکولوں میں وائرس کے بڑے پیمانے پر پھیلنے کا کوئی امکان نہیں ہے، اس لئے ایک بڑے گروپ کو آئسولیٹ کرنے یا روٹاسسٹم کے تحت لانے کی چنداں ضرورت نہیں ہے لیکن اسکولوں کو وبا کو پھیلنے سے روکنے کیلئے اپنے طلبہ اور عملے کا تیزی کے ساتھ ٹیسٹ کرانا چاہئے۔ لیبر پارٹی کی شیڈو وزیر تعلیم کیٹ گرین نے کہا کہ ان گائیڈنس کا کافی دنوں سے انتظار تھا اورعین اسکول اور کالج کھلنے کے وقت یہ گائیڈنس جاری کرنا انتہائی نامناسب ہے، محکمہ تعلیم نے گائیڈنس جاری کرتے ہی اس میں ترمیم کا اعلان کرتے ہوئے اس سے یہ شق واپس لے لی ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ کسی اسکول یا کالج میں کوئی ایک مریض بھی سامنے آنے کی صورت میں پورے گروپ یا ببل کو 14 دن کی آئسولیشن کیلئے کہا جائے گا۔ تعلیمی عملے اور والدین نے گائیڈنس کی اشاعت کے وقت پر ٹوئٹر پر اپنی برہمی کااظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اتنی کم مہلت دے کر اس کی اشاعت اسکولوں کے سربراہوں اوراساتذہ کی بے عزتی ہے۔ ڈپٹی ہیڈ ڈینیل سباٹو نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسنا ک بات ہے کہ ہمارے ساتھ بار بار اس طرح کا سلوک کیا جا رہا ہے، بہت سے اساتذہ نے کسی سال کے گروپ سے تعلق رکھنے والے تمام بچوں کو آئسولیٹ کرنے کی ہدایت کے امکان پر تشویش ظاہرکی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here