ہائی کمیشن لندن کی جج ارشد ملک کی ویڈیو پر فارنزک رپورٹ کی تصدیق

0
217

لندن:____ پاکستان ہائی کمیشن نے احتساب عدالت کے سابق جج ارشد ملک کی آڈیو اور ویڈیو سے متعلق فارنزک رپورٹ کی تصدیق کر دی ہے جو کہ ایک برٹش فارنزک فرم نے تیار اور اس کے اصلی ہونے کی تصدیق کی تھی۔ جمعرات کی شام ناصر بٹ فارنزک رپورٹ کے چار والیوم اور اسلام آباد ہائی کورٹ (آئی ایچ سی) کی جانب سے رپورٹ کی تصدیق کے احکامات کے ہمراہ پاکستان ہائی کمیشن لندن پہنچے۔ جج ارشد ملک ویڈیو سکینڈل کے مرکزی کردار ناصر بٹ دو گھنٹے سے زائد پاکستان ہائی کمیشن میں رہے اور باہر آنے کے بعد میڈیا کو بتایا کہ فارنزک رپورٹ کی تصدیق ہو گئی ہے اور یہ جلد ہی پاکستان بھیج دی جائے گی، جہاں نواز شریف کے فلیگ شپ اور العزیزہ کیسز کی سماعت کے دوران عدالت کو پیش کی جائے گی۔ پاکستان ہائی کمیشن نے بھی بتایا ہے کہ فارنزک رپورٹ کی تصدیق کر دی گئی ہے۔ قبل ازیں ناصر بٹ نے چار مرتبہ پاکستان ہائی کمیشن سے رابطہ کیا تھا مگر ہائی کمیشن کے حکام نے رپورٹ کی تصدیق سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ دفتر خارجہ پاکستان نے اس کی اجازت نہیں دی۔ ناصر بٹ نے میڈیا کو بتایا کہ وہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے شکر گزار ہیں جس نے اس ضمن میں احکامات جاری کئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے جج ارشد ملک کی برطرفی اس کی دلیل ہے اور اس سے تصدیق ہوتی ہے کہ حکومت کی جانب سے ان کے خلاف لگائے گئے الزامات غلط اور بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے ڈیجیٹل فارنزک فرم سائفور (سی وائی ایف او آر) کی جانب سے تیار کی گئی رپورٹ کی کاپیاں میڈیا کو دکھائیں، یہ ایک سپیشلائزڈ فرم ہے جوکہ ایڈوانسڈ ڈیٹ انالیٹک اور ڈیٹا ریکوری میں اپنی مہارت کے ساتھ ای ڈسکوری اور ڈیجیٹل فارنزکس کے شعبوں میں اپنی خدمات فراہم کرتی ہے۔ سائفور نے اپنی 43 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں تصدیق کی ہے کہ جج ارشد ملک، جن کی یہ ویڈیو اور آڈیو خفیہ طور پر ٹیپ کی گئی تھیں، اس کی ریکارڈنگ اصلی ہے۔ احتساب عدالت کے سابق جج ارشد ملک، جنہوں نے نواز شریف کو آمدن سے زائد اثاثے رکھنے کے کیس میں سزا سنائی تھی، ان کی یہ آڈیو اور ویڈیو خفیہ طور پر ٹیپ کی گئی تھیں، کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ انہیں بلیک میل کیا جا رہا تھا اور ان پر دبائو تھا کہ سابق وزیراعظم کو سزا دی جائے جبکہ انہوں نے سزا دینے سے معذرت کر لی تھی۔ فارنزک رپورٹ کو پہلے ہی چارلس ڈروسٹن گیوٹھری، نوٹری پبلک نے نوٹرائزڈ کر دیا تھا جبکہ فارن اینڈ کامن ویلتھ آفس (ایف سی او) نے اس کی تصدیق کر دی تھی۔ ناصر بٹ کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے حکومت پاکستان نے ایک سال تک اپنی انتہائی کوشش کی کہ پاکستان ہائی کمیشن اس رپورٹ کی تصدیق نہ کرے۔ ایسا نواز شریف کو انصاف نہ دینے کے لئے کیا گیا۔ نواز شریف اسی دن کلیئر ہوگئے تھے جب ویڈیو کی ریلیز سے یہ تصدیق ہوئی تھی کہ انہیں بلیک میلنگ کے ذریعے سزا دی گئی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ میرے خلاف بھی الزامات عائد کئے گئے تھے مگر بعد ازاں ثابت ہو گیا کہ میں نے ناانصافی کی سٹوری بے نقاب کرنے کے سوا کوئی غلط کام نہیں کیا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here