‘کیوں نہ جانوروں کی ہلاکت کے ذمہ داروں کو انہی پنجروں میں بند کردیا جائے’

0
187

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے جانوروں کی منتقلی سے متعلق کیس میں ریمارکس دیے ہیں کہ کیوں نہ جانوروں کی ہلاکت کے ذمہ داروں کو انہی پنجروں میں بند کردیا جائے۔ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے مذکورہ کیس کی سماعت کی۔دوران سماعت انہوں نے ریمارکس دیے کہ چڑیا گھرکی غفلت سےلگتا ہے کہ پوری ریاست ایسے ہی چل رہی ہے، کوئی بھی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں کیوں نہ جانوروں کی ہلاکت کے ذمہ داروں کو انہی پنجروں میں بند کردیں۔اس موقع پر مذکورہ معاملے میں توہین عدالت کیس میں معاون خصوصی امین اسلم اور وزیرمملکت زرتاج گل نے جواب جمع کرانے کے لیے مہلت مانگی جبکہ چیئرمین سی ڈی اے نے جواب میں غیرمشروط معافی کی استدعا کی۔جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ وزارت موسمیاتی تبدیلی نے ذمہ داری لی اور جب چیزیں غلط ہوگئیں تو لاتعلقی کا اظہار کردیا۔انہوں نے ریمارکس دیے کہ نیا وائلڈ لائف بورڈ نے گزٹ چھاپا نہیں جبکہ پرانے نوٹی فکیشن میں وزیراعظم عمران خان بھی بورڈ رکن ہیں اور وزیراعظم کو تو معلوم بھی نہیں ہوگا کہ چڑیا گھر میں کیا ہوا؟چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیے کہ اہم شخصیات وائلڈ لائف بورڈ کی ممبرشپ لیتی ہیں لیکن جانوروں کی ہلاکت کے ذمہ داری کوئی نہیں لیتا؟، بہت سارے جانور غائب ہوچکے ہیں۔سماعت کے دوران ہی چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ ‘جانوروں کا کھانا بھی چوری ہو جاتا ہے، بین الاقوامی تضحیک سے بچنے کے لیے تفصیلی فیصلے میں جانوروں کے کھانا چوری کا ذکر نہیں کیا’۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کیوں نہ ذمہ داروں کوانہیں پنجروں میں بند کردیں؟ کم ازکم دو گھنٹے تو ذمہ داروں کوشیر والے پنجرے میں بند ہونا چاہیے اگر بے زبانوں کے ساتھ یہ ہورہا ہے توعام لوگوں کا کیا حال ہوگا’۔بعد ازاں عدالت نے آئندہ سماعت سے قبل امین اسلم اور زرتاج گل سے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت 25 ستمبر تک ملتوی کردی۔واضح رہے کہ گزشتہ سماعت میں چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے تھے کہ جو لوگ جانوروں کی ہلاکت کے ذمہ دار ہیں وہی تحقیقات کررہے ہیں، ہر کوئی سیاست کر رہا ہے، جانوروں کے تحفظ کی ذمہ داری کوئی نہیں لینا چاہتا۔مذکورہ کیس میں عدالت نے مرغزار چڑیا گھر سے جانوروں کی تبدیلی پر عدالتی احکامات کی خلاف ورزی پر وزیر موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل، وزیراعظم کے معاون خصوصی ملک امین اسلم، وزات کے سیکریٹری اور اسلام آباد وائلڈ لائف منیجمنٹ بورڈ (آئی ڈبلیو ایم بی) کے خلاف کارروائی کا عندیہ دیا تھا۔عدالت کو بتایا گیا تھا کہ چڑیا گھر سے منتقل کیے جانے والے شیر اور شیرنی کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کے مطابق کسی پناہ گاہ نہیں بلکہ نجی فارم ہاؤس منتقل کیا جارہا تھا۔جس پر جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے تھے کہ عدالت نے پنجروں میں بند جانوروں کو پناہ گاہ منتقل کرنے کا حکم دیا تھا کسی نجی فارم ہاؤس نہیں۔ساتھ ہی انہوں نے کہا تھا کہ ’یہ عدالت وائلڈ لائف منیجمنٹ بورڈ کے ہر رکن اور چیئرمین کے خلاف توہین عدالت آرڈیننس 2003 کے تحت کارروائی کا ارادہ رکھتی ہے‘

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here