دے دیا فاطمہ نے بھراگلستان – کربلا تیرے اجڑے چمن کیلئے :  تحریر سیدہ رضا

0
686

اسلام علیکم قارئین
میں ہوں سیدہ رضا فرام دنیا انٹرنیشنل یو ایس اے 
میں نے اپنی صحافتی زندگی میں بے شمار کالمز آرٹیکلز وایڈیشن لکھے مگر دنیا انٹرنیشنل سے منسلک ہونے کے بعد خواتین ایڈیشن کے علاوہ میرا پہلا کالم محرم الحرام کے حوالے سے تھا جس کا عنوان ”معرکہء کربلا میں شہادت حسین علیہ السلام کا مقام“ تھا جسے آپ قارئین کی جانب سے حوصلہ افزاء پذیرائی کے بعد سے اب تک ان ایام عزاء پر لکھنے کا سلسلہ جاری ہے
قارئین کرام! حضرت اما م حسینعلیہ السلام وجہ ء تخلیق کائنات فخر موجودات سیدالرسلﷺ کے نواسہ ء مولائے کائنات حضرت امیر المومنینؑ کے فرزند اور فاطمہ زہرہ سلام اللہ علیہا کے جگر گوشہ ہیں -آپ علیہ السلام کی ولادت 3شعبان المعظم کو ہوئی اور آپ نے 10محرم الحرام 61ہجری کو شہادت پا کر سیدالشہداء کا لقب حاصل کیا-حضرت امام حسین علیہ السلام نے 10محرم کو اپنی واپنے اعزاء اقرباء اور اصحاب وانصار کی قربانی پیش کر کے حق وباطل کی مثال پیش کر دی


سر دے کے لاج رکھ لی محمدؐﷺ کے دین کی
اسلام کی بقاء ہے شہادت حسینؑ علیہ السلام کی
قارئین! معرکوں کی تاریخیں ہمیشہ سے ہی لکھی جاتی رہی ہیں -روئے زمین پر بسنے والی ہر قوم میں دنیاوی وروحانی بادشاہ‘ پیشوا اورحاکم سلطنت گزرے ہیں جن میں سے بہت سوں کے واقعات کو تاریخ نے محفوظ کرلیا-زندگی ہر قدم ایک مقابلے کا نام ہے اور کربلا ہر قدم قربانی وشہادت کا نام ہے
اے اہل عزا! عزا کے دن آپہنچے
غم کے شب وروز وبکا کے دن آ پہنچے
فریاد ہے کہ فاطمہ کی بستی اجڑی
آبادی ء کربلا کے دن آ پہنچے

ماہ محرم الحرام کی آمد ہمیشہ اپنے دامن میں یاس وحسرت اور ظلم وجور کی داستان الم سمیٹے ہوئے اور حق وباطل کی لازوال مثالیں وفسانہ ء حقیقت والم پروئے ہوئے آتا ہے-روایات میں ہے کہ جب حضرت امام حسین علیہ السلام مدینہ سے نکلے تو روضہ ء رسولؐﷺ  پر تشریف لائے اور اس کو پکڑ کر بہت روئے-آپ علیہ السلام نے آنحضرتؐﷺ کو سلام کیا اور فرمایا”یارسول اللہؐ(پیارے نانا جان)آپﷺ پر میرے ماں باپ قربان ہیں اور میں آپؐﷺ کے دامن قرب اور جوار رحمت سے بہت مجبور ہو کر جا رہا ہوں‘ میرے اور آپؐ ﷺ کے درمیان جدائی پیدا کی جارہی ہے اور مجھے مجبور کیا جا رہا ہے کہ میں یزید ملعون کی بیعت رلوں  نانا جان اگر میں یزید ملعون کی بیعت کرتا ہوں تو یہ کفر ہے اور اگر انکارکروں تو قتل کر دیا جاؤں گا اس لیے میں مجبور ہو کر قربانی دینے کی غرض سے آپؐ ﷺ کے روضہ ء اقدس سے دور جا رہا ہوں ”اے خدا کے رسولؐ ﷺ آپ پر میرا آخری سلام ہو“یہ کہہ کر امام حسین ؑ کی آنکھ تھوڑی دیر کیلئے جھپک گئی‘ خواب میں دیکھا کہ رسولؐﷺ کھڑے ہیں اور آپﷺ  پر سلام کر رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ ”اے میرے فرزند تمہارے پدر علیعلیہ السلام اور مادرگرامی فاطمہ زہرہ سلام اللہ علیہا اور تمہارے بھائی حسنؑ علیہ السلام میرے پاس آگئے ہیں اور وہ جنت میں ہیں -ہم سب تمہارے مشتاق ہیں‘ہمارے پاس آنے میں جلدی کرو اور سوائے میرے فرزند ولخت جگر! تمہارے لیے ایک ایسا درجہ ہے جو نور الہی سے آراستہ ہے جس کو تم شہادت کے بغیر نہیں پاسکتے

“(ابو مخنف ص 15)


جینے کے واسطے تو سبھی چھوڑتے ہیں گھر

کچھ اور ہی طرح کی تھی ہجرت حسین کی
حضرت امام علی رضا علیہ السلام نے اردشاد فرمایا”ماہ محرم وہ محترم مہینہ ہے جس کا جاہلی دور کے لوگ بھی احترام کرتے تھے اور اس میں قتل وقتال کو حرام سمجھتے تھے مگر اسی میں ہمارا خون بہایا گیا اور ہماری ہتک حرمت کی گئی‘ہمارا سامان لوٹا گیا اور ہمارے خیام کو آگ لگائی گئی-امام حسینؑ علیہ السلام کی مصیبت نے ہمارے آنسوؤں کو بہا دیا اور آنکھوں کو زخمی کر دیا-(ذاد العباد لیوم المواد 390) ماہ محرم کے چاند کی آمد ہوتے ہی اہل بیت بھی جس خلوص اور جذبہ کے ساتھ ماہ محرم الحرام اور خصوصاً مجالس عزاء سیدالشہداء وچہلم جس اہتمام وخلوص نیت کے ساتھ مناتے ہیں یہ انہی کی میراث ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ دشمنان اہل بیت نے جتنی بھی کوشش خانوادہ ء رسولؐﷺ  کو مٹانے اور ان کی قربانیاں وشہادتیں اور معرکے صفحہ ہستی سے مٹانے کی کیں‘محبان اہل بیت نے اس سے کہیں زیادہ ان کی یاد منانے اور تعلیمات کو رائج وپھیلانے میں کیں  جہاں ان مجالس وایام غم کے انعقاد کا مقصد اہل بیت کرام کا تعارف ومعرفت حاصل کرنا اور کرانا ہے اس سے کہیں زیادہ ان کی زندگیوں کو سمجھنا ہے اور عمل پیرا بھی ہونا ہے کہ وہ اس دنیا میں کیوں تبلیغ اسلام کیلئے آئے؟ دنیا کیوں ان کے درپے ہوئی؟ یا دشمن رہی؟ خانوادہ ء رسولؐﷺ نے قید وبند کی صعوبتیں برداشت کرتے ہوئے کیوں جام شہادت کو گلے لگایا؟ یہ تمام حقیقتیں کسی صاحب بصیرت سے چھپے ہوئے نہیں ہیں
کربلا کی جنگ میں ایک طرف تو یزیدی فوج لاکھوں کی تعداد میں تھی اور دوسری طرف امام حسینؑ علیہ السلام کے لشکر میں 72لوگ جن میں بچے‘ بوڑھے اور خواتین بھی شامل تھیں -قافلے میں شامل مرد وخواتین وبچوں پر بھوک وپیاس کا غلبہ تھا مگر تیرہ سالہ شہزاد قاسمعلیہ السلام وچھ ماہ کے ننھے علی اصغرؑعلیہ السلام نے بھی شہادت کو ہنس کر گلے لگایا
10محرم الحرام کو عاشور کا سورج تھرتھراتا ہوا نمودار ہوا اور خیروشر کی جنگ شروع ہو گئی‘لاشیں آتی رہیں‘ سورج آگ برساتا رہا‘زمین شعلے اگلتی رہی مگر اسلام کا سر حق کی خاطر بلند ہوتا رہا اور وہ وقت بھی آگیا جب امام حسینؑ علیہ السلام کی آواز کربلا کے بیابان میں گونجی قارئین!حضرت امام حسینؑ علیہ السلام کے مختصر مگر تاریخی جملوں نے باطل کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کی آوازیں گوش حسینؑ علیہ السلام تک پہنچیں اور امام حسینؑ علیہ السلام نے اپنا سرسجدے میں رکھ کرثابت کر دیا کہ حسین جیسا کبھی بھی یزید کی بیعت نہیں کر سکتا جب حضرت امام حسینؑ علیہ السلام کا سر یزید کے پاس پہنچا تو اسے اپنی دائمی شکست کا احساس ہوا کیونکہ امام حسینؑ علیہ السلام کا سر کٹا ہوا ضرور تھا مگر جھکا ہوا نہیں تھا

غرور ٹوٹ گیا مگر کوئی مرتبہ نہ ملا
ستم کے بعد بھی کچھ حاصل جفا نہ ملا
سر حسینؑ علیہ السلام ملا ہے یزید کو لیکن
شکست یہ ہے کہ پھر بھی جھکا ہوا نہ ملا

مولا حسینؑ علیہ السلام کی قربانی نے ہر باضمیر اور انصاف پسند مسلمان کے ذہن پر ایسی دستک دی کہ ہر قوم اور ہر مذہب بلکہ بوری انسانیت کی پاکیزہ واعلی وارفع کردار کو امام حسینؑ علیہ السلام کے ذکر کی بدولت حیات نو مل گئی-آج بھی روز عاشور فریاد ابن زہرہ حضرت امام حسینؑ علیہ السلام کی بازگشت سنائی دیتی ہے
عصر کا وقت ہے‘شبیرؑعلیہ السلام کی آتی ہے صدا

چور زخموں سے بدن ہو گیا اماں میرا
اپنی آغوش میں اب مجھ کو چھپالو اماں
دھوپ ہے اپنی عبا آن کے ڈالو امام
تھک گیا لاشیں اٹھا میں بھرے لشکر کی
لاش قاسم کی میں لایا ہو کبھی اکبر کی

خود بنائی ہے لحد میں نے علی اصغر کی
دوتسلی مجھے سینے سے لگا لواماں

قارئین! وہ کونسی صدی ہے جس میں ذکر امام حسینؑ علیہ السلام نہ کیا گیا ہو اور وہ کون سا زمانہ ہے جو اس پاک وپاکیزہ تذکرہ سے خالی رہا ہو-یہ ذکر درحقیقت مشیت پروردگار ہے اور پروردگار کا یہ عمومی وعدہ ہے
ترجمہ ”تم میرا ذکر کرو میں تمہارا ذکر کروں گا اور تم میرے شکر گزار بن کر رہو اور کفر کرنے والے نہ بننا-“
حضرت امام حسینؑ علیہ السلام نے جس انداز سے اللہ کا ذکر کیا وہ انداز اللہ تعالیٰ کو اتنا پسند آیا کہ اس نے ہر گلی‘ہر شہر اور تمام دنیا میں ذکر حسینؑ علیہ السلام کو عام کر دیا
ہستی ء وفا مٹ کے زمانے پہ چھا گئی
پیاسوں کی نیند دین کی دنیا جگا گئی
کربلا کا پیغام ہی یہ تھا کہ اچھی بات اور اعمال کانمونہ لوگوں کو بتایا جائے‘ کربلا کا بنیاد ہی ”امر بالمعروف ونہی عن المنکر“ پر ہے محرم ہمارے لیے درس کا‘ پیغام کا اور سبق کا اور سب سے بڑھ کر حضرت امام حسینؑعلیہ السلام اور محمدؐ وآل محمدؐ کے صبر واستقلال واستقامت کا جو تمام عالم انسانی سے ”کردارو عمل“ کا تقاضا ہوتا ہےقارئین کرام! ذکر امام حسینؑعلیہ السلام اور تاریخ کربلا وہ موضوع ہیں جن پر جتنا بھی بولا جائے اور جتنا بھی لکھا جائے اتنا ہی کم ہے-میں اپنی آج کی اس تحریر کا اختتام شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ کے ان دل موہ لینے والے اشعار کے س اتھ کرنا چاہوں گی کہ

بشر کی سربلندی میں بھی کوئی راز ہوتا ہے
جو سر دے دے سرمیدان وہی سرفراز ہوتا ہے
جہاں یہ ختم ہوتی ہیں حدود انسانی
وہیں سے پنجتن کی شان کا آغاز ہوتا ہے

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here