اسکول سے دور رہنا بچوں کی نشونما کیلئے نقصان دہ ہے، بورس جانسن

0
47

لندن:___ وزیراعظم بورس جانسن نے کہا ہے کہ یہ بات انتہائی اہم ہے کہ بچے اپنا تعلیمی سلسلہ شروع کرنے کے لیے اسکول واپس جائیں۔ والدین کے نام اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ بچوں کا اسکول سے دور رہنا ان کی دماغی اور جسمانی نشوونما کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ اس سے قبل برطانیہ کی کورونا اقدام کے چیف میڈیکل آفیسرز اور ڈپٹی چیف میڈیکل آفیسرز نے بھی ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے ہیں، کہا گیا تھا کہ کورونا وبا کے دوران بھی اسکول خطرات کم کرنے میں اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔ وزیراعظم بورس جانسن کا پیغام اس وقت سامنے آیا ہے جب ناردرن آئر لینڈ میں آٹم ٹرم کا آغاز ہوا ہے۔ اسکاٹ لینڈ میں اسکول پہلے ہی کھل چکے ہیں، جبکہ انگلینڈ اور ویلز میں اسکول ستمبرسے کھیلیں گے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اسکولوں میں کورونا سے متاثر ہونے کا امکان انتہائی کم ہے۔ انہوں نے اسکول کے عملہ کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے موسم گرما کے دوران کلاسوں کو کووڈ19سے بچانے کے لیے نئے اقدامات کیے۔ انہوں نے کہا کہ اسکول نہ جانے کی صورت میں بچوں میں جسمانی اور ذہنی مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ اختتام ہفتہ پر بھی انگلینڈ کے چیف میڈیکل آفیسر پروفیسر کرش وٹی نے بھی کہا تھا کہ اسکولوں میں کورونا سے متاثر ہونے کا امکان بہت کم ہے اور یہ بات اہم ہے کہ طلبہ کلاس میں واپس آکر اپنے دوستوں کے ہمراہ تعلیمی سلسلہ کا آغاز کریں۔ ڈپٹی چیف میڈیکل آفیسر انگلینڈ جینی ہیرس نے کہا ہے کہ طلبہ سے ان کو کورونا وائرس لگنے کا امکان انتہائی کم ہے۔ تاہم بالغ افراد کے درمیان رابطے وائرس کی منتقلی کا سبب بن سکتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ اساتذہ کافی بریک کے دوران سماجی فاصلے کا دھیان رکھیں اور باقاعدگی سے ہاتھ دھوئیں۔ شیڈو ایجوکیشن سیکریٹری کیٹ گرین نے کہا ہے کہ بچوں کی اسکول واپسی کے لیے حکومت والدین کو مضبوط اور واضح پیغام دینے میں ناکام رہی ہے۔ ایجوکیشن سیکرٹری گیون ولیمسن نے ایک مضمون میں لکھا کہ تھا کہ والدین اور طلبہ کو یاد دلانا چااہتا ہوں کہ وہ ستمبر میں نئی ٹرم کے لیے تیار رہیں، کیونکہ یہ انتہائی اہم ہے۔ لبرل ڈیمو کریٹ کے ایجوکیشن کی ترجمان لیلا موران نے کہا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ وزیراعظم ایجوکیشن سیکرٹری پر اعتماد کھو چکے ہیں، اس لیے اب انہیں ان سے بات کرنے کی بجائے برطرف کردینا چاہئے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here