اسرائیل، فلسطین تنازع: اسرائیل کی حماس کو تنبیہ، ’راکٹ، دھماکہ خیز مواد سے لدے غباروں کے حملے بڑی جھڑپ کا پیش خیمہ ہیں‘

0
236

اسرائیلی رہنماؤں نے حماس کو متنبہ کیا ہے کہ اگر سرحد پار سے راکٹ اور دھماکہ خیز مواد سے لدے غباروں کے حملوں کو نہ روکا گیا تو یہ غزہ پٹی میں ایک بڑی جھڑپ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔

وزیر دفاع بینی گینٹز نے کہا کہ غزہ میں بااثر فلسطینی گروپ کو ’شدید دھچکا پہنچے گا۔‘ اہم حماس کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ ’اگر اسرائیل کے حملے اور محاصرے جاری رہے تو وہ جنگ کرنے سے دریغ نہیں کریں گے۔‘ یاد رہے کہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے مابین ایک تاریخی امن معاہدہ طے پا چکا ہے جبکہ ترکی اور ایران نے اس معاہدے پر تنقید کی ہے اور پاکستان کے وزیراعظم نے اعلان کیا ہے کہ وہ اسرائیل کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے۔گذشتہ رات عسکریت پسندوں نے اسرائیل کی طرف 12 راکٹ فائر کیے جبکہ اسرائیلی جنگی طیاروں نے تین مواقع پر فضائی حملے کیے۔گذشتہ ہفتے سے غزہ سے متعدد راکٹ حملوں کے ساتھ ساتھ سینکڑوں غبارے دھماکہ خیز مواد اور آتشگیر آلات کے ساتھ چھوڑے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے جنوبی اسرائیل میں درجنوں مقامات آگ کی لپیٹ میں آئے۔اسرائیل نے اس کے جواب میں بمباری کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے غزہ میں حماس کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔اسرائیل نے ماہی گیر کشتیوں کے سمندر میں جانے پر بھی پابندی عائد کردی ہے اور وہ غزہ کے لیے تجارتی کراسنگ پر انسانی ہمدردی کے امدادی سامان کو ہی لے جانے کی اجازت دے رہا ہے۔ایندھن کی فراہمی کے بغیر غزہ کا واحد پاور پلانٹ بھی بند ہو گیا ہے۔اس سے اس علاقے کی 19 لاکھ آبادی کو اب آٹھ گھنٹے کے بجائے روزانہ چار گھنٹے ہی بجلی فراہم ہو رہی ہے۔جمعرات کی شب اور جمعہ کی صبح کو غزہ سے داغے گئے راکٹوں کی تعداد تازہ ترین پرتشدد دور کے شروع ہونے کے 24 گھنٹوں میں سب سے زیادہ تھی۔

اسرائیلی ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) نے کہا کہ 12 میں سے نو حملوں کو پسپا کر دیا گیا ہے۔اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے ہنگامی خدمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ سدیروت میں تین افراد کا صدمے کا علاج کیا جا رہا ہے۔ وہاں ایک مکان کو ایک راکٹ سے نقصان پہنچا ہے جو کہ پھٹ نہیں سکا۔ اس کے علاوہ ایک خاتون محفوظ پناہ گاہ کی تلاش میں زخمی ہو گئی ہے۔آئی ڈی ایف نے کہا کہ اس کے جواب میں فضائی حملہ کیا گیا جس میں غزہ میں راکٹ گولہ بارود تیار کرنے والے اور ‘زیرزمین دہشت گردی کے انفراسٹرکچر’ کے لیے استعمال کیے جانے والے حماس کے فوجی کمپاؤنڈ کو نشانہ بنایا گیا۔جمعہ کے روز اسرائیلی کمانڈروں کے ذریعہ بریفنگ کے بعد مسٹر گینٹز نے کہا: ‘آئی ڈی ایف تیار ہے ، دفاع کر رہا ہے اور وہ جنوب کے باشندوں کی حفاظت کرتا رہے گا، ہم پر حملہ کرنے والوں پر حملہ کرے گا اور انھیں سخت نقصان پہنچائے گا۔’انھوں نے مزید کہا: ‘غزہ کے باشندے حماس کی وجہ سے پریشانی کا شکار ہیں۔’غزہ میں مسلح فلسطینیوں کے دھڑوں نے، جن کا حماس کا ایک حصہ ہے، راکٹ فائر کی مشترکہ ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے ‘فلسطینی عوام کے خلاف کسی بھی حملے کا جواب دیا ہے اور وہ اس کا جواب دیتے رہیں گے۔’حماس کے ترجمان فوزی برہوم نے کہا کہ ’اگر یہ بمباری اور ناکہ بندی جاری رہی اور اسی طرح سے جنگ جاری رہی تو گروپ دشمن کے ساتھ جنگ لڑنے میں ہچکچائیں گے نہیں۔‘انھوں نے مزید کہا: ’اگر اسرائیلی اپنی جارحیت جاری رکھتے ہیں۔۔۔ تو انھیں اس کی قیمت ادا کرنی ہو گی۔’غزہ اور اسرائیل میں مصری ثالثوں نے امن کی بحالی کے بارے میں بات چیت کی ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حماس غزہ پر ناکہ بندی میں نرمی دیے جانے اور قطر سے مزید مالی امداد کے حصول کے لیے اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔اسرائیل اور مصر نے غزہ پر زمینی، سمندری اور ہوائی ناکہ بندی اس وقت عائد کی جب انتخابات میں کامیابی کے ایک سال بعد حماس نے اپنے حریفوں کو ختم کر کے سنہ 2007 میں اس علاقے پر خود کو مستحکم کیا۔ دونوں ممالک کا کہنا ہے کہ یہ ناکہ بندی اپنے دفاع کے لیے ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here