انگلینڈ، ویلز اور ناردرن آئرلینڈ کے جی سی ایس ای کا نتیجہ پاس پاس ریٹ 70 فیصد سے بڑھ کر 79 فیصد ہوگیا، ٹاپ گریڈ طلبہ میں 40 فیصداضافہ

0
113

لندن :___ انگلینڈ، ویلز اور ناردرن آئرلینڈ کے جی سی ایس ای کا نتیجہ جمعرات کو آگیا جس کے مطابق ’’پاس ریٹ‘‘ گزشتہ برس کے 70فیصد سے بڑھ کر 79فیصد ہوگیا۔ ٹاپ گریڈ لینے والے طلبہ کی تعداد میں 40فیصد اضافہ ہوا۔ بی ٹیک کا امتحان دینے والے پانچ لاکھ طلبہ کا نتیجہ اپ گریڈ کرنے کیلئے روک لیا گیا، اے لیول کے امتحانات کا نیا نتیجہ بھی نظرثانی کے بعد جاری کردیا گیا ہے جس کے نتیجہ میں اے یا اس سے بھی ہائی گریڈ لینے والوں کی شرح 38.1فیصد ہوگئی۔ وزیراعظم بورس جانسن نے جی سی ایس ای کے طلبہ کو مبارکباد پیش کی ہے اور کہا ہے کہ لوگوں کی زندگیاں بچانے میں طلبہ نے اہم کردار ادا کیا ۔ گزشتہ ہفتہ اے لیول کے امتحانات کے نتائج کو الگورتھم سسٹم کے تحت دیئے جانے کے بعد ایک بحران پیدا ہوگیا تھا کیونکہ یہ الزام لگایا جارہا تھا کہ اس سسٹم سے پرائیوٹ اسکولوں کے طلبہ کو فائدہ ہوا ہے جس کے بعد الگورتھم سسٹم کو معطل کرتے ہوئے طلبہ کو وہ ہی گریڈ دینے کا اعلان کیا تھا جو کہ ان کے اساتذہ نے ان کے لئے تجویز کئے تھے۔ کیونکہ خیال تھا کہ اگر الگورتھم سسٹم کو نہ بدلا گیا تو جی سی ایس ای کے نتائج کے بعد بھی وہ ہی صورت حال پیدا ہوگی جو کہ اے لیول کے امتحانات کے بعد پیدا ہوئی تھی۔ اساتذہ کے تجویز کردہ گریڈز کے سبب پاس ہونے والے طلبہ کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا اور پاس ہونے والوں کی شرح گزشتہ برس کی نسبت تقریباً 9فیصد زائد رہی۔ انگلینڈ میں ریاضی اور انگریزی میں بھی نمایاں گریڈ لینے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ واضح رہے کہ کورونا وبا کے سبب مارچ سے تعلیمی سلسلہ معطل تھا اور امتحانات بھی منعقد نہیں ہوسکے تھے۔ جی سی ایس ای کے نتائج کے مطابق 78.8فیصد طلبہ نے گریڈ 4یا اس سے زیادہ گریڈ حاصل کئے، 2019ء میں یہ شرح 69.9فیصد تھی۔ ایک تہائی طلبہ نے ٹاپ گریڈ 7یا اس سے زیادہ نمبر حاصل کئے جوکہ سابقہ نظام کے مطابق اے گریڈ کے مساوی ہے۔ بی ٹیک کے نتائج کو اس لئے روک لیا گیا تاکہ انہیں اساتذہ کے تجویز کردہ گریڈز کے مطابق ڈھالا جاسکے۔ اے لیول کے امتحانات کے نتائج پر نظرثانی کے بعد یونیورسٹیز بھی منتظر ہیں۔ امتحانی سسٹم کے نگران ادارے ’’آف کل‘‘ کے مطابق رواں برس کے نتائج کا گزشتہ برس کے نتائج سے موازنہ نہیں کیا جاسکتا۔ ویلز میں 26فیصد طلبہ اے یا اے اسٹار حاصل کئے، 2019ء میں یہ شرح 1.8تھی۔ 99.6فیصد طلبہ نے اے اسٹار لیکر جی گریڈ تک حاصل کئے، گزشتہ برس یہ شرح 97.2فیصد تھی۔ ناردرن آئرلینڈ میں 37.1فیصد نے اے یا اے اسٹار گریڈ حاصل کئے جوکہ گزشتہ برس کی نسبت 5.7فیصد زائد ہے۔ اے اسٹار سے جی گریڈ تک حاصل کرنے والوں کی شرح میں 0.9فیصد اضافہ کے ساتھ 99.7فیصد رہی۔ طلبہ کی اکثریت الگورتھم سسٹم کے خاتمے پر اطمینان کا سانس لیا تھا۔ جبکہ اے لیول کے نظرثانی شدہ نتائج کا اجرا بھی کردیا گیا ہے۔ انگلینڈ میں اے یا اے اسٹار حاصل کرنے والے طلبہ کی تعداد 38.1فیصد رہی۔ گزشتہ ہفتہ متنازع الگورتھم سسٹم کے تحت جاری ہونے والے نتائج میں یہ شرح 27.6فیصد تھی۔ انگلینڈ میں اے سے ای گریڈ حاصل کرنے والے طلبہ کی شرح 99.7فیصد رہی جو کہ اب تک کے ریکارڈ کے مطابق بلند ترین ہے۔ الگورتھم سسٹم کے تحت 39.1فیصد طلبہ کو کم گریڈز ملے تھے۔ ان نتائج کے سبب 15ہزار طلبہ کو یونیورسٹی کے انتخاب کی پہلی چوائس نہیں ملی تھی تاہم اب وہ نظرثانی شدہ نتائج کے مطابق دوبارہ یونیورسٹی سے رجوع کرسکیں گے۔ جبکہ بورس جانسن نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ائیرالیون کے اختتام اس طرح سے ہونے کے بارے میں کسی نے نہیں سوچا تھا اور گزشتہ چند ماہ بہت سخت تھے، لیکن طلبہ نے گھر میں رہ کر اور سماجی دوری کا خیال رکھ کر جانیں بچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، جس کیلئے وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔

 

 

 

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here