روسی اپوزیشن رہنما الیکسی ناوالنی کو زہر دے دیا گیا

0
98

روسی اپوزیشن لیڈر الیکسی ناوالنی دوران پرواز زہر دیے جانے سے بیمار پڑنے کے بعد سائبیریا کے ایک ہسپتال میں کوما میں اور وینٹیلیٹر پر ہیں۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ان کی ترجمان کیرا یارمیش نے بتایا کہ 44 سالہ الیکسی ناوالنی کام کے سلسلے میں تومسک کے سفر کے بعد سائبیریا سے ماسکو واپس جارہے تھے کہ طیارے میں بیمار ہونے کے بعد ہنگامی لینڈنگ کی گئی۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی ٹی اے ایس ایس کے مطابق وہ سائبیریا کے شہر اومسک کے ایمرجنسی ہسپتال نمبر ایک میں ٹوکسیکولوجی مریضوں کے انتہائی نگہداشت یونٹ میں ہیں۔ ڈاکٹروں نے ان کی حالت کے بارے میں متضاد معلومات دیتے ہوئے کہا کہ ان کی حالت مستحکام ہوگئی ہے لیکن یہ بھی کہا کہ ان کی جان کو ابھی بھی خطرہ ہے اور وہ انہیں بچانے کے لیے کوشاں ہیں۔کیرا یارمیش نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ‘ہمارا خیال ہے کہ الیکسی ناوالنی کو ان کی چائے میں زہر دیا گیا تھا، یہی وہ چیز تھی جو انہوں نے صبح پی تھی، ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ زہر گرم چائے جلدی حل ہو گیا تھا’۔انہوں نے بتایا کہ اپوزیشن لیڈر نے پرواز میں سوار ہونے سے قبل ٹومسک ایئرپورٹ کے کیفے میں ایک کپ چائے پی تھی۔انٹرفیکس نیوز ایجنسی نے کیفے کے مالکان کے حوالے سے بتایا کہ وہ سی سی ٹی وی کیمرے چیک کر رہے ہیں تاکہ معلوم کرنے کی کوشش ہو کہ کیا ہوا تھا۔انہوں نے ایکو موسکیوی ریڈیو کو بتایا کہ ‘الیکسی ناوالنی کو جہاز میں پسینہ آ رہا تھا اور انہوں نے مجھ سے بات کرنے کو کہا تاکہ وہ آواز پر توجہ مرکوز کرسکیں، اس کے بعد وہ واش روم گئے اور وہاں ہوش کھو بیٹھے’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘الیکسی ناوالنی ابھی تک بے ہوش ہیں، انہیں وینٹی لیٹر پر رکھا گیا ہے، ہماری مطالبے پر پولیس کو ہسپتال بلالیا گیا ہے’۔انہوں نے مزید کہا کہ انہیں یقین ہے کہ مشتبہ زہر اس سال کے علاقائی انتخابی مہم سے منسلک ہے۔

ماضی کے حملے

الیکسی ناوالنی جو اعلی عہدیداروں کے خلاف انسداد بدعنوانی کی مہمات اور صدر ولادمیر پیوٹن پر تنقید کے لیے جانے جاتے ہیں، کو ماضی میں کئی جسمانی حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔2017 میں حملہ آوروں نے ان کے دفتر کے باہر ان کے چہرے پر سبز اینٹی سیپٹک پھینک دی تھی جس کی وجہ سے انہیں آنکھوں کے جلنے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔گزشتہ سال انہیں جیل سے ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں ایڈمنسٹریٹو گرفتاری کے بعد سزا بھگت رہے تھے۔ ان کی ٹیم نے اس بارے میں بتایا تھا کہ انہیں زہر دیا گیا تھا۔تاہم ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ انہیں شدید الرجک اٹیک ہوا تھا اور اگلے ہی دن انہیں واپس جیل بھیج دیا گیا تھا۔ستمبر میں ہونے والے 30 سے زائد علاقوں میں انتخابات میں پیوٹن کے حامی امیدواروں کی مخالفت کرنے کے لیے حکمت عملی سے متعلق سفر کررہے تھے۔وہ متعدد مجرمانہ تحقیقات کا نشانہ رہے ہیں جب کہ ان کی اینٹی کرپشن فاؤنڈیشن پر پولیس اور تفتیش کار باقاعدگی سے چھاپے مارتے رہتے ہیں۔انہوں نے احتجاج منعقد کرنے کی وجہ سے متعدد مرتبہ جیل کی سزا بھی کاٹ چکے ہیں۔گزشتہ ماہ سیاستدان کو کریملن سے قریبی تعلقات رکھنے والے ایک کاروباری شخص سے مالی طور پر تباہ کن قانونی دعوے کے بعد اپنی فاؤنڈیشن کو بند کرنا پڑا تھا۔روس کی حزب اختلاف کے سب سے ممتاز رکن الیکسی ناوالنی نے 2018 کے صدارتی انتخابات میں ولادمیر پیوٹن کو چیلینج کرنے کے لیے مہم چلائی تھی تاہم انہیں انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا گیا تھا۔ناوالنی فاؤنڈیشن کے وکیل نے کہا کہ ان کی ٹیم روس کی تحقیقاتی کمیٹی سے مجرمانہ تحقیقات کا آغاز کرنے کی درخواست کر رہی ہے۔انہوں نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ ‘اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ الیکسی ناوالنی کو ان کے سیاسی موقف اور سرگرمیوں کی وجہ سے زہر دیا گیا ہے’۔سابق امریکی سفیر برائے ماسکو مائیکل میکفول نے ٹوئٹ کیا ‘الیکسی نووالنی کی صحت یابی کے لیے دعا گو ہوں’۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here