نرگس ماولوالا: ایم آئی ٹی کے شعبہ سائنس کی نئی سربراہ پاکستانی نژاد خاتون سائنسدان

0
95

امریکہ کی معروف اور سائنس اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں سب سے بڑی یونیورسٹی کہلائی جانے والی ایم آئی ٹی کے شعبہ سائنس کی نئی ڈین ایک پاکستانی نژاد سائنسدان کو بنایا گیا ہے۔ نرگس ماولوالا ایک ایسٹرو فزیسسٹ ہیں۔ اُن کی تعیناتی کے اعلان میں ایم آئی ٹی نے بتایا کہ انھوں نے کشش ثقل کی لہروں کا سراغ لگانے کے بارے میں نئے خیالات متعارف کروانے کی وجہ سے شہرت پائی۔ یہ کام انہوں نے لیگو (لیزر انٹرفیرومیٹر گرویٹیشنل ویو آبزرویٹوری) کی ایک اہم رکن کی حیثیت سے کیا۔ ایم آئی ٹی کے مطابق انھیں متعدد ایوارڈز اور اعزازات سے نوازا چا چکا ہے۔ اس خبر پر پاکستان میں انھیں بہت سراہا جا رہا ہے اور اُن کا نام سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کر رہا ہے۔ زیادہ تر افراد نے اس پر اپنی خوشی کا اظہار کیا اور اس بات پر فخر کیا کہ وہ پاکستانی ہیں اور ایک خاتون ہیں۔

راشنہ گزدر

مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیر مملکت احسن اقبال نے ٹویٹ کی اور لکھا کہ ‘پاکستانی امیریکن اسٹرو فزیسسٹ نرگس ماولوالا کو مبارک ہو جو ایم آئی ٹی کی سکول آف سائنس کی نئی ڈین نامزد ہوئی ہیں۔ مجھے 2016 میں اپنے ایم آئی ٹی، امریکہ کے دورے میں اُن سے ملنے کا موقع ملا تھا۔ وہ ایک غیر معمولی سائنسدان ہیں۔‘

نذہت صدیقی

نرگس ماولوالا

نرگس ماولوالا کی زندگی

ایم آئی ٹی کے مطابق نرگس ماولوالا پاکستان کے شہر لاہور میں پیدا ہوئیں اور اُن کی پرورش کراچی میں ہوئی۔ وہ بچپن ہی سے میکینکس میں دلچسپی رکھتی تھیں اور سائیکل کی مرمت میں مگن رہتی تھیں۔ کم عمری ہی میں وہ میتھس اور فزکس کی طرف کھینچی چلی گئیں اور اُن کے والدین نے انھیں اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرون ملک کالجوں میں داخلوں کا کہا۔

نرگس ماولوالا

ویلزلی کالج سے فزکس اور ایسٹرونومی میں بیچلرز کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد 1990 میں وہ فزکس میں پی ایچ ڈی کے لیے ایم آئی ٹی گئیں جہاں ان کے ایڈوائزر رینر وائیس تھے۔ رینر وائیس کشش ثقل کی لہروں کا سراغ لگانے کے لیے ایک آلے پر کام کر رہے تھے اور ماولوال نے اسے بنانے میں اُن کی معاونت کی اور یہ ہی اُن کی پی ایچ ڈی کا ایک حصہ بنا۔ سنہ 2017 میں رینر وائیس کو اس کام پر فزکس کا نوبیل انعام ملا تھا۔ نرگس ماولوالا نے اپنی اس تعیناتی کے بارے میں کہا ہے کہ ’ایم آئی ٹی دنیا میں جدید ترین سائنس کے لیے اہم جگہوں میں سے ہے اور یہ رتبہ برقرار رہے گا۔ ساتھ ساتھ ہمیں تنوع، نسلی اور سماجی مساوات کے لیے کوشش کرنی ہے۔’
اسد غفور

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here