امریکہ میں نسل پرستی اور متنازع حکومتی پالیسی کے خلاف احتجاج میں مزید شدت، مظاہرے میں فائرنگ سے ایک شخص ہلاک

0
87

واشنگٹن (نیوز ڈیسک) امریکہ میں نسل پرستی اور اس سے متعلق متنازع حکومتی پالیسی کے خلاف احتجاج میں مزید شدت آ گئی ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق امریکا میں سیاہ فام شخص جارج فلوئیڈ کی ہلاکت کو 2 ماہ گزرنے کے بعد بھی کئی شہروں میں ا حتجاج جاری ہے جب کہ حکومت کی جانب سے مظاہرین کے خلاف اقدامات پر عوام میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے جب کہ ٹیکساس میں احتجاج کے دوران فائرنگ سے ایک شخص ہلاک ہوگیا۔ واضح رہے کہ کئی ریاستوں میں بڑھتے احتجاج کے پیش نظر صدر ٹرمپ نے وفاقی سیکورٹی اداروں کے اہل کاروں کو تعینات کردیا تھا، جن کے ساتھ مختلف مقامات پر مظاہرین کی جھڑپیں ہو رہی ہیں۔ کئی شہروں کی انتظامیہ نے صدر ٹرمپ کے اقدام کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم اپنی حدود میں فوج کو اجازت نہیں دیں گے۔ دریں اثنا حکومتی اقدام کے خلاف مظاہرین نے آسٹن، ٹیکساس، کنیکٹیکٹ، لوئزول، نیو یارک، کیلی فورنیا، نبراسکا، آکلینڈ، لاس اینجلس اور ورجینیا میں مارچ کیا۔ کئی شہروں میں نسلی امتیاز کے خلاف ہونے والے احتجاج میں شریک افراد پر پولیس نے طاقت کا استعمال کیا جس سے کئی افراد زخمی ہوگئے جب کہ 47 مظاہرین کو پولیس نے گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق پرتشدد جھڑپوں کے دوران 59 پولیس افسر زخمی بھی ہوئے۔ احتجاج کے دوران مظاہرین نے کئی مقامات پر توڑ پھوڑ کی اور ایک گاڑی کو آگ لگا دی۔ پولیس نے احتجاج کو فسادات کا نام دے کر کریک ڈاؤن شروع کرکے بڑے پیمانے پر گرفتاریاں شروع کردی ہیں۔ واضح رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ عوامی مظاہروں کو طاقت کے زور سے کچلنے کے اشارے دے چکے ہیں جب کہ ناقدین نے مظاہروں میں شدت کا الزام پولیس پر لگایا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ پولیس استیصالی اور غیر قانونی حربے استعمال کرنے سے گریز نہیں کر رہی

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here