کورونا وائرس کن لوگوں پر اثر انداز نہیں ہوسکتا، نئی تحقیق میں بڑا انکشاف

0
276

 کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے قوت مدافعت کا مضبوط ہونا بہت ضروری ہے، سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ وائرس سے مقابلہ وہی لوگ کرسکتے ہیں جن کی قوت مدافعت بیماری کا ڈٹ کر مقابلہ کرسکے۔عالمی وبا کرونا وائرس کے حوالے سے سوئیڈش سائنسدانوں کی ایک نئی تحقیق میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ جسم میں امیونٹی یعنی قوت مدافعت مضبوط کرنے والے افراد کرونا وائرس کا شکار نہیں ہوسکتے اور اس وجہ سے انہیں اینٹی باڈیز ٹیسٹ کی بھی ضرورت پیش نہیں آتی۔حال ہی میں کیرولنسکا یونیورسٹی اسپتال سوئیڈن کے محققین نے ان 200 افراد پر تحقیق کی جن میں کرونا وائرس کی علامات کم تھیں یا پھر تھیں ہی نہیں۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ جن افراد میں کرونا وائرس کی علامات کم یا پھر ہوتی ہی نہیں ان میں ٹی سیلز (خلیات) پائے جاتے ہیں جو کسی بھی انفیکشن سے لڑتے ہیں۔ٹی سیلز انسانی جسم میں ایک قسم کے سفید خون کے خلیات ہیں جو وائرس سے متاثرہ خلیوں کو پہچاننے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور یہ قوت مدافعت کے نظام کا ایک لازمی حصہ ہوتا ہے۔محققین کا کہنا ہے کہ مطالعے سے اخذ کیے گئے نتیجے کے مطابق خون کا عطیہ کرنے والے صحت مند افراد میں سے 30 فیصد میں ٹی سیل امیونٹی اینٹی باڈیز سے دو گنا زیادہ ہوجاتی ہیں۔ یعنی ایسے مریض جن میں کرونا وائرس کی علامات کم ہیں یا نہیں ہیں ان میں اگر اینٹی باڈیز کم ہے اس کے باوجود بھی ٹی سیلز وائرس سے مقابلہ کرسکتے ہیں۔واضح رہے کہ دنیا بھر میں کرونا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد ایک کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے جب کہ 5 لاکھ سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں لیکن تاحال اس کے علاج کے لیے دنیا بھر کے سائنسدان اور طبی ماہرین کوئی باقاعدہ ویکسین تیار کرنے میں تاحال ناکام ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here