پاک افغان دو طرفہ تجارت کو مزید فروغ دینے کیلئے وفاقی حکومت کی افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت کو تحت کوٹہ مقرر کرنے کی تجویز

0
85

پشاور___وفاقی حکومت نے افغانستان کے ساتھ ’’پاک افغا ن ٹرانزٹ ٹرید‘‘کے تحت دوطرفہ تجارت کو مذید فروغ دینے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کو ریگولیٹ کرنے ، افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت کوٹہ مقرر کرنے کی تجویز پیش کی ہے ۔طورخم پر مسافروں اور گاڑیوں کی چیکنگ اور کلیئرنس کا عمل تیزکرنےکیلئے ایف آئی اے اور ایف سی اہلکاروں کی تعداد بڑھانے کی ہدایت ،متنی پشاور سے طورخم سرحد تک سڑکوں پر ہائی ویز پولیس تعینات کرنے کی سفارش کی گئی ہے،وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کی زیر صدارت اہم اجلاس ،عمل درآمد کیلئے چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا اور آئی جی کے پی کو ارسال ،تجویز پر عمل درآمد کیلئے وزارت کامرس ،ایف بی آر ،این ایل سی حکام کو بھی ہدایت جاری کردی گئی ہیں،تجویز پر عمل درآمد کے لئے وزارت کامرس ،ایف بی آر ،این ایل سی حکام کو ہدایت بھی جاری کی گئی ہے جبکہ پاک افغان سرحد طورخم پر دبائو کم کرنے اور مسافروں اور گاڑیوں کی چیکنگ اور کلیئرنس کا عمل تیزکرنے کے لئے ایف آئی اے اور ایف سی کے اہلکاروں کی تعداد بڑھانے اور متنی پشاور سے طورخم سرحد تک سڑکوں پر ہائی ویز پولیس تعینات کرنے کی سفارشات پیش کی ہیں یہ سفارشات وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس میں مرتب کی گئی ہیں۔اجلاس میں دونوں ممالک کے درمیان باہمی رابطوں کو بہتر بنانے کے لئے باقاعدگی کے ساتھ سرحد پر فلیگ میٹنگز کا انعقاد کرنے کی بھی سفارش کی گئ ہے ۔اجلاس میں مرتب کی جانے والی سفارشات عمل درآمد کے لئے دوسرے صوبوں کے اعلیٰ حکام کے علاوہ چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا اور آئی جی خیبرپختونخوا کو ارسا ل کی گئیں ہیں۔ وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری کی صدارت میں ہونےوالے مذکورہ اجلاس میں پاک سرحد طورخم کے حوالے بعض ایشوز کے علاوہ سرحد پر دونوں ممالک کے درمیاں تجارت اور گاڑیوں کی آمد رفت کے دوران کورونا ایس او پیز پر عمل درآمد پر تفصیلی غور کیا گیا جس میں ہر قسم کی گاڑیوں بشمول گارگو اور خالی گاڑیوں کی سکریننگ ،زیر پوائنٹ پر گاڑیوں کے ٖڈرائیورز کے تبادلے ،دونوں اطراف سے داخل ہونے والے گاڑیوں کی سنسیٹائزیشن کے مسائل کا جائزہ لیا گیا ۔اجلاس کو بتایا گیا کہ ان اقدمات کی وجہ طورپر سرحدپر گاڑیوں کی تعداد قابل غور حد تک کم ہوکر روزانہ کی بنیا دپر پانچ سو گاڑیوں تک آگئی ہے جوکہ کورونا وبا سے قبل یہ تعداد ایک ہزار سے گیارہ سو روزانہ ہوتی تھی ۔اجلاس میں طورخم سرحد پر درپیش اس صورت حال کے تناظر میں پاک افغاں سرحدوں کی موجودہ صورت حال اور دونوں ممالک کے درمیاں باہمی تجارت کو مذید فروغ دینے کے لئے کئی اہم سفارشات مرتب کرکے عمل درآمد کے لئے متعلقہ حکام کو ارسال کی گئیں ۔اجلاس کو بتایا گیا کہ کورونا وبا سے قبل تمام ایکسپورٹ اور ٹرانز ٹ گاڑیاں سیدھا طورخم بارڈر جاتی تھیںتاہم کورونا وبا سے پیدا شدہ صورتحال کے باعث سرحد پر رش سےبچنے کے لئے ان گاڑیوں کو ایک خاص مقام پر پارک کیاجاتا ہےجسے این ایل سی اور ایف سی کے تعاون سے پولیس کنٹرول کرتی رہی مگر کرپشن کے الزامات کے بعد آئی جی خیبرپختونخوا نے مذکورہ مقام سے پولیس اہلکاروں ہٹادیا ہے اور اب ان گاڑیوں کو باڑہ کے مقام پر پرائیویٹ ٹرانسپوڑٹرز نے ان کاانتظام سنھبال لیا ہے اس صورتحا ل میں آئی جی پولیس خیبرپختونخوا اور آئی جی ایف سی سے کو ہدایت کی گئی کہ سرحد پر پہلے پہچنے والے ٹرکوں کو پہلے کلیئرکیاجائےسرحد گاڑیوں کے رش کوکنٹرول کرنے کے لئے تربیت یافتہ ٹریفک پولیس اہلکار تعینات کئے جائیں ،سرحد پر ایف سی اور پولیس کے درمیان کوآرڈنینش بڑھانے کے علاوہ متنی سے طورخم تک ہائی پولیس کی تعینات کی جائےجبکہ کارگو لےجانے والی گاریوں کو ترجیح دی جائے ۔اجلاس کو بتایا گیا کہ سرحدپر صرف ایک سکینر دستیاب ہے جسے این ایل سی کے حکام سپروائز کررہے ہیں تاہم کورونا وبا سے قبل صرف امپورٹ اور خالی کنٹینرز کی سکیننگ کی جاتی تھی مگر کورونا وبا کے بعداب نئی پالیسی کے مطابق ایکسپورٹ اور فارورڈ ٹرانز ٹ گاڑیوں کی بھی اسی سکینر کے زرئیے سکیننگ کی جاتی ہےجوکہ امپورٹ یارڈ میں نصب کیا گیا ہے اس لئے این ایل سی حکام ایک اور سکینر جوکہ حال ہی میں نصب کیا گیا ہے کوبھی آپریشنلائز کیا جائے تاکہ اس مسلےپر قابو پایا جاسکے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here