گلاسگو میں چاقو سے حملے میں 3 افراد ہلاک، پولیس افسر زخمی، حملہ آور بھی مارا گیا

0
97

گلاسگو:____ گلاسگو سٹی سینٹر کی ویسٹ جارج اسٹریٹ میں ہونے والے ایک خوفناک حملے میں تین افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ پارک ان ہوٹل کے زینے میں ہونے والے اس افسوسناک واقعہ میں ہلاک ہونے والوں میں مشتبہ قاتل بھی شامل ہیں، جسے پولیس نے گولی مار کر ہلاک کردیا، 6مزید افراد چاقوئوں کے وار سے شدید زخمی ہوئے ہیں، جن میں ایک پولیس آفیسر بھی شامل ہے۔ مذکورہ پولیس آفیسر اگرچہ شدید زخمی ہےلیکن اس کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے۔ مسلح پولیس کی بھاری تعداد نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ عام لوگوں کے لیے کوئی خطرہ نہیں اور اب نہ ہی وہ کسی مزید مشتبہ شخص کو تلاش کررہے ہیں۔ گلاسگو سٹی سینٹر میں پارک ان ہوٹل آج کل اسائلم سیکرز کا ہوسٹل بنا ہوا ہے۔ ہوٹل کے سامنے ایک بلڈنگ میں کام کرنے والے نے بتایا کہ میں نے ایک افریقین نژاد شخص کو دیکھا، جو زمین پر گرا تھا اور اس کے پائوں میں جوتے بھی نہ تھے، کسی نے اس کو سائیڈ سے تھام رکھا تھا، پتہ نہیں کہ اسے گولی لگی تھی کہ چاقو سے زخم آئے تھے، اس واقعہ کے محرکات کا ابھی علم نہیں ہوسکا۔ اسکاٹ لینڈ میں کائونٹر ٹیررزم کے ایکسپرٹ اور سابق پولیس آفیسر ڈیوڈ نے بتایا کہ ضروری نہیں کہ یہ واقعہ دہشت گردی کا ہو، اس کے دیگر کئی عوامل بھی ہوسکتے ہیں، جن میں گھریلو جھگڑے بھی شامل ہیں۔ سکاٹ لینڈ کے پولیس کے محکمے ’سکاٹ لینڈ پولیس فیڈریشن نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایک پولیس افسر پر بھی چاقو سے وار کیے گئے جس سے وہ زخمی ہوگیا۔واقعہ کی اطلاع پر مسلح پولیس اہلکار ویسٹ جارج سٹریٹ میں پارک اِن ہوٹل کے باہر پہنچ گئے جبکہ پولیس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ صورت حال قابو میں ہے اور عوام کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ سکاٹ لینڈ کی فرسٹ منسٹر نکولا سٹرجن نے کہا ہے کہ اس واقعہ کی تفصیلات نہایت اندہوناک ہیں اور جس طرح صورت حال واضح ہوتی جا رہی پولیس کی طرف سے انہیں معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کا دل اس واقعے میں متاثر ہونے والے ہر شخص کے ساتھ ہے۔ برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن نے کہا ہے کہ انہیں اس واقعے کی خبر سن کر شدید صدمہ ہوا ہے۔ سکاٹ لینڈ پولیس کے اعلیٰ اہلکار سٹیو جانسن نے عوام کو اس علاقے سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلح پولیس اہلکاروں نے صورت حال سنبھال لی ہے اور انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ ایک مشتبہ شخص کو پولیس نے گولی کا نشانہ بنایا تھا۔ انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ ایک پولیس اہلکار بھی زخمی ہوا تھا جس کو اب طبی امداد دی جا رہی ہے۔ انہوں نے عوام سے کہا کہ پولیس اس واقع کے حوالے سے اب کسی اور ملزم کی تلاش میں نہیں ہے۔ سکاٹ لینڈ کے وزیر انصاف حمزہ یوسف نے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا ہے کہ صورت حال کے بارے میں پولیس حکومت کو آگاہ کر رہی ہے۔ ایک عینی شاہد جس نے اپنا نام جون بتایا اس کے بقول جب وہ ہوٹل کی تیسری منزل سے نیچے آئے تو انہوں نے استقبایلہ کائونٹر پر خون دیکھا۔ انہوں نے پی اے ایجنسی کو بتایا کہ پہلے انھیں صرف ایک زخمی نظر آیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ داخلی دروازے تک گئے اور زخمی سے چیخ کر کہا کہ وہ کسی کو مدد کے لیے بلا رہے ہیں اور ذرا صبر کرو۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد انہوں نے ایک اور شخص کو موت اور زندگی کی کشمکش میں دیکھا۔ ایک اور عینی شاہد کریگ ملروے نے جو ایک قریبی دفتری عمارت کے باہر موجود تھے، بتایا کہ انہوں نے چار افراد کو ایمبولینس میں ڈال کر لے جاتے ہوئے دیکھا ہےعینی شاہد نے مزید بتایا کہ یہ شخص ان چار افراد میں شامل تھا جنہیں ہسپتال منتقل کیا گیا اور ایسا لگتا تھا کہ وہ بھی متاثرہ افراد میں سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد افرا تفری کا عالم تھا اور کئی ایمبولینس کھڑی تھیں اور مسلح پولیس اہلکاروں کو تیزی سے ہوٹل کے اندر جاتے ہوئے دیکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ابھی وہیں کھڑے تھے جب پولیس باہر آئی اور انھیں اندر جا کر اندر سے دروازہ بند کرنے کو کہا

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here