’لڑکی کی حیثیت سے مطمئن زندگی نہیں گزار رہی، جنس تبدیل کروانے کی اجازت دی جائے‘: پشاور ہائی کورٹ میں درخواست دائر

0
95

پشاور ہائی کورٹ نے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس پشاور کی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ عدالت کو پیش کی گئی اس درخواست کا جائزہ لیں جس میں ایک کم عمر خاتون نے لکھا تھا کہ وہ جینڈر ڈسفوریا نامی مرض میں مبتلا ہیں اور انھیں جنس تبدیل کرنے کے آپریشن کروانے کی اجازت دی جائے۔درخواست کی سماعت جسٹس قیصر رشید اور جسٹس نعیم رشید کی عدالت میں ہوئی۔درخواست گزار خاتون کے وکیل سیف اللہ محب کاکا خیل کے مطابق ان کی دائر کردہ پیٹشن پر عدالت نے حیات آباد میڈیکل کمپلکیس کی انتظامیہ کو ہدایات دی ہیں کہ وہ تین ماہ کے اندر عدالت میں مندرجہ ذیل سوالات کے بارے میں رپورٹ پیش کریں:

  1. خاتون کی جنسی حالت کے بارے میں رپورٹ پیش کریں، کیا یہ ممکن ہے کہ خاتون کی جنس آپریشن کے ذریعے سے تبدیل کی جا سکتی ہے؟
  2. خاتون کا ممکنہ علاج کیا ہے؟
  3. ممکنہ آپریشن کے حوالے سے خاتون کو لاحق خطرات اور اس کے بارے میں ماہرانہ رائے
  4. ہسپتال کس طرح اس معاملے میں خاتون کی مدد کرسکتا ہے؟

محب اللہ کاکا خیل ایڈووکیٹ کے مطابق ہسپتال کی جانب سے عدالت میں رپورٹ پیش کرنے کے بعد عدالت اس بارے میں فیصلہ کرے گی۔

درخواست میں عدالت سے کیا استدعا کی گئی ہے؟

محب اللہ کاکا خیل ایڈووکیٹ کےمطابق عدالت میں خاتون کی جانب سے دائر کردہ پیٹشن میں استدعا کی گئی ہے کہ ’خاتون خود کو مرد سمجھتی ہے۔ ان کے اندر مردوں والی عادتیں موجود ہیں۔ وہ بچپن ہی سے لڑکوں جیسے کپڑے پہنتی تھیں اور لڑکوں کے ساتھ کھیلتی تھیں۔ درخواست گزار خاتون کی تقریباً تمام عادتیں لڑکوں جیسی ہیں، جس بنا پر درخواست گزار نے ڈاکٹر سے معائنہ کروا کے مشورہ طلب کیا ہے کہ وہ کس طرح اپنی جنس کو تبدیل کرسکتی ہیں۔‘اس پر ڈاکٹر نے درخواست گزار کو ہدایت کی ہے کہ ایسا صرف جنس تبدیلی کے آپریشن سے ممکن ہے۔محب اللہ کا کا خیل ایڈووکیٹ کے مطابق پیٹیشن میں استدعا کی گئی تھی کہ ترقی یافتہ ممالک میں جنس تبدیلی کے آپریشن بہت عام ہیں مگر پاکستان میں ڈاکٹروں نے یہ آپریشن بہت ہی محدود تعداد میں کیے ہیں۔ اسی طرح ڈاکٹر نے درخواست گزار کو مشورہ دیا تھا کہ وہ عدالت سے اس آپریشن کی اجازت حاصل کرے۔پیٹیشن میں یہ بھی استدعا کی گئی ہے ’دنیا بھر میں خواتین کی حقوق کی پامالی بہت زیادہ ہے۔ خواتین اپنی کام کی جگہ پر محفوظ نہیں، انھیں جنس کی بنیاد پر زیادتیوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں جن میں جنس کی تبدیلی کی گئی ہے۔‘

جنس
کائلی اور کینڈل جینر کے والد سابق اولمپئین’روس جینر‘جنس کی تبدیلی کا آپریشن کروا کر’کیٹلائن جینر‘ بن گئے تھے

محب اللہ کاکا خیل ایڈووکیٹ کے مطابق ایسی ہی مثال بین الاقوامی طور پر مشہور وکیل سام کین کی ہے۔ جنھوں نے تین مرتبہ اپنی جنس تبدیل کی ہے۔ وہ ایک مرد پیدا ہوئے تھے۔ 1984 میں ان کی شادی ہوئی جس میں سے ایک بیٹا اور بیٹی ہے۔ شادی ٹوٹنے کے بعد 1997 میں وہ سامنتھا بن گے۔2004 میں ایک بار پھر جنس تبدیل کروائی اور چارلس بن گے۔ مگر پھر دوبارہ جنس تبدیل کروائی اور اب دوبارہ خاتون کی حیثیت سے زندگی گزار رہے ہیں۔ انھوں نے خاتون بننے کے سات سال بعد کہا تھا کہ بحثیت خاتون زندگی گزارنا بہت مشکل ہے۔محب اللہ کا کا خیل ایڈووکیٹ کے مطابق پٹیشن میں استدعا کی گئی ہے کہ درخواست گزار بھی لڑکی کی حیثیت سے مطمئن زندگی نہیں گزار رہیں اور وہ جنس تبدیل کروانا چاہتی ہیں کیونکہ وہ ایک مرد کی طرح اپنے خاندان کے لیے کام نہیں کرسکتی ہیں۔محب اللہ کا کا خیل ایڈووکیٹ کے مطابق درخواست گزار کی یہ صورتحال جینڈر ڈسفوریا کہلاتی ہے جس میں کسی کو محسوس ہوتا ہے کہ جس جنس میں وہ زندگی گزار رہا/رہی ہے یہ اس کی نہیں ہے بلکہ ان کی جنس دوسری ہے اور ار کے باعث وہ شخص مختلف نفیساتی مسائل کا شکار ہوتا ہے۔ اس کا حل صرف جنس کی تبدیلی کا آپریشن ہی ہے۔محب اللہ کا کا خیل ایڈووکیٹ کے مطابق عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ جنس تبدیلی آپریشن میں کوئی پچیدگی نہیں ہے۔ اس لیے نہ صرف جنس تبدیلی کی اجازت دی جائے بلکہ ٹرانس جینڈر ایکٹ 2018 کے مطابق شناختی کارڈ سمیت دیگر تمام کاغذات میں بھی تبدیلی کی اجازت دی جائے۔

جینڈر ڈسفوریاکیا ہے؟

 اس مرض میں مبتلا بہت سے لوگ سامنے نہیں آتےایوب ٹیچنگ ہسپتال ایبٹ آباد کے ڈائریکٹر ایمرجنسی ڈاکٹر جنید کے مطابق میڈیکل سائنس میں جب کسی انسان کو اپنی جنس کے بارے میں شکوک پیدا ہوں یا اسے ایسا لگے کہ اس کی جنس وہ نہیں ہے جس میں وہ رہ رہا ہے بلکہ وہ مخالف جنس کا ہے تو اس بیماری کو جینڈر ڈسفوریا کہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں یہ کیسز بہت محدود تعداد میں ڈاکٹروں کے پاس آتے ہیں جبکہ ترقی یافتہ ممالک نے جنس تبدیلی کے آپریشن کی اجازت دے رکھی ہے، مگر اس کے لیے سخت قوانین رکھے گئے ہیں۔’کچھ ممالک میں جب کوئی جینڈر ڈسفوریا کی شکایت کرئے تو اس کا پہلے نفسیاتی علاج کیا جاتا ہے اور اس دوران ہی اس بات کا تعین کیا جاتا ہے کہ انھیں یہ بیماری حقیقی طور پر ہے بھی کہ نہیں۔‘ڈاکٹر جنید کے مطابق جنس تبدیلی کے آپریشن کے لیے انتہائی ماہر ڈاکٹروں کی ضرورت پڑتی ہے جس میں آپریشن سے پہلے جنس تبدیلی کے خواہش مند افراد کو کچھ عرصہ علاج میں رکھا جاتا ہے۔محب اللہ کاکا خیل ایڈووکیٹ کے مطابق درحقیقت پاکستان میں معاشرتی رویوں اور روایتی عزت و غیرت کے معاملے کی وجہ سے اس مرض میں مبتلا بہت سے لوگ سامنے نہیں آتے۔ ’وہ اپنا علاج نہیں کرواتے جس وجہ سے وہ مختلف قسم کے نفسیاتی مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں اور ان میں سے اکثر کی زندگی اجیرن بن چکی ہوتی ہے۔‘ان کا کہنا تھا کہ اس خاتون کے کیس سے پہلے میرے پاس ایک اور خاتون کا ایسا ہی کیس تھا۔ مگر معاشرے کی جانب سے انتہائی شدید رد عمل کی وجہ سے اس خاتون نے اپنا کیس واپس لے لیا تھا۔محب اللہ کاکا خیل ایڈووکیٹ کے مطابق اُس خاتون کے مقدمے اور اب حالیہ مقدمے کی بنا پر انھیں اندازہ ہوا ہے کہ پاکستان میں جینڈر ڈسفوریا میں مبتلا مریضوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔’مجھے روزانہ پورے ملک سے کئی مرد و خواتین کے پیغامات مل رہے ہیں جو اس مقدمے پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں اور اس مقدمے کے فیصلے سے اپنی مستقبل کی زندگی کا فیصلہ کریں گے۔‘یار رہے لاہور ہائی کورٹ نے 2008 میں ایک خاتون کو جینڈر ڈسفوریا کا مریض ہونے کی بنا پر جنس تبدیل کرنے کی اجازت دی تھی۔ ایسا ہی ایک کیس اسلام آباد ہائی کورٹ میں سال 2018 سے زیر التوا ہے۔پاکستان میں یہ رپورٹیں منظر عام پر آتی رہی ہیں کہ جنس تبدیلی کے بعد کوئی لڑکا لڑکی بن گیا ہے یا کوئی لڑکی لڑکا بن گیا ہے۔اس میں زیادہ کیسز لڑکیوں کے لڑکا بننے کے ہیں۔ ایسا ہی ایک واقعہ 2015 میں رپورٹ ہوا ہے جس میں پنجاب کے ضلع چکوال کی دو بہنوں کو تقریبا جوان العمری میں ڈاکٹروں نے مرد قرار دے دیا تھا۔اسی طرح 2015 میں صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں بھی جنس تبدیلی کے آپریشن میں 20 سالہ خاتون کی جنس تبدیل کردی گئی تھی۔ گلگت بلستان میں 2018 میں غزالہ ایوب کے بارے میں اعلان کیا گیا کہ وہ عبداللہ بن گئی ہیں۔اس کے علاوہ سال 2019 میں سرگودھا کی دو بہنوں کی کامیاب جنس تبدیلی آپریشن کی اطلاعات بھی موجود ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here