آن لائن کلاسز کے خلاف احتجاج پر طلبا کو گرفتار کرنے والا ایس پی سٹی برطرف

0
42

کوئٹہ: آن لائن کلاسز کے خلاف احتجاج کرنے والے 66 طلبا کو گرفتار کرنے پر وزیراعلیٰ نے ایس پی سٹی کو عہدے سے برطرف کردیا۔

بدھ کے روز ایچ ای سی کے آن لائن کلاسز کے اجراء کے فیصلے کےخلاف بلوچ اسٹوڈنٹس الائنس کی جانب سے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے لگائے گئے تین روزہ علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ کے آخری روز بلوچستان اسمبلی تک احتجاجی ریلی نکالی گئی تاہم پولیس نے ریلی کے شرکاء کو اسمبلی جانے سے روک کر انہیں  حراست میں  لے لیا۔پولیس کے مطابق ریلی کے شرکا کو دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر حراست میں لیا گیا۔ طلبا کی گرفتاری کے خلاف بلوچ اسٹوڈنٹس الائنس سمیت مختلف طلبا تنظیموں  نے رات گئے تک بلوچستان اسمبلی کے سامنے احتجاجی دھرنا جاری رکھا۔ اس موقع پر طلبا رہنماؤں نے کہا کہ پولیس کی جانب سے ریلی کے طالب علموں کو زدوکوب کرتے ہوئے پابند سلاسل کیا گیا جو کہ قابل تشویش ہے۔انہوں  نے کہا کہ آن لائن کلاسز کے اجراء سے بلوچ اکثریتی علاقوں کے طالب علم متاثر ہورہے ہیں۔ انٹرنیٹ کی عدم دستیابی کی وجہ سے ہزاروں  طالب علم آن لائن کلاسز میں  شرکت کرنے سے قاصر ہیں۔ رہنماؤں نے اعلان کیا کہ بلوچ اسٹوڈنٹس الائنس کی جانب سے صوبائی اسمبلی کے سامنے احتجاجی دھرنا مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گا۔علاوہ ازیں  مختلف طلبا تنظیموں، سو سائٹی کے رہنماؤں نے سٹی تھانہ جاکر گرفتار طلبا و طالبات سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے گرفتاریوں کی مذمت کی۔ رات گئے بجلی گھر اور سٹی تھانوں میں موجود طلبا و طالبات کو رہا کردیا گیا تاہم اس دوران صوبائی وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے سٹی تھانے میں موجود طلبا سے مذاکرات کیے اور انہیں  ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا ہے حکومت کی جانب سے طلباء کی گرفتاری کا حکم نہیں دیا گیا، پولیس اور طلبا کے مابین جھگڑے کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے گرفتاریاں کیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ پولیس کو فوری طور پر طلبا کو رہا کرنے کا حکم دیا گیا جبکہ ایس پی سٹی کو فوری طور پر ہٹا دیا گیا ہے جب کہ طالبات سے بد سلوکی کرنے والی لیڈی کانسٹیبل کے خلاف بھی کارروائی کی جا رہی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here