جارج فلائیڈ کی ہلاکت: امریکہ میں مسلسل آٹھویں رات مظاہرے جاری، 40 شہروں میں کرفیو نافذ

0
132

امریکہ میں پولیس تحویل میں جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے بعد ملک میں سیاہ فام افراد کے ساتھ پولیس کے امتیازی رویے کے خلاف شروع ہونے والے مظاہرے آٹھویں رات بھی جاری رہے اور ان مظاہروں کا دائرہ کئی شہروں تک پھیل چکا ہے۔ان مظاہروں میں رتشدد واقعات کے بعد 40 شہروں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے تاہم متعدد شہروں میں مظاہرین کرفیو کے باوجود باہر نکلے ہیں۔اس کے لاوہ جارج فلائیڈ کے آبائی شہر ہیوسٹن میں آج ان کے گھر والوں کے ساتھ ایک پرامن مارچ کا اہتمام کیا گیا ہے جس میں 20 ہزار شرکا متوقع ہیں۔امریکہ کے علاوہ یورپ کے متعدد ممالک جیسے کہ پیرس اور لندن میں بھی جارج فلائیڈ کی ہلاکت اور امریکہ میں پولیس کے ہاتھوں سیاہ فام افراد کے ساتھ نسلی امتیاز پر مبنی ظلم کے خلاف مظاہرے کیے گئے ہیں۔25 مئی کو شہر مینیئیپولس میں جارج فلائیڈ کو گرفتار کرنے کے دوران پولیس اہلکاروں نے مبینہ طور پر حد سے زیادہ طاقت کا استعمال کیا جس کے نتیجے میں ان کی ہلاکت ہو گئی۔اس واقعے اور مظاہروں کے بعد ریاست مینسوٹا نے اپنے محکمہِ پولیس کے خلاف سول رائٹس کے حوالے سے ایک مقدمہ دائر کیا ہے۔ گورنر ٹم والز نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ اس مقدمے کا مقصد ’کئی نسلوں سے جاری منظم نسل پرستی‘ کو ختم کرنا ہے۔ادھر دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں 1600 فوجیوں کو شہر کے مختلف مقامات پر تعینات کیا گیا ہے۔ پینٹاگون حکام کا کہنا ہے کہ فوجی تعیناتی کا مقصد سولین حکام کے جاری آپریشنز میں ان کی مدد کرنا ہے۔

امریکہ
جہاں کئی مقامات پر یہ مظاہرے پرتشدد ہو گئے ہیں، وہیں کچھ شہروں میں پولیس اور فوجی اہلکاروں نے مظاہرین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی بھی کیا ہے اور ان کے ساتھ مارچ کیا یا احتجاج میں علامتی طور پر گھٹنے ٹیکے۔جارج فلائیڈ کی ہلاکت کو سرکاری پوسٹ مارٹم رپورٹ میں ’قتل‘ قرار دیا گیا ہے۔ہینیپین کاؤنٹی میڈیکل اگزیمینر کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جارج کا سانس رکنے کی وجہ سے انھیں دل کا دورہ پڑا تھا۔
امریکہ

جارج کی گردن پر گھٹنا ٹیکنے والے پولیس افسر ڈریک شیوان پر ’غیر ارادی قتل‘ کا الزام عائد کیا گیا ہے اور وہ اگلے ہفتے عدالت میں پیش ہوں گے۔ ان کے ساتھ تین دیگر پولیس افسران کو بھی برطرف کر دیا گیا ہے۔لیکن پولیس تحویل میں جارج کی ہلاکت کے رد عمل میں شروع ہونے والے مظاہروں میں ایسے پر تشدد واقعات رونما ہوئے ہیں جن کی مثال کئی دہائیوں میں نہیں ملتی۔سوموار کو میسوری کے شہر سینٹ لوئس میں جاری بدامنی کے دوران چار پولیس والوں کو گولیاں مار کر زخمی کر دیا گیا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here