مقبوضہ کشمیر میں مظالم پر ایمنسٹی کی رپورٹ

0
143

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بغیر الزام یا مقدمے کے مشتبہ شخص کو دو سال تک قید رکھنے کا قانون پبلک سیفٹی ایکٹ بھارتی اور عالمی انصاف کی خلا ف ورزی ہے

(اے ایف پی) ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بغیر الزام یا مقدمے کے مشتبہ شخص کو دو سال تک قید رکھنے کا قانون پبلک سیفٹی ایکٹ بھارتی اور عالمی انصاف کی خلا ف ورزی ہے ۔ مقبوضہ وادی میں گزشتہ تین دہائیوں سے جاری شورش کے دوران ہزاروں افراد کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق پبلک سیفٹی ایکٹ کا نفاذ جموں و کشمیر کے فوجداری نظام کیساتھ مذاق اور احتساب، شفافیت اور انسانی حقوق کے احترام کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے ۔ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا کے سربراہ آکار پٹیل کے مطابق یہ قانون بھارتی اور عالمی انسانی حقوق کے قوانین کے خلاف اور مقبوضہ وادی میں حکام اور شہریوں کے درمیان کشیدگی میں اضافے کی بڑی وجہ ہے ۔ 44صفحات کی اس رپورٹ میں 2012سے 2018کے دوران 210قیدیوں کے مقدمات کا جائزہ لیا گیا ہے ۔ 70فیصد مقدمات میں قیدیوں کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار اور ایک جیسے الزامات کی بنیاد پر فوجداری کارروائی کا سامنا کرنا پڑا۔ معروف سیاسی کارکن مسرت عالم ابھی تک جیل میں ہے ، اس کے باوجود کہ عدالتیں 38مرتبہ اس کی نظر بندی کے احکامات منسوخ کر چکی ہیں۔ ظہور وانی کے مطابق پولیس ایسے مشتبہ افراد کے خلاف پبلک سیفٹی ایکٹ کو ایک حفاظتی پھندے کے طو رپر استعمال کرتی ہے جوکہ ضمانت پر رہا ہو چکے ہوں، یا جنہیں ضمانت مل سکتی ہو۔ گفتگو کے دوران مقامی وکلا نے بتایا کہ ریاستی پولیس عدالتی کارروائی کی حامی نہیں، کیونکہ اس میں ٹھوس ثبوت پیش کرنا پڑتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پبلک سیفٹی ایکٹ چار عشرے قبل ٹمبر سمگلروں سے نمٹنے کیلئے نافذ کیا گیا تھا، مگر 1989میں جب کشمیر میں بھارتی تسلط کے خلاف مسلح جدوجہد شروع ہوئی، اس قانون کا دائرہ کار وسیع کر دیا گیا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس رپورٹ سے متعلق سری نگر میں پریس کانفرنس کرنا تھی، مگر پولیس نے سکیورٹی خدشات کو جواز بنا کر اس کی اجازت نہ دی۔ اس پر ایمنسٹی انٹرنیشنل نے رپورٹ صحافیوں کو ارسال کرنے کے علاوہ ویب سائٹ پر ڈال دی۔ پٹیل نے اے ایف پی کو بتایا کہ رپورٹ جاری کرنے سے قبل پولیس اور ریاستی حکومت کیساتھ شیئر کی گئی تھی، مگر انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔نیوز ایجنسی کے رابطے پر حکام نے رپورٹ پر کوئی تبصرہ نہ کیا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here