کم علمی‘سائنسی تحقیق کا فقدان‘شمالی امریکہ کے مسلمانوں کا قیمتی روزہ ضائع کرا دیاگیا

0
223

یویارک+ٹوکیو+ اسلام آباد (منظور حسین+شاہ حسین+طاہرحسین سے) جاپان،برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا سمیت دنیا کے سب سے بڑے فلکیاتی ادارے ناسا کو 3 جون بروز پیر کی شام جو ہلال نظر نہیں آیا وہ روئیت ہلال کمیٹی شمالی امریکہ کے چیئرمین مفتی قمرالحسن بستوی کے طلباء کو میری لینڈ میں نظر آگیا،اور انہوں نے 4 جون بروز منگل کو عیدالفطر ہونے کا غلط اعلان کرکے امریکہ میں بسنے والے مسلمانوں کا ایک قیمتی روزہ ضائع کرادیا۔ مفتی قمرالحسن کا یہ غیر ذمہ دارانہ بیان انتہائی مضحکہ خیز، بیمعنی اور عقل و خرد سے بالاتر ہے اور اْنکی اس جہالت پر امریکی بھی حیران اور پریشان ہیں کہ یہ اکیسویں صدی کے مسلمان کس دنیا میں رہ رہے ہیں؟ مزید برآں یہ نہ صرف انکی دینی معلومات بلکہ عقلی و ذہنی صحت سے متعلق بھی کئی سوالات اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔تفصیلات کے مطابق شوال کا چاند 3 جون بروز پیر  کی صبح میری لینڈ MD کے مقامی وقت 6 بجکر ایک منٹ پر پیدا ہوا اور اسی دن غروب آفتاب کے وقت شام 8 بجکر 28 منٹ پر نئے چاند کی عمر میری لینڈ میں تقریبا  14 گھنٹے اور 27 منٹ تھی۔ حدیث مبارکہ میں رؤیت ہلال کا حکم ہے یعنی اوَّلاً چاند کی قوس نما (ہلالی) شکل دیکھنے کا حکم ہے جس کے لیے مسلم و غیر مسلم سائنسدانوں اور ماہرین فلکیات کے مطابق نئے چاند کی عمر اپنی پیدائش کے بعد 16 تا 24 گھنٹے ہونا ضروری ہے- اس سے کم عمر کا نیا چاند ہر گز ہلال نہیں کہلاتا ہے جس طرح نیا چاند بدر (ماہ کامل) نہیں کہلاتا ہے اسی طرح نیا چاند، ہلال ہر گز نہیں کہلاتا ہے۔ دوئم: ننگی آنکھ سے ہلال دیکھنے کے لیے نئے چاند کی عمر 18 گھنٹے، فرق غروبین 37 تا 48 منٹ اور اسکا افق سے ارتفاع 8 ڈگری  سے زائد ہونا چاہیے جبکہ 3 جون کی شام میری لینڈ میں غروب آفتاب کے وقت چاند کی عمر 14 گھنٹے اور 27 منٹ، فرق غروبین 23 منٹ اور اس کے افق پر 2 اعشاریہ 4 ڈگری تھا-  یوں 3 جون کی صبح 6 بج کر 1 منٹ پر پیدا ہونے والے نئے چاند نے شام 8 بج کر 28 منٹ پر میری لینڈ میں غروب آفتاب کے وقت ہلال ہونے کے لیے اپنی کم از کم عمر یعنی سولہ گھنٹے پوری نہیں کی تھی اسی طرح اس نئے چاند کی ننگی آنکھ سے رؤیت ہونے کی کم از کم عمر 18 گھنٹے پوری نہیں کی اور فرق غروبین 37 تا 48 منٹ ہونے کے بجائے صرف 23 منٹ تھا جو ناکافی ہے اسی طرح اسکی افق سے بلندی انتہائی کم یعنی 2 اعشاریہ 4 ہونے کی وجہ سےاسکی رؤیت کسی بھی طرح ممکن نہیں تھی۔ پس حدیث میں بیان کردہ ہلال ہوا اور نہ ہی اسکی رؤیت ممکن تھی- لیکن مفتی قمرالحسن بستوی نے امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں رہنے کے باوجود انتہائی غیرذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روئیت ہلال کے حکم کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہوئے  4 جون کی عید الفطر کا اعلان کردیا،جوامریکہ میں بسنے والے مسلمانوں کی تقسیم کا باعث بنا۔اور امریکہ کی دیگر ریاستوں کی طرح نیویارک کی 15 مساجد میں سے 7 نے منگل جبکہ 8 نے بدھ کو عید منائی۔دنیا انٹرنیشنل کے نامہ نگاروں کے مطابق 4 جون بروز منگل کو جہاں جہاں عید ہوئی ان میں جامع مسجد مکی نیویارک، طیبہ اسلامک سنٹر، مسجد بلال، مسجد قبا، ام القرآ اسلامک سنٹر، مسجد عمر، مسجد ابوبکر، جبکہ بدھ کو عیدالفطر منانے والوں میں مسجد نور ہنٹگنٹن لانگ آئی لینڈ نیویارک، مسجد بلال فارمنگ ڈیل نیویارک، محمدی مسجد ایلمنٹ ویلی سٹریم نیویارک، ماجد صدیق اکبر بروکلین نیویارک، مسجد الباقی بیتھ پیج نیویارک، مسجد الفلاح، مسجد نور برونکس، مسجد دارالہدایا جیکسن ہائٹس  کے امام شامل ہیں۔ نمائندہ دنیا انٹرنیشنل نے روئیت ہلال کمیٹی شمالی امریکہ کی جانب سے امریکہ کی تین بڑی ریاستوں نیو یارک، نیو جرسی اور کنیکٹیکٹ کے عہدے دار اور مسجد منٹگمری نیو جرسی کے امام اور خطیب قاری سیف النبی سے اس بارے میں جاننے کیلئے رابطہ کیا اور ایک سوال کے جواب میں قاری سیف النبی نے بتایا کہ انکی مفتی قمرالحسن بستوی چیئرمین روئیت ہلال کمیٹی شمالی امریکہ سے بات ہوئی تھی اور انکے مطابق?لوگوں نے میری لینڈ میں چاند دیکھا اور چاند کی شہادت وصول ہوئی۔ قاری سیف النبی کا یہ بھی کہنا تھا کہ مفتی قمرالحسن نے میری لینڈ کے مدرسہ کے طلباء   کی شہادت پر اعلان کیا انکا مزید کہنا تھا کہ امریکہ میں چاند غروب آفتاب کے بعد 22 منٹ تک موجود رہا ہے، انکا اصرار تھا کہ 10 ڈگری  اور??منٹ کا چاند نظر آنا ممکن ہے- شمالی امریکہ میں شیعہ سنی اتحاد کے علمبردار اور اہل تشیع کے جیید عالم دین آئیت اللہ ڈاکٹر سخاوت حسین سندرالوی نے دنیا انٹرنیشنل سے گفتگوکرتے ہوئے منگل کو عیدالفطر کرانے والے علما ہر شدید برہمی کا اظہار کیا، انہوں نے کہا کہ میرا ان علما سے سوال ہے، کہ کیا انہوں نے شمالی امریکہ میں چاند خود دیکھا ہے اگر انکا جواب نفی میں ہے تو بیشتر علما نے سعودی اندھی تقلید کی وجہ سے امت کا ایک روزہ کھا لیا ہے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ روئیت ہلال کمیٹی کی ازسرنو تشکیل کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ 1440 ہجری کا چاند سائنسی بنیادوں پر بھی پورے امریکہ میں کہیں بھی نظر نہیں آسکتا تھا انکو کہاں سے نظر آگیا۔ مولانا کا کہنا تھا کہ پاکستان امت مسلمہ کا وہ واحد ملک ہے جو روئیت ہلال کے سلسلہ میں سعودیہ کی اندھی تقلید نہیں کرتا ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کا یہ اقدام پوری امت اسلامیہ کیلئے ایک مثالی قدم ہے۔ ڈاکٹر سخاوت سند الوری کا مزید کہنا تھا کہ قرآن اور حدیث کے حکم کے مطابق ہلال دیکھو تو روزہ رکھو کا اور عید کا معیار بھی ہلال ہی ہے

(باقی آئندہ شمارے میں)

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here