آصف زرداری “حمزہ شہباز اور الطاف حسین گرفتار

0
40

نیب نے آصف علی زرداری کوگرفتارکرلیا

احتساب عدالت اسلام آباد کے جج ارشد ملک نے سابق صدر آصف زرداری کے خلاف منی لانڈرنگ کیس کی سماعت کی ۔نیب نے آصف زرداری کو عدالت میں پیش کیا اور 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی۔نیب پراسیکیوٹرکی جانب سے کہا گیا کہ آصف زرداری کی گرفتاری کے لئے 8 ٹھوس بنیادیں ہیں، انہوں نے جعلی اکاؤنٹس میں ٹرانزیکشن کرکے غیر قانونی آمدن کو جائز کرنے کا منصوبہ بنایا اور اپنے فرنٹ مین و بے نامی داروں کے ذریعے منی لانڈرنگ کی، انہوں نے بینک حکام کی معاونت سے جعلی اکاؤنٹس کھولے، پارک لین کی فرنٹ کمپنی پارتھینون کو بھی پیسے آتے رہے۔احتساب عدالت نے آصف علی زرداری کو 11 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کرتے ہوئے 21 جون کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا۔آصف زرداری نے نیب حوالات میں اضافی سہولیات کی درخواست دائر کرتے ہوئے کہا کہ ذاتی خدمت گزار ساتھ رکھنے کی اجازت دی جائے اور تمام طبی سہولیات بھی مہیا کی جائیں۔سماعت کے موقع پر احتساب عدالت کے اندر اور باہر سیکورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے۔ احتساب عدالت کو جانے والے تمام راستوں کو بند کردیا گیا تھا جب کہ جوڈیشل کمپلیکس کے اردگرد سیکورٹی کے لیے 1500 اہلکاروافسران تعینات کیے گئے۔واضح رہے کہ گزشتہ روزقومی احتساب بیورونے پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیرمین آصف علی زرداری کو جعلی بینک اکاؤنٹس اورمیگا منی لانڈرنگ کیس میں گرفتارکرلیا تھا۔

 حمزہ شہباز گرفتار

جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی بنچ نے آمدن سے زائد اثاثے اور رمضان شوگر ملز کیس میں حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت کی سماعت کی۔ حمزہ شہباز اپنے وکلا کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔نیب نے اپنے موقف میں کہا کہ حمزہ شہباز کی رمضان شوگر ملز میں درخواست ضمانت ناقابل سماعت ہے، جو مسترد کرکے ان پر جرمانہ عائد کیا جائے، ان کے نیب پر الزامات جھوٹے اور بے بنیاد ہیں، انہوں نے 2015 میں 36 کروڑ روپے سے مقامی آبادیوں کے نام پر رمضان شوگر ملز کیلئے نالہ تعمیر کیا۔نیب وکیل نے بتایا کہ حمزہ شہباز شریف کو 7 نوٹسز بھیجے گئے لیکن وہ پیش نہیں ہوئے، حمزہ نے منی لانڈرنگ بھی کی اور مشکوک اکاؤنٹ کا انکشاف ہوا، ان کی رقوم منتقل کرنے میں پاکستان سے دو کمپنیاں ملوث ہیں جبکہ بیرون ملک بھی کمپنیاں ملوث ہیں۔جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دیے کہ سو فیصد قانون کے مطابق فیصلہ ہوگا، باہر کیا باتیں ہو رہی ہے ہمیں کسی سے غرض نہیں، ہم صرف اللہ کو جواب دہ ہیں۔حمزہ شہباز نے عدالت سے استدعا کی کہ ضمانت میں توسیع کی درخواست کو منظور کیا جائے جس پر عدالت نے کہا کہ یہ ایک آئینی درخواست ہے جس میں توسیع کا اختیار احتساب عدالت کے پاس ہے۔ اس پر حمزہ شہباز نے ضمانت کی دونوں درخواستیں واپس لے لیں۔ عدالت نے سماعت کے بعد حمزہ شہباز کی درخواستیں خارج کردی جس کے بعد نیب کی ٹیم نے انہیں گرفتار کرلیا۔

ایم کیوایم کے بانی الطاف حسین لندن میں گرفتار

 ایم کیوایم کے بانی الطاف حسین کو لندن میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔ اسکاٹ لینڈ یارڈ پولیس نے صبح سویرے الطاف حسین کے گھر پر چھاپہ مارا اور ان کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔برطانوی پولیس نے بانی ایم کیوایم الطاف حسین کومقامی پولیس اسٹیشن منتقل کردیا ہے جہاں ان سے پوچھ گچھ کی جائے گی جب کہ اس وقت ان کے گھر کی تلاشی لی جارہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق شمالی لندن میں ان کے گھر پر چھاپے میں 15 پولیس افسران نے حصہ لیا۔الطاف حسین کو 2016 میں نفرت انگیز تقاریرکے مقدمات میں حراست میں لیا گیا ہے۔ ان کے حوالے سے پاکستانی حکومت نے تفصیلات برطانیہ کو فراہم کی تھیں اورلندن پولیس اپنے قانون کے مطابق الطاف حسین سے تحقیقات کرے گی۔میٹروپولیٹن پولیس نے الطاف حسین کا نام لیے بغیر اپنے بیان میں کہا کہ منگل کے روز شمال مغربی لندن میں ایم کیو ایم کے ایک شخص کو گھر سے گرفتار کیا گیا ہے جس کی عمر 60 سال ہے، اس کی گرفتاری برطانوی قانون کی سیکشن 44 کی خلاف ورزی کے تحت عمل میں آئی اور اس کے خلاف جان بوجھ کر جرم کی مدد اور حوصلہ افزائی کا الزام ہے۔میٹروپولیٹن پولیس کے مطابق مذکورہ شخص کواگست 2016 اور اس سے پہلے کی اشتعال انگیز تقاریر کے تناظر میں گرفتار کیا گیا، جبکہ پاکستانی حکام کے ساتھ مل کراس کیس کی تحقیقات کی گئیں اوراب 2 مقامات کی تلاشی لی جارہی ہے۔ذرائع کے مطابق بانی ایم کیوایم کے وکلا کی جانب سے ضمانت کیلیے درخواست بھی دائرکردی گئی ہے۔ دوسری جانب ایف آئی اے کی طرف سے برطانوی وکیل ٹوبی کیڈمین الطاف حسین کے خلاف کیس میں پیش ہوں گے جب کہ جے آئی ٹی سربراہ مظہرالحق کاکا خیل کچھ دنوں میں کیس کی پیروی کیلیے لندن جائیں گے۔

واضح رہے کہ الطاف حسین پاکستان میں قتل و غارت، دہشت گردی اور منی لانڈرنگ کے متعدد مقدمات میں مطلوب اور اشتہاری ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here