TT Ads
دنیا کے لیڈرجھوٹے اور دھوکہ باز ہیں ایسے لیڈرز کی پیروی کیا کریں جنہیں قرآن آتا ہو‘ امریکہ میں بسنے والے پاکستانیوں کی اکثریت نے قرآن کو پس پشت ڈال دیا‘قبر اور کل قیامت کے دن اس بارے سخت سوال کیا جائے گا‘ علامہ ڈاکٹر سخاوت حسین سندرالوی” 
کمیونٹی کی ممتاز نوجوان شخصیت چوہدری رزاق گجر کی جانب سے دیئے گئے گرینڈ افطار ڈنر میں سنی شیعہ سمیت سینکڑوں افراد اور خواتین کی شرکت‘پوری دنیا کے مسلمانوں کیلئے دعائیں بھی کی گئیں 
بروکلین نیویارک (منظور حسین سے):____المہدی سنٹر بروکلین میں 28رمضان المبارک کو سالانہ ختم قرآن مجید کی ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیاگیا۔ اس موقع پر علامہ ڈاکٹر سخاوت حسین سندرالوی نے فرمایا کہ آج پورے بیس سال ہو گئے ہیں  اور اس سنٹر میں ختم قرآن پاک کی 20 تقریبات منعقد ہو چکی ہیں۔زندگی رہے بیسویوں اور ہوتی رہیں گی اور اس خدمت قرآن کو جاری وساری رکھیں گے۔ علامہ سخاوت حسین سندرالوی نے قرآن پاک پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ کفر سب سے بڑی بیماری ہے اور اس کا علاج بھی قرآن میں ہے۔قرآن کو شفاء بھی سمجھیں قرآن کو دعا بھی سمجھیں قرآن کو مشکلات کا حل بھی سمجھیں۔ قرآن ایسا امیر ہے جو ہر پڑھنے والے کو امیر بنا دیتا ہے پھروہ فقیر ہوتا ہی نہیں۔قرآن ایسے ہی افضل ہے ہر کلام پر جیسے اللہ افضل ہے ساری مخلوق پر۔ مگر ہم نے قرآن کو پس پشت ڈال دیا ہے۔ علامہ ڈاکٹر سخاوت حسین سندارلوی نے کہا کہ اللہ کی وہ رسی جسے پکڑ کر بندے اللہ تک پہنچتے ہیں اس کا نام قرآن ہے۔ یہ اللہ کی رسی ہے اسے مضبوطی سے تھامے رکھو۔ان کا کہنا تھا کہ انسان جیسے جیسے گناہ کے قریب ہو گا وہ قرآن سے دور ہوتا جائے گا اور جیسے جیسے وہ قرآن کے قریب ہو گا ویسے ویسے قرآن ان کے قریب ہو جائے گا۔حضرت علی نے فرمایاکہ قرآن کو لیڈر بناؤ اور میں آج یہ کہوں گا کہ قرآن پڑھیں اور اس کا بغور مطالعہ کریں پھر لیڈر بنیں اور اس قرآن کے سچے قصے پڑھیں یقین جانیے ان سچی کہانیوں میں بہت سبق ہے۔یہاں لوگ سارا سارا دن سوشل میڈیا پر بیٹھے ہوئے ہیں جیسے انہوں نے صدر پاکستان بننا ہو وزیراعظم بننا ہو یا ڈپٹی سپیکر بننا ہو مگر افسوس کا مقام ہے کہ ان کے پاس قرآن پڑھنے کا وقت نہیں۔حضور پاک نے فرمایا کہ جب دنیا ک گھٹا ٹوپ اندھیرے تمہارے دامن کو آجائیں اور تمہیں دبوچنا چاہیں تو اس وقت تم قرآن سے مدد طلب کرو۔لہذا ہم نے قرآن کو اپنا مددگار بنانا ہے تاکہ ہم قرآن کی مدد سے گھٹا ٹوپ اندھیروں سے نکل سکیں۔سرکا ر مولی کائنات فرماتے ہیں کائنات میں بہترین ذکر قرآن مجید ہے اللہ کا جو کلام ہے  سوفیصد بے زبان کی زبان سے جاری ہو ااور رحمت اللعالمین کے مقدس سینے پر نازل ہوا ہو اور 14معصومین سمیت فرشتوں کی پاک زبانوں میں رہاہو اس سے بہتر ذکر کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا۔مولافرماتے ہیں قرآن کو پکڑ کر رکھو اسے چھوڑو نہیں‘ قرآن میں بھی لکھا ہے کہ قرآن کو ترک نہ کرنا بلکہ اسے امام اور لیڈر بنا کر رکھنا۔ہمارے ہاں آج لیڈروہ ہوتا ہے جس نے بالکل قرآن نہیں پڑھا ہوتا۔میں یہاں یہ کہوں گا کہ قرآن کی ناقدری نہ کریں اس کو بار بار پڑھیں انشاء اللہ پڑھنے سے غلطیاں بھی دور ہو جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ میں چند مثالیں دونگا کہ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قرآن پڑھنا مشکل نہیں قرآن دنیا میں سب سے زیادہ یاد رکھنے اور پڑھنے والی کتاب ہے اور اس کے معجزات کو ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے وہ بھی ایک ریکارڈ ہے ہم خوش قسمت ہیں کہ اللہ نے ہمیں قرآن دیا اس کو یاد کرنا بالکل مشکل نہیں اگر یاد کرنا مشکل ہوتا تو پانچ سال کا محمد حسن قرآن پاک حفظ نہ کرپاتا‘ آٹھ سال کامجتبیٰ رضوی جس کا تعلق انڈیا سے ہے وہ بھی قرآن حفظ نہ کرپاتا۔یہ مثالیں تو میڈیامیں مشہور ہیں ویسے توہمارے پاس ایسی بچیاں اور بچے بھی ہیں جنہوں نے قرآن پاک حفظ کئے ہوئے ہیں اس لیے قرآن پاک پڑھنا نہایت آسان ہے اور اسکے پڑھنے سے بھی آسانیاں ہی آسانیاں ہیں۔ ختم قرآن مجید کے اختتام پر علامہ سخاوت حسین سندرالوی نے تقریب میں شرکاء کیلئے خصوصی دعا فرمائی بالخصوص آپ نے فرمایا کہ اس سیشن کے انعقاد کا سہرا بلکہ اس تقریب کے بانیان اور افطار کے بانیان ہمارے حاجی چوہدری محمد رزاق گجر اور ان کی اہلیہ اور شرکاء محفل کے تمام افراد کیلئے دعاگو ہوں اوران جن کے رشتہ دا ر اس جہان سے رخصت ہو چکے ہیں ان کیلئے بخشش ومغفرت کی دعا کرتا ہوں اور اللہ کریم میرے اور آپ کے گناہوں کو
معاف فرمائے اللہ پاک میرے اور آپ کے والدین کے گناہوں کو معاف فرمائے اور باقی ماندہ زندگیوں میں اللہ آسانیاں فرمائے۔
TT Ads

Leave a Reply

Your email address will not be published.