سوشل میڈیا پر غلیظ زبان استعمال کی جا رہی ہے‘قانونی چارہ جوئی کیلئے تیار ہوں‘آیت اللہ سخاوت سندرالوی


سوشل میڈیا پر غلیظ زبان استعمال کی جا رہی ہے‘قانونی چارہ جوئی کیلئے تیار ہوں‘آیت اللہ سخاوت سندرالوی
جھوٹے الزامات لگائے جارہے ہیں کہ میری ڈگری جعلی ہے میں سارے ثبوت رکھوں گا میرے پاس چھ ثبوت ہیں جن میں میری فیس کی بینک رسیدیں‘جیو نیوز‘ چینل 5‘فری لارنس میڈیا کے ساتھ اور دیگر ملکی وغیر ملکی میڈیا کے ذریعے میں نے دنیاکو ثابت کر دیا نہ میری ڈگری جعلی ہے نہ میرے کاغذات جعلی ہیں
ماں بہن کی گالیاں ناقابل برداشت ہیں‘ میرے خلاف اگر کوئی ثبوت ان کے پاس ہیں تو میڈیا اور کمیونٹی کے باکردار افراد کی بیٹھک میں میرے خلاف لے آئیں‘اگر ان میں سے ایک الزام بھی سچا ہوا تو امریکہ چھوڑ کر امامت کے عظیم شعبے کو بھی ہمیشہ کیلئے الوداع کہہ دوں گا اور امریکہ واپس نہیں لوٹوں گا
عرصہ پانچ سال سے چند چھپ کر واردات کرنے والوں نے سوشل میڈیا پر‘کبھی اپنی شناخت چھپا کر‘ کبھی شناخت ظاہر کر کے میرے خلاف طوفان بدتمیزی بپا کر رکھا ہے‘ ان جھوٹے کذابوں کا کام جھوٹ‘ دروغ گوئی اور افواہیں پھیلانا ہے‘ یہ اخلاقی طور پر گر چکے ہیں‘ ڈاکٹر سخاوت حسین سندرالوی
مجھے اس سنٹر میں آئے ہوئے دس سال ہو گئے‘ اتنے بڑے عالم کیساتھ اتنی بڑی زیادتی ناقابل قبول ہے‘ڈاکٹر سخاوت سندرالوی نے ہمیشہ محبت کادرس دیا ہے‘ جب تک ہم اصل سہولت کاروں کو نہیں پکڑیں گے تب تک نہ کسی مسجد میں‘ نہ کسی مدرسے میں اور نہ کسی امام بارگاہ میں سکون ہو گا‘مشتاق احمد کمبوہ
ہم گواہ ہیں جب سے یہ کمیونٹی میں آئے ہیں انہوں نے مومنین کو اکٹھا کر کے سنی شیعہ کو بھائی بھائی بنا دیاہے‘ شرپسند میڈیا کے سامنے آئیں‘ سوال استاد محترم کریں گے آپ جواب دیدیں ہم آپ کے سامنے عمامے اتار کر رکھ دیں گے‘ یہ لوگ صرف کسی کے ایجنٹ بنے ہوئے ہیں‘الحاج سید اصغر نقوی نجفی
جو شخص گالی کو ناپسند کرتا ہے چند شرپسند عناصر ان کو گالیاں دے رہے ہیں‘ یہ لوگ ایجنٹ ہیں اور لگتاہے یہ لوگ کسی دشمن ممالک کے ایجنڈے پر چل رہے ہیں اور ان سے شائد پیسہ لے رہے ہیں‘ تمام علماء کی عزت کرو بلکہ ہر انسان کا احترام کرو‘ ورنہ ایسے افراد امریکہ کی ایسی جیلوں میں جائیں گے‘ رزاق گجر

بروکلین‘ نیویارک (م ح سے):____ممتاز عالم دین محقق درجنوں کتابوں کے مصنف ماہر تھیالوجسٹ آیت اللہ ڈاکٹر سخاوت حسین سندرالوی نے باور کرایا ہے کہ آج کی پریس کانفرنس کا مقصد سنی وشیعہ کمیونٹی کے مابین باہمی تفاوت‘ بھائی چارے‘ امن وسلامتی اور میل جول کی فضا کو برقرار رکھنا اور اس کی درخواست کرنا ہے۔ڈاکٹر سخاوت کا کہنا ہے کہ عرصہ پانچ سال سے چند چھپ کر واردات کرنے والوں نے سوشل میڈیا پر‘کبھی اپنی شناخت چھپا کر‘ کبھی شناخت ظاہر کر کے میرے خلاف طوفان بدتمیزی بپا کر رکھا ہے۔ ان جھوٹے کذابوں کا کام جھوٹ‘ دروغ گوئی اور افواہیں پھیلانا ہے۔ یہ اخلاقی طور پر اس قدر گر چکے ہیں کہ مجھے پچھلے پانچ سالوں سے ماں بہن کی گالیاں بھی دی جا رہی ہیں۔ان میں سے ایک شخص امریکی ریاست میں دوسرا ورجینیا اور تیسرا لانگ آئی لینڈ نیویارک میں رہتا ہے۔ مین سٹیٹ والا نیویارک کی آئی ڈی استعمال کر رہا ہے ان کا کہنا تھا کہ پہلے شخص کا تعلق لاہور سے ہے اور دوسرے شخص کا تعلق فیصل آباد سے ہے۔علامہ سخاوت کا کہنا تھا کہ یہ دو شرارتی لوگ انتہائی غلیظ لہجہ اور غلیظ زبان استعمال کررہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ان دوافراد کی نفرت پر مبنی غلیظ زبان سے برین واش ہو کر کبھی کبھار کچھ اور لوگ بھی غلیظ زبان استعمال کرتے ہیں۔ڈاکٹر سخاوت کا کہنا ہے کہ ان دوافراد کی زیادتی اور زبان درازی کی وجہ سے آج میری شوگر بڑھ چکی ہے‘ مجھے بخار ہو جاتا ہے۔ میرے پرانے زخم تازہ ہو چکے ہیں اور یہ سب ذہنی کوفت اور ذہنی تناؤ کے نتیجے میں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ قانون کی پاسداری کا ملک ہے ان کا کہنا تھا کہ امریکہ میں 23سالوں سے دین اسلام کی خدمت کررہا ہوں۔ان 23سالوں میں بچوں کو دروس قرآن اور تجوید القرآن کی تعلیم دی۔ دینیات پڑھائی۔شیعہ سنی اتحاد کی فضاء قائم کی۔سنی شیعہ اتحاد کی راہ ہموار کی۔اہل تشیحوں کا اس شہر میں مقام بنایا۔جو لوگ کل تک شیعہ کو اس شہر میں کافر کہتے تھے آج اس شہر میں ہمیں کافر کہنے والا کوئی نہیں۔ سب کے اذہان بدل دیئے۔ عاشورہ اور بقی کا جلوس نکلوایا۔المہدی سنٹر بنایا۔ آج اہل شیعہ اور مسلمانوں کیلئے تین ملین کی پراپرٹی خریدی۔ تین ملین کی یہ پراپرٹی المہدی فاؤنڈیشن ٹرسٹ کے نام پر ہے۔یہ پراپرٹی میرے بیوی بچوں کے نام نہیں۔ نیویارک میں پاکستانی کمیونٹی نے مجھے انتہائی عزت اور احترام دیا۔ آج میں ان سب ماؤں‘ بہنوں‘ بیٹیوں‘بھائیوں سمیت اہل سنتکے بھی بھائیوں کا بھی شکرگزار ہوں جنہوں نے بے حد عزت دی۔ان کا کہنا تھا کہ میں نے اخلاقی اقدار‘دین اسلا م اور شریعت کا پاس رکھتے ہوئے دین مبین کی خدمت کی اور اتحاد المسلمین کا علم بلند کیا۔ کمیونٹی میں محبت بھائی چارے کی فضاء قائم کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے شخص نے میرے خلاف 23سالوں سے محاذ قائم کر رکھا ہے ایک پیسے والا شخص اسے میرے خلاف لکھوانے کیلئے پیسے فراہم کرتا تھا۔میرے خلاف سوشل میڈیا پر گندی اور غلیظ زبان استعمال کرنے والے کو آج تک کمیونٹی کے کسی فرد نے نماز پڑھتے یا اچھائی کے کسی کام کو کرتے نہیں دیکھا جن کے کہنے پر یہ صاحب میرے خلاف لکھتے رہے۔جب وہ شخص اس دنیا سے کوچ کر گیا یہ اس کی نماز جنازہ میں شرکت کرنے تک کیلئے نہیں آیا۔28صفر کو نکالے گئے جلوس میں اس شخص نے میرےخلاف نفرت آمیز کارروائی کی۔ ورجینیا میں رہنے والے اس شخص نے زین بخاری کو بھی گاڑی خریدنے کیلئے بلیک میل کیا۔آیت اللہ سخاوت کا کہنا تھا کہ آج کے بعد وہ متنبہ کرتے ہیں کہ اگر ان دو افراد یاکسی نے میرے خلاف زبان استعمال کی اور سوشل میڈیا پرمیری کردار کشی کی گئی تو ان کے پاس سب ثبوت موجود ہیں وہ ان ثبوت کی موجودگی میں ان افراد کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے کیلئے تیار ہیں۔

انہوں نے ان دو اشخاص کو 72گھنٹے کی وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ یہ افراد اگر اس دوران باز نہ آئے تو بحیثیت ایک عالم دین جو قدم میں نہیں اٹھانہ چاہتا۔مجھے مجبوراًاپنی ناموس کی خاطر یہ قدم اُٹھاتے ہوئے قانونی چارہ جوئی کرنا پڑے گی۔علامہ سخاوت کا کہنا تھاکہ میں نے آج تک کسی بھی ہم وطن یا غیر وطن کے خلاف اعلی اتھارٹیز کو کبھی بھی شکایت نہیں کی مگر اب انتہائی جھوٹے الزامات وبیانات کی وجہ سے میری صحت بگڑتی جارہی ہے۔میں اب ان افراد کیخلاف قانونی چارہ جوئی کرنے پر مجبور ہو چکا ہوں۔علامہ سخاوت کا کہنا تھا کہ میں نہ گالی دینے کا روادار ہو ں نہ بدزبانی کر سکتا ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پرمیری کردار کشی کرنے والوں کی برین واشنگ سے مجھے کوئی قتل نہ کر دے۔ان کا کہنا تھا کہ یہاں پر ایسے لوگ موجود ہیں جو مسلمانوں کے خلاف نفرت زدہ جرم کرنے کیلئے تیار ہیں۔ اس لیے میں ہیٹ کرائم اورڈیفانیشن کے کیسز کرا رہا ہوں جس سے کسی کی گرفتاری مقصود نہیں۔میں چاہتا ہوں کہ یہ اس غلط فعل سے منع ہو جائیں۔ان کا کہنا تھا کہ 72گھنٹوں میں یہ لوگ معافی نامہ نوٹری پبلک کرا کر سوشل میڈیا پر ڈال دیں میں ان کا انتظار کروں گا۔72گھنٹوں کے بعد جو کیسز ان افراد کے خلاف تیار کرائے ہوئے ہیں ان افراد کو لیگل نوٹسز ملنا شروع ہو جائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ امریکی ریاست‘ورجینیا اور لانگ آئی لینڈ میں رہنے والے ان افراد کے خلاف کیسز دائر کئے جا رہے ہیں۔ریاست میں رہنے والا زیادہ اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ میرے خلاف اگر کوئی ثبوت ان کے پاس ہیں تو میڈیا اور کمیونٹی کے باکردار افراد کی بیٹھک میں میرے خلاف لے آئیں۔اگر ان میں سے ایک الزام بھی سچا ہوا تو امریکہ چھوڑ کر امامت کے عظیم شعبے کو بھی ہمیشہ کیلئے الوداع کہہ دوں گا اور امریکہ واپس نہیں لوٹوں گا۔علامہ سخاوت حسین سندرالوی نے ان تینوں افراد جن کا نام ظاہر نہیں کیا انکو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ انکے خلاف نہ میں نے کبھی بدزبانی کی ہے نہ ان سے میں نے فیور لی ہے ہے نہ کبھی ان کے ساتھ کبھی کوئی تحری کی ہے ہاں اکا دکا میری اپنی تحریریں ہیں جن میں میں نے نصیحت کی ہوئی ہیں – ان تین افراد کے علاوہ بھی کچھ افراد تھے جو اس مسئلے سے ہٹ چکے ہیں مگر میں ان تینوں کو نصیحت کررہا ہوں کہ قبل اس کے کہ ہماری لیگل رائٹس کی جنگ شروع ہو بہتر ہے اس معاملے کو ختم کر دیں -نہ سنیوں کے سامنے ہمارا مذاق اڑے نہ دیوبندیوں کے سامنے‘ نہ کرسچن کے سامنے نہ جیوش کے سامنے‘ نہ ہندوؤں‘دھریوں کے سامنے ہمارا مذاق اڑے- پانچ سال سے ماں بہن بیٹیوں کی گالیاں دی جا رہی ہیں جھوٹے الزامات لگائے جارہے ہیں کہ میری ڈگری جعلی ہے میں آپ کے سامنے سارے ثبوت رکھوں گا میرے پاس چھ ثبوت ہیں جن میں میری فیس کی بینک رسیدیں‘المنائی کے سرٹیفکیٹ‘جیو نیوز‘ چینل 5‘فری لارنس میڈیا کے ساتھ اور دیگر ملکی وغیر ملکی میڈیا کے ذریعے میں نے دنیاکو ثابت کر دیاہے کہ نہ میری ڈگری جعلی ہے نہ میرے کاغذات جعلی ہیں اور اس بلڈنگ میں نہ میرا کوئی بیٹا‘ بیٹی یا اہلیہ ٹرسٹی ہیں نہ یہ میری ذاتی بلڈنگ ہے یا کوئی اس بلڈنگ سے کوئی ذاتی مفاد ہے- نہ آئندہ کوئی ذاتی مفاد حاصل کرنے کا ارادہ ہے نہ اس بلڈنگ سے ادھار لیکر پاکستان میں کوٹھیاں خریدی ہیں نہ کوئی پلاٹ خریدا ہے-شکر اللہ کاکہ پاکستان میں نہ میری کوئی کوٹھی ہے اور نہ ہی کوئی بنک اکاؤنٹ ہے- ایک وقت تھا میرا اکاؤنٹ تھا اور میں امیر تھا تب میری زکوۃبھی نکلاکرتی تھی جس سے حکومت پاکستان میری اداکردہ زکوۃ سے کتنے گھرانے مستفید ہوا کرتے تھے- میں یہاں آج یہ بھی ذکر کردوں میں ایک چھوٹا سازمیندار تھا ہمارے آباؤ اجداد کچھ زمین چھوڑ گئے تھے اور وہ زرعیزمین بھی میں نے اپنے دوبھائیوں اوردو بہنوں کے نام کر دی جس میں سے ایک بہن وفات پا چکی ہیں کیونکہ میں اپنی فیملی سے ذرا مختلف تھا اور دین سے محبت اور تبلیغ میرا مشن تھا -دنیاوی چیزوں سے مجھے کوئی سروکار نہیں تھا اس وجہ سے ساری جائیداد ان کے نام کر دی- میں اپنے بہن بھائیوں کو کبھی کبھار پیسے بھیجتا ہوں جو ذرا مالی طور پر کمزور ہیں ایک بھائی پولیس آفیسر ہے اس کو نہیں بھیجتا البتہ خاندان میں کچھ یتیم بچے اور بچیاں ہیں کبھی کبھار ان کو 500یا 1000روپے بھیج دیتا ہوں -یہ اگر منی لانڈرنگ میں آتا ہے تو حکومت میں میرے خلاف درخواست دی جائے اور اگر یہ خدمت خلق میں آتا ہے تو اس کی جزا اللہ مجھے دے گا

میں یہاں بیٹھ کر دینی اور دنیاوی خدمت کر رہا ہوں کم از کم مجھے گالیاں تو نہ دیں -1996ء سے لے کر آج تک اس سنٹر کی رپورٹ دیکھ لیں اس کاریکارڈ دیکھ لیں – میں نے آج تک کسی کو لیٹر نہیں دیاماسوائے اہل تشیع کے جس پر آج 14000شیعوں نے اسالیم لیاہوا ہے- جب میں آیا تو جوان تھا اب تو میں بوڑھا ہو چکا ہوں ہوں میں تو جدی پشتی حضرت عباس ابن عل کی اولاد ہوں – ان کی آواز ہوں – میں ہاتھ جوڑ کر ان تمام شرپسندوں کو کہوں گا کہ شیعہ پہلے ہی مظلوم قوم ہے اور انکے جو سہولت کار ہیں ان سے بھی کہوں گا کہ میرے پچیس سالہ دور میں کبھی کوئی میرے خلاف ثبوت پیش نہیں کر سکا-اگر آپ کسی کے کہنے پر یہ کام کررہے ہیں تو ان سے کہہ دیں کہ 23سالوں میں اس شخص میں کوئی عیب نہیں نکلا تو اب کیا نکلے گا- میری اب ریٹائرمنٹ کی عمر ہے میں کیا لوٹ مار کروں گا- کبھی مجھے کسی نام سے پکارا جاتااور کبھی کسی نام سے‘کیا یہ سہولت کار نہیں جانتا کہ میں قطب شاہی ہوں جا کر کے پاکستان کے پٹواریوں سے میرا شجرہ نسب چیک کریں -میں ان تمام سہولت کاروں اور شرپسندوں کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ ایک پریس کانفرنس رکھ لیں میں وہاں بھی آ جاتا ہوں بمع ثبوت کے‘میرے پاس وہ تمام سکرین شاٹ بھی ہیں جس میں ان لوگوں نے گندی زبان استعمال کی- مجھے گندے گندے ناموں سے پکارا گیا- جب مجھے میری ماں بیٹی کی گالی دیتے ہیں تو میری مرحومہ بہن میرے سامنے آجاتی ہے اور میری مری ہوئی سفید بالوں والی ماں میرے سامنے آجاتی ہے ان کا کیا قصور ہے جو یہ خبیث لوگ مجھے ماں بہنوں کی گالیاں دیتے ہیں -مجھے افسوس اس بات کا ہوتا ہے میرے ساتھ مقابلہ کریں مجھے فراڈیا کہیں – میر ی مری ہوں ماں بہن کو گالیاں کیوں دی جاتی ہیں مجھے 32سالوں سے آج تک کسی سنی نے گالی نہیں دی – یہ لوگ کیا تماشہ لگاناچاہتے ہیں -میں 1981ء سے حج کررہا ہوں اور اپنی حق حلال کی کمائی سے حج کر رہا ہوں میں نے کبھی کسی حاجی سے ایک پیسہ بھی نہیں لیا اور کبھی حج میں نیابت کے ذریعے کرتا ہوں -نیابت کیا ہے کہ کسی نے کہاکہ میرے مرحوم والد یا والدہ کے نام پر حج کریں جس کا خرچہ وہ حضرات اٹھاتے تھے -ان تمام چیزوں کامیرے پاس الحمد اللہ ریکارڈ موجود ہے-میں آج کہوں گاکہ بیس‘اکیس سالہ میرے دو ر میں کبھی بھی میں نے اپنی ذات کیلئے ادارہ سے پیسہ نہیں لیا‘ میں صرف اتنا کہوں گا کہ ان بیس سالوں میں میں نے کوئی بے قاعدگی کی ہو‘ کسی کی بے عزتی کی ہو‘ میں نے کبھی خمس کھایا ہو- میں نے کبھی کسی سے ڈونیشن لے کر ظاہر نہ کیا ہو- ہمارے سابقہ خزانچی بھی امریکہ میں مقیم ہیں ان کے پاس بھی سارا ریکارڈ ہے ان سے بھی پوچھا جائے‘دیانت پر‘ امانت پر‘ شرافت پرکوئی ماں کا لعل آئے اور آکر اعتراض کرے میں اعتراض کا جواب دینے کیلئے تیار ہوں – ماں بیٹی اور بہن کی گالیاں نہ دی جائیں یہ ان کیلئے بہتر ہو گا-اس موقع پر بین المذاہب امن کمیٹی کے چیئرمین مشتاق احمد کمبوہ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اس سنٹر میں دس سال ہو گئے ہیں آتے ہوئے اور مختلف تقاریب بھی اٹینڈ کی ہیں میں سمجھتا ہوں کہ اتنے بڑے عالم کیساتھ اتنی بڑی زیادتی ناقابل قبول ہے- میں نے ہمیشہ دیکھا اور سنا کہ انہوں نے ہمیشہ محبت کادرس دیا ہے اس سنٹر کے معاملات دیکھ کر میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ جب تک ہم اصل سہولت کاروں کو نہیں پکڑیں گے تب تک نہ کسی مسجد میں نہ کسی مدرسے میں نہ کسی امام بارگاہ میں سکون نہیں ہو گا- یہ لوگ دین میں فساد ڈلوانا چاہتے ہیں ہمیں سب کو مل کر نہ صرف ان کا مقابلہ کرنا ہے بلکہ ان کے مکروہ چہروں کو دنیا کے سامنے بھی لانا ہو گا-رہی بات علامہ سخاوت حسین سندرالوی کی یہ قابل احترام عالم دین ہیں ہمارا پاکستان کاقانون بھی اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ کسی بھی دینی درسگاہ پر بیٹھے ہوئے عالم دین کو برا بھلا کہا جائے

مشتاق احمد کمبوہ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ علامہ سخاوت حسین سندرالوی کی پریس کانفرنس کے حوالے سے کچھ عوامل ایسے ہیں جن کا کام فساد پھیلانا ہے مگر علامہ سخاوت نے بہت رواداری دکھائی ہے اور اپنے دکھ کو دکھانے کے بعد بھی پرچہ کروانے کا نہیں کہا جس سے بہترین محبت اور رواداری کادرس ملتا ہے اور یہ ڈیفامیشن کی طرف جا رہے ہیں یعنی ابھی بھی علامہ صاحب کے دل میں ان لوگوں کی محبت ہے -ویسے بھی قانون کے مطابق کسی بھی مسجد ہو یا مدرسہ یا گرجا گھر یا مندر سب پر فرض ہے کہ وہاں امن برقرار رکھا جائے-اس موقع پر الحاج سید اصغر نقوی نجفی نے پریس کانفرنس کے شرکاء سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ علامہ سخاوت وہ عالم دین ہیں جنہوں نے سنی شیعہ کو بھائی بھائی بنا دیا ہے- عالم دین کا مطلب ہے کہ اللہ کے قرآن کی تفسیر جانتا ہو- عالم دین کا ایک علاقے میں آجانا رحمت کاباعث ہے اور ایک عالم دین کا اٹھ جاناپوری دنیاکیلئے موت ہے-الحاج سید اصغر نقوی نجفی نے اپنے بیان میں شرکاء پریس کانفرنس اور میڈیا سے بات کرتے ہوئے فرمایاکہ آج جو لوگ آیت اللہ سخاوت حسین سندرالوی کے خلاف زبان درازی کررہے ہیں میں ان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ ان لوگوں نے اس مدرسے کیلئے کیا کیا ہے-جولوگ اس سنٹر کیخلاف کمپین کررہے ہیں انکی کوئی ذاتی حیثیت ہے دین میں نہ ہی کمیونٹی میں اور نہ ہی انسانیت میں تینوں جگہ پر‘ نہ ہی ان لوگوں کی علمی حقیقت ہے اور نہ ہی فنانشلی حقیقت ہے- ہم نے آج تک اس سنٹر میں اپنے استاد محترم کے سامنے اپنی زبان کھولی ہو یا ان کے بغیر کسی نے ہماری بے عزتی کی ہو اور ہم نے زبان کھولی ہو- یہاں اس وقت تمام میڈیا کے نمائندے موجود ہیں آپ بتائیں کہ ان افراد نے کبھی ایک ڈالر بھی راہ خدا میں خرچ کیا ہو – اس سنٹر کی مجھے کوئی رسید دکھا دیں

آیت اللہ سخاوت حسین سندرالوی اعلی تعلیم یافتہ انسان ہیں میں یونیورسٹیوں سے پڑھ کر اپنی آخری کتاب کفایہ مقاصدان ہی کے ساتھ پڑھی- مجھے مشتہدین نے کہا کہ نیویارک میں اتنا بڑا امام بیٹھا ہوا ہے وہاں رہیں بھی اور ان سے پڑھیں بھی -جنہوں نے یہ سنٹر کھولا فلاڈیلفیا میں سنٹر کھولا‘نیو جرسی میں سنٹر کھولا‘ کینیڈا میں سنٹر کھولا‘ پاکستان میں سنٹر ہیں – ان کے یتیم خانے ہیں یہ بیواوؤں کیلئے کام کررہے ہیں مجھے بتائیں یہ کیا کررہے ہیں‘ کوئی ایک بات تو ہمیں بتائیں – سوائے گالم گلوج کے – جب زیادہ جہالت ہو‘ غصہ وہ کرتے ہیں جن کے پاس علمی حیثیت نہیں ہوتی وہ ہی لوگ گندی زبان استعمال کرتے ہیں انکی جانوروں کی باتیں ہوتی ہیں – مجھے یہ بتایا جائے کہ مولانانے آج تک کسی کو گالی دی- ہم گواہ ہیں کہ جب سے یہ کمیونٹی میں آئے ہیں انہوں نے مومنین کو اکٹھا کر کے سنی شیعہ کو بھائی بھائی بنا دیاہے- میں ان سے کہتاہوں کہ میڈیا کے سامنے آئیں – سوال استاد محترم کریں گے آپ جواب دیدیں ہم آپ کے سامنے عمامے اتار کر رکھ دیں گے- نہ یہ نماز پڑھتے ہیں نہ ان کو قرآن آتا ہے یہ صرف حسد کی آگ میں جل رہے ہیں یا کسی کے ایجنٹ بنے ہوئے ہیں -رزاق گجر نے اس موقع پر کہا کہ میں اس سنٹر میں عرصہ بیس سال سے آرہا ہوں اور ہم نے عالم قبلہ سخاوت صاحب کے منہ سے یہی ہمیشہ سنا کہ انہوں نے کہا کہ گالی یزید کو بھی نہ دینا اور مجھے سعادت حاصل ہے کہ میں قبلہ کے ساتھ پانچ مرتبہ حج پر گیا اور میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ قبلہ سخاوت حسین سندرالوی بوڑھے حاجیوں کا سامان خود اٹھاتے تھے اور وہاں ان کی زندگی کو دیکھ کر ہمیں اصل دین کی سمجھ آئی اور جو شخص گالی کو ناپسند کرتا ہے چند شرپسند عناصر ان کو گالیاں دے رہے ہیں یہ لوگ ایجنٹ ہیں اور لگتاہے یہ لوگ کسی دشمن ممالک کے ایجنڈے پر چل رہے ہیں اور ان سے شائد پیسہ لے رہے ہیں – میں یہی کہوں گاکہ تمام علماء کی عزت کرو بلکہ ہر انسان کا احترام کرو ورنہ ایسے افراد امریکہ کی ایسی جیلوں میں جائیں گے اور ان کی نسلیں بھی ان کو چھڑا نہیں پائیں گی


Leave a Reply

Your email address will not be published.